Ads

Showing posts with label Columns & Articles. Show all posts
Showing posts with label Columns & Articles. Show all posts

Thursday, June 3, 2021

چین کی بحری تجارت کےماڈل کےموجد محمود شمس (زنگ خا) کون تھے؟

چین کی بحری تجارت کےماڈل کےموجد محمود شمس (زنگ خا) کون تھے؟

چین نے جنوب مشرقی ایشیا، بحرِ ہند، (گوادر، سی  پیک)، بحیرہ عرب، خلیج فارس، بحیرہِ احمر اور مشرق وسطیٰ کی دیگر بندرگاہوں کو جدید بنانے کا عمل کافی عرصے سے شروع کیا ہوا ہے اور وہ اسے ’تجارتی اور اقتصادی ترقی کا بنیادی انفراسٹرکچر‘ کہتا ہے مگر چین کے مخالف ممالک چین کی اس پالیسی کو فوجی قوت اور سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کی ایک حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں

مگر چین کا ہمیشہ اصرار رہا ہے کہ اُس کے سڑکوں، ریلوے لائنوں اور بندرگاہوں جیسے بڑے منصوبوں کی تعمیر تجارتی اور اقتصادی مقاصد کے لیے ہے نہ کہ دیگر قوموں کو محکوم بنانے کے لیے۔

جب چین نے اپنے کھربوں ڈالر کے تعمیراتی منصوبوں کا آغاز کیا تھا تو چین کی قیادت نے بندرگاہوں اور سمندر کے راستے سے تجارت کے لیے جو ماڈل پیش کیا تھا وہ 15ویں صدی کے چینی مسلمان ایڈمرل ژنگ خہ کا تیار کردہ تھا۔ ایڈمرل ژنگ نے اُس دور میں دنیا کی سب سے بڑی بحری قوت تیار کی تھی لیکن اس کی مدد سے کسی بھی ملک کو زیرِ نگیں نہیں بنایا تھا۔ ماہرین اُن کی اس پالیسی کو اشتراک اور تعاون کی پالیسی قرار دیتے ہیں۔

ایڈمرل ژنگ خہ  کون تھا اور اسکا پس منظر کیا تھا

ژنگ خہ یا ماہو کہلائے جانے والے اس بچے کا مسلمان نام محمود شمس تھا۔ بعض کتابوں میں ان کا نام محمد بھی لکھا گیا ہے۔ ان کے والد کا نام میر تکین اور دادا کا نام خرم الدین بتایا جاتا ہے۔ ان کے پڑدادا کے دادا کا نام سید اجّل شمس الدین تھا (بعض تاریخی ذرائع میں سید اجّل شمس الدین عمر بھی لکھا گیا ہے)۔ سید اجّل کا تعلق وسطی ایشیا کے شہر بخارا سے تھا اور انھیں منگول حکمران قبلائی خان نے گورنر نامزد کر کے یوحنان بھیجا تھا۔تاریخ میں آج ژنگ خہ کہلانے والے چینی ایڈمرل یوحنّان نامی علاقے میں سنہ 1371 میں چین کی مسلمان برادری ’ہوئی‘ میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ مسلم برادری آج بھی چین میں ’ہوئی‘ کے نام سے پہچانی جاتی ہے اور یہ وہ مسلمان تھے جو وسطی ایشیا کے مختلف خطوں سے چین میں یا تو خود سے پناہ لینے پہنچے تھے یا منگولوں کے ہمراہ حملہ آور بن کر آئے تھے۔


ژنگ خہ کا جنم اس دور میں ہوا تھا جب منگولوں کو مقامی مِنگ خاندان کے ہاتھوں شکست کا سامنا تھا۔ ژنگ خہ کا خاندان منگولوں کے لیے لڑا تھا۔ زنگ خہ کی عمر اس وقت 10 برس تھی جب مِنگ آرمی باغیوں کو ڈھونڈتی ہوئی اُن کے علاقے تک پہنچی۔ زنگ خہ کا خاندان مارا گیا مگر انھیں زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا۔

ژنگ کے ساتھ بھی وہی کیا گیا جو اُس دور میں کم عمر مرد قیدیوں کے ساتھ کیا جاتا تھا، یعنی اُن کی جنسی صلاحیت ختم کر دی گئی۔ننجینگ یونیورسٹی کے پروفیسر لوئی ینگ شینگ کہتے ہیں کہ ژنگ خہ کی زندگی کے اس پہلو کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔اسی بچے نے بعد میں چین کی عظیم الشان بحریہ کا سربراہ بن کر انڈیا، خلیجِ فارس اور افریقہ تک اپنے وقت کے سب سے بڑے بحری بیڑے پر تجارتی، سفارتی اور ثقافتی نوعیت کے سات سفر کیے۔

13ویں صدی تک چین کے بیشتر حصوں پر منگولوں کا قبضہ تھا۔ وقت کے ساتھ جب منگولوں کی بد نظمی، بدعنوانی اور زیادتیاں بڑھنا شروع ہوئیں تو چین کی مقامی قوم حاننی (ہنز) کے ساتھ امتیازی سلوک کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا۔

ان حالات میں مِنگ خاندان کے کسانوں نے منگول حکمرانوں کے خلاف بغاوت کر دی اور چین کے اِس حصے پر قبضہ کر لیا۔ ان کی بغاوت اس لیے کامیاب ہوئی کیونکہ اُس وقت چین کے اس خطے میں فصلیں تباہ ہوئی تھیں اور قحط پیدا ہو گیا تھا۔مِنگ خاندان کے کسان جنگجو ’ہونگ وُو‘ نے 1368 میں منگولوں کے حمایت یافتہ یوآن خاندان کی بادشاہت کا خاتمہ کر کے اپنی بادشاہت قائم کر لی۔ ہونگ وُو پیشے کے لحاظ سے ایک کسان تھے۔ یوآن خاندان کے زمانے کے کئی تاجر اور علما نے نئے خاندان کی حکومت سے تعاون کیا جن میں مسلمان ماہرین بھی شامل تھے جو چین کے اس خطے میں آباد ہو چکے تھے۔

برمنگھم یونیورسٹی کے قدیم چینی تاریخ کے پروفیسر یوہانس لوٹزے اپنی ایک تصنیف میں 1368 سے 1453 کے دور کے حالات پر کی جانے والی تحقیق میں بتاتے ہیں کہ ہونگ وُو کے جرنیلوں میں دس مسلمان بھی تھے۔بعض تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ مِنگ خاندان کا پہلا شہنشاہ خفیہ طور پر مسلمان تھا تاہم کئی مؤرخین نے اس بات کو مسترد کیا ہے۔ ہنگ وُو کی ایک بیوی مسلمان تھی جبکہ اس نے اپنی ایک بیٹی وسطی ایشیا کے (بعض روایات کے مطابق سمرقند) کے علم الافلاک کے ماہر محمد شیحی سے بیاہی تھی۔لیکن مِنگ خاندان کو کچھ مسلمان جرنیل اور علما تو سابق حکمران خاندان یوآن کے ترکے میں ملے تھے اور کچھ انھوں نے خود بھرتی کیے۔

ہونگ وو کا انتقال سنہ 1398 میں ہوا لیکن اُس کی وصیت کے مطابق اُس کا جانشین اُس کے پوتے جیان وین کو بنایا گیا۔ تاہم جلد ہی وہ نااہل ثابت ہوا اور اس کی گرفت کمزور پڑنے لگی۔ اُس نے کنفیوشسزم کے حامی درباریوں کے ذریعے اپنی طاقت بحال کرنے کی کوشش کی لیکن اُس کے چچا ژو ڈی نے اُس کے خلاف بغاوت کر دی۔بغاوت میں اُس کے مسلمان سپاہی اور جرنیل دلیری سے اُس کے لیے لڑے اور بالآخر وہ کامیاب ہوا اور یونگ لی کے لقب کے ساتھ وہ شہنشاہ بن گیا۔ اور یہاں سے ایڈمرل ژنگ خہ کی عظمت کی کہانی شروع ہوتی ہے۔

جب 10 برس کی عمر میں یوحنّان میں ژنگ خہ کو جنسی صلاحیت سے محروم کیا گیا تو اُسے ژو ڈی کے حرم خانے میں ایک ملازم کے طور پر رکھا گیا تھا۔ تاہم ژو ڈی کے ہاں کام کرنے کی وجہ سے زنگ خہ کو بہتر تعلیم و تربیت، انتظامی امور کی سمجھ اور فنِ سپاہ گری سیکھنے کا اچھا موقع ملا۔ وہ تیزی سے ترقی پاتا ہوا ایک گھریلو ملازم سے آج کے عہدے کے لحاظ سے ژو ڈی کا (جو ابھی شہنشاہ نہیں بنا تھا) چیف آف سٹاف بن چکا تھا۔یعنی ژنگ خہ مِنگ خاندان کے تیسرے شہنشاہ ژو ڈی یا یونگ لی کے بادشاہ بننے سے پہلے ہی سے اُس کے معتمدِ خاص بن چکے تھے۔ یونگ لی کی اپنے بھتیجے شہنشاہ جیان وین کے خلاف بغاوت کے وقت ماہو نے اپنی دلیری کے جوہر دکھائے تھے اس پر نئے شہنشاہ نے اُسے ’ژنگ خہ‘ کا لقب دیا تھا۔

زنگ خہ نے بچپن میں اپنے والد اور دادا سے ان کے حج کے سفر کے قصے سُنے تھے۔ اس لیے اُسے حج کی کہانیاں متاثر کرتی تھیں۔ اُس زمانے کے ’ہوئی‘ مسلمانوں کی روایات کے مطابق وہ چینی زبان کے علاوہ عربی اور فارسی زبانوں کا بھی علم رکھتا تھا۔ ژنگ خہ نے شاہی تعلیمی ادارے ’نانجینگ ٹائیگژو‘ سے تعلیم حاصل کی تھی۔

شہنشاہ یونگ لی نے ایڈمرل ژنگ خہ کو ایک بہت بڑے بحری بیڑے کے ساتھ روانہ کیا تھا۔ سنہ 1405 میں جب ژنگ خہ نے پہلا بحری سفر کیا تھا تو اُس کے پاس 317 بحری جہاز تھے اور اس کے ساتھ سفارتی، فوجی، تجارتی اور دیگر خدمات کے لیے افرادی قوت تقریباً 28 ہزار کے لگ بھگ تھی۔

ژنگ خہ کے اپنے مرکزی جہاز پر بادبانوں کو سہارا دینے کےلیےنو مستول لگے ہوئے تھے۔ بحری سفر کے دوران اتنی بڑی تعداد کا انتظام اتنی باریکی کےساتھ منظم کیا جاتا تھا کہ ایک بھی جہاز دوسرے سےٹکراتا نہیں تھا۔ یہ بحری جہاز ایک بیضوی شکل میں حرکت کرتےتھے۔بڑے سائزکےجہازمرکز میں ہوتےتھےاورچھوٹےجہازباہرکےدائرے کی جانب ہوتےتھے۔

چونکہ ژنگ خہ مسلمان تھا اور چین کی مغربی دنیا سے بہت زیادہ واقف تھا اور اُسے کئی ایک ایرانی اور عرب تاجروں کی خدمات بھی حاصل تھیں، اس وجہ سے شہنشاہ کا اُسے اس بڑے مشن کی ذمہ داری دینا ایک قدرتی امر تھا۔ اُس نے بحری راستوں کا بہت گہرا مطالعہ کیا، علم الافلاک کے ماہرین کے ذریعے سمندر کے راستوں کو سمجھنے کا علم بھی حاصل کیا، اس علم میں مسلمان پہلے ہی کمال حاصل کر چکے تھے۔ بحری جہازوں کی تعمیر کے لیے شپ بلڈنگ کی صنعت کو اپنی زیرِ نگرانی تعمیر کرایا۔ مقناطیسی قطب نما بھی بنوایا جو ک اُس وقت ایک جدید ٹیکنالوجی تھی۔ کئی کئی مستولوں کے جہاز بنائے گئِے۔

ژنگ خہ کے بحری بیڑے کے باقی جہازوں میں، جو کہ سینکڑوں کی تعداد میں تھے، ہزاروں کی تعداد کے عملے کی غذا، پانی، خدمت گزاروں کا عملہ، گھوڑے، توپ و تفنگ، ریشم اور دیگر قیمتی پارچاجات، چینی مٹی کے قیمتی برتن، سنہری روغن، لاکھ اور شراب سے بنے ہُوئے برتن، چائے، کالی مرچیں، سونا چاندی، لوہے سے تیار کرہ اشیا تھیں جو کہ دور دراز ممالک کے حکمرانوں کو تحفے میں دی جاتی تھیں۔یہ تحفے برونائی، انڈونیشا، جاوا، سماٹرا، ملاکا کے سلطانوں، ویت نام، بنگال، اور سری لنکا کے راجاؤں، انڈیا کی معروف بندرگاہوں، کالی کٹ، کوچن اور مالابار کے حکمرانوں، خلیج فارس کے منہ پر ہُرمُز نامی بندرگاہ کے حکمرانوں، یہاں تک کے بندرگاہوں سے دور ایران کے مختلف علاقوں کے حکمرانوں، ترکی کی ابھرتی ہوئی عثمانیہ سلطنت کے عہدیداروں، یمن کے علاقے میں حضرموت اور عدن کی بندرگاہوں کی مقامی حکومتوں، موغادیشو، موزمبیق، مالدیپ کے حکمرانوں کو دیے گئے۔ غرض کے بحرِ ہند کی کوئی ساحلی حکومت ایسی نہیں تھی جس سے ژنگ خہ نے براہِ راست خود یا اُس کے بیڑے کے کس اعلیٰ اہلکار نے رابطہ نہ کیا ہو۔

بعض مؤرخین نے ژنگ خہ کے جہازوں کا جدہ تک جانے کا ذکر کیا ہے جہاں ژنگ خہ اور اُس کے ساتھی مکہ و مدینہ تک پہنچے ہیں۔ مؤرخین کا اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا اُنھوں نے حج کیا تھا یا نہیں۔ تاہم اگر حالات اور ژنگ خہ کی اپنی زندگی کا اندازہ لگایا جائے تو کوئی سبب نہیں ملتا ہے کہ وہ مکہ اور مدینہ جائیں اور عمرہ یا حج نہ کریں۔وہ تو بچپن سے اپنے باپ اور دادا سے حج کی کہانیاں سنتا تھا جنھوں نے، بقول مؤرخین، اُس کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا تھا

1424 میں شہنشاہ یونگ لی کا انتقال ہو گیا تھا اور نیا بادشاہ ایک برس بعد ہی انتقال کر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یونگ لی کا پوتا بادشاہ بنا تو اُس کی بحری مہمات میں دلچسپی نہیں تھی۔ اس نے ژنگ خہ کو ساتویں اور آخری بحری مہم کے لیے چھٹی مہم کے دس برس بعد اجازت دی۔ ساتویں مہم کا 1431 میں آغاز ہوا اور یہ سنہ 1433 میں مکمل ہوئی۔کہا جاتا ہے کہ 62 برس کی عمر میں ژنگ خہ کا اس ساتویں مہم سے واپسی کے دوران بحری جہاز پر ہی انتقال ہو گیا تھا۔ ژنگ خہ کی قبر اُس وقت کے چینی دارالحکومت نانجِنگ میں بنائی گئی تھی جو آج بھی موجود ہے۔

؎چین میں ژنگ خہ کو تقریباً بھلا دیا گیا تھا۔ لیکن بیرون ممالک رہنے والی چینی کمیونیٹیز نے اُس کی یاد کو پھر سے زندہ کیا ہے، جس کی خاص وجہ جنوبی مشرقی چین کی بندرگاہیں ہیں جہاں اُس نے کبھی اپنے سفر کے دوران کئی یادگاریں چھوڑی تھیں۔ ان بندرگاہوں میں سے چند پر اُس نے لاٹیں (پتھر کے کتبے) تعمیر یا نصب کروائی تھیں جن پر مِنگ خاندان کے بادشاہ کے اُن ممالک کے لیے خیر سگالی کے پیغامات کُندہ کیے گئے تھے۔اُن ہی لاٹوں میں سے ایک سری لنکا کی ایک بندرگاہ گیل سے سنہ 1911 میں کھدائی کے دوران دریافت ہوئی تھی جو آج بھی وہاں کے مقامی میوزیم میں محفوظ ہے۔ یہ لاٹ یا پتھر کی سِل پر کندہ کیا گیا کتبہ تین زبانوں میں مِنگ شہنشاہ یونگ لی کے پیغام پر مشتمل ہے۔

مِنگ خاندان کی حکومت نے ژنگ خہ کے بحری تجارتی مہمات کی وجہ سے کافی منافع بھی کمایا تھا جس کی وجہ سے شہنشاہ کو اتنے مالی وسائل حاصل ہو گئے کہ اُس نے ’ممنوعہ شہر‘ کی تعمیر کا حکم دیا۔ یہ وہی ممنوعہ شہر ہے جو بعد میں بیجنگ کے نام سے مشہور ہوا اور اب چین کا دارالحکومت ہے۔

انہی مہمات سے حاصل ہونے والے مالی وسائل کی وجہ سے چین میں ایک بڑی نہر بھی کھودی گئی جس کا زرعی اور تجارتی فائدہ ہوا۔ مؤرخین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ دو بڑی تعمیرات ژنگ خہ کی مہمات کے بغیر ممکن نہیں تھیں۔

تاریخ میں کئی بارایسا ہوا ہےکہ کامیابیاں شدت کےساتھ حسد کےجذبات بھی پیدا کردیتی ہیں، شاید ایسا ہی ژنگ خہ کے ساتھ ہوا۔

شہنشاہ یونگ لی کے 1424 میں انتقال کے بعد اُس کا بیٹا ہونگژو بادشاہ بنا۔ لیکن وہ اس کے بعد صرف ایک برس زندہ رہا۔ 1425 میں ہونگژو کا بیٹا ژوانڈو بادشاہ بنا۔ ژوانڈو 1435 تک بادشاہ رہا اور مجموعی طور پر ایک کامیاب بادشاہ نہیں تھا۔ سنہ 1433 میں وہ اس آخری مہم کے بعد 317 جہازوں پر مشتمل بحری بیڑے کو جلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ مؤرخین کے پاس اِس دور کی بہت کم معلومات ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ اتنی سرمایہ کاری کے بعد مِنگ خاندان کے چین نے بحری مہمات کا خاتمہ کیوں کیا؟

*************

Monday, August 19, 2019

حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی = چھٹہ اورآخری حصہ

<حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی<چھٹہ اورآخری حصہ

نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئیوں کا خلاصہ
حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی کے قصیدے کے اشعار کی تعداد بعض حوالوں سے دوہزار کے قریب بتائی جاتی ہے، لیکن ہمیں ان کے قریبا ٣٥٠ اشعار دستیاب ہو سکے ہیں۔ جن میں سے ہم نے ایسے چیدہ چیدہ اشعار کو منتخب کیا کیا ہے جو ٨٥٠ سال قبل سے لے کر آج تک اور پھر مستقبل میں قرب قیامت تک انتہائی اہمیت کے تاریخی واقعات کو صاف ، واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے امیر تیمور کے بعد لودھی خاندان کے بادشاہ سکندر لودھی اور ابراہیم لودھی کے دور حکومت کا ذکر کیا ہے۔ اور پھر بابر سے لیکر خاندان مغلیہ کے ٣٠٠ سالہ دور حکومت کے تمام حکمرانوں کے نام اور ان کی مدت حکمرانی اپنے پیشن گوئی قصیدے کے اشعار میں ترتیب وار بیان کی ہے اس کے علاوہ انہوں نے بابر ہی کے دور میں سکھوں کے پیشوا گرونانک کا ذکر بھی کیا ہے جو ١٤٤١ء میں پیدا ہوئے اور ١٥٣٨ء میں وفات پا گئے۔ بابر کے بعد شیر شاہ سُوری کے ہاتھوں ہمایوں کی شکست اور سوری خاندان کا ذکر بھی پوری سند کے ساتھ موجود ہے۔
وہ جنگ عظیم اول کی مدت اور اس میں ایک کروڑ ٣١ لاکھ لوگوں کی ہلاکت کی پیشن گوئی کے علاوہ ٢١ سال بعد جنگ عظیم دوئم کا ذکر بھی اپنی پیشنگوئی میں٨٠٠ سال قبل کر چکے ہیں۔ تمام ہندوستان پر ١٠٠ سال کی حکومت کے بعد انگریزوں کے چلے جانے کا واقعہ الگ بیان کر چکے ہیں۔ انگریزوں ہی کے دور حکومت میں مہلک جنگی ہتھیاروں اور مشرق میں بیٹھ کر مغرب سے آنے والی آوازوں اور نغموں کو سننے کے سائنسی آلات اور ایجادات کا نصف ہزار سال قبل پیشن گوئی کرنا ایک الگ اور حیران کن کرامت ہے۔ متحدہ ہندوستان کا دو حصوں میں تقسیم ہونے کا ذکر بھی وہ قیام پاکستان سے ٨٠٠ سال پہلے کر چکے ہیں۔ وہ ستمبر ١٩٦٥ء کی پاک بھارت جنگ کا دورانیہ بھی ”ایام ہفدہ“ (سترہ دن) کے فارسی الفاظ میں بیان کر کے انسان کو انگشت بد نداں کردیتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی قیام پاکستان کے ”بست و سہ ادور“ یعنی ٢٣ سال بعد دوبارہ بھارت کے ساتھ ١٩٧١ء کی جنگ میں مسلمانوں کی خونریزی اور تباہی و بربادی کی داستان المناک نہایت سوز و گداز کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ کیونکہ اسی ظلم و بربریت کے سائے تلے پاکستان دو لخت ہوا ۔ توفیق الہٰی سے غیب کے پردوں میں جھانکنے والے یہ ولی اللہ ماضی قریب، حال اور مستقبل میں کثیر الجہت سماجی اور معاشی برائیوں، سود، رشوت، بدعت، شراب خوری، عصمت فروشی، فسق و فجور، اغلام بازی اور مادر پدر آزاد جنسی سیاہ کاری، علماء اور مفتیان کی جہالت اور ریا کاریوں کا تذکرہ آزادنہ اور بے باکانہ طور سے کرتے ہیں۔ زمانہ حال میں مسلمانوں کے ہاتھ کام چلانے والے آدمیوں کا آنا تو ایک نیک بشارت ہے لیکن دوسری جانب قاضی یعنی جج کی لڑائی اور عدلیہ کی رشوت خوری اور پھر ”چور“ اور ”ڈاکوؤں“ کے سر پر دستار فضیلت رکھنا اور اپنے پر فریب نعروں سے عوام کو بے وقوف بنانا ، پیشن گوئی قصیدے کے ایسے پرُ معنی اور بھیانک حقائق ہیں جو آج سب کے سامنے ہیں۔

حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی ٨٥٠ سالہ پیشنگوئی میں اب تک ماضی اور زمانہ حال کے واقعات کے بارے جو کچھ گزرا، سو گزرا۔ لیکن اب مستقبل کے بارے میں ان کی پیشنگوئی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ وہ مستقبل میں ایک خلفشار کے وقت بت پرست ہندوؤں کا کلمہ گو مسلمانوں پر ظلم و جبر کا ذکر کرتے ہیں جس پر مسلمان صبر سے کام لینگے۔ اگلے مرحلے میں اعراب پہاڑوں، بیابانوں اور صحراؤں سے مدد کیلئے نکل آئیں گے۔ جبکہ چترال، نانگا پربت، چین کے ساتھ گلگت اور تبت کا علاقہ میدان جنگ بن جائے گا۔ اب حضرت نعمت اللہ شاہ ولی اپنی پراسرار پیشنگوئی میں نہایت سخت اورسنگین اور خونیں منظر پیش کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس دوران دریائے اٹک (دریائے سندھ) کفار کے خون سے تین مرتبہ بھر کر جاری ہو گا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہندوستانی فوج پاکستانی سرحد کراس کر کے آزاد کشمیر کی طرف پیش قدمی کرے گی یا قراقرم کی شاہراہ کاٹ کر کہ چین کی طرف سے پاکستان کو مدد نہ پہنچ سکے، آگے پیش قدمی کرتے ہوئے دریائے اٹک (دریائے سندھ) کے پل یا تربیلا ڈیم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گی یا تیسری حالت یہ کہ وہ لاہور یا ماضی کی طرح سیالکوٹ کے راستے نیشنل ہائی وے پر کنٹرول حاصل کر کے دریائے اٹک تک پہنچ جائے گی!!
یہ سوال ذہن میں اس لئے ابھرتا ہے کہ کفار (اغلباً بھارتی فوج) دریائے اٹک تک پہنچے گی جبھی تو ”کفار کے خون“ سے دریائے اٹک تین مرتبہ بھر کر جاری ہو گا کہ شاید یہاں دشمن کی فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔ ایسے میں غالب قیاس یہ ہے کہ بھارت کی فوجی اسٹریٹیجی یہ ہو گی کہ وہ واہگہ اور چند دیگر محاذوں پر جنگ جاری رکھنے کے علاوہ وہ دریائے اٹک (سندھ) عبور کر کے پشاور کے راستے آگے پیش قدمی کرتے ہوئے افغانستان میں داخل ہو کر شمال مغرب کی جانب کسی ایک نوآزاد جمہوری ریاست کے ذریعے روس تک رسائی حاصل کرنا چاہے گا۔ تاکہ پاکستان اور چین کے باہمی گٹھ جوڑ کی طرح وہ بھی روس کے ساتھ جغرافیائی طور پر براہ راست منسلک ہو سکے۔

پچھلے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے پیشنگوئی کے اشعار کے مطابق کم و بیش انہی ایام میں کابل(افغانستان) کے لوگ ”کفار کے قتل“ کے لئے نکل آئیں گے۔ جبکہ پیشنگوئی کا ایک اگلا شعر مجاہدانہ جذبے کا نکتہ عروج ظاہر کرتا ہے :

از غازیانِ سرحد لرزد زمیں چوں مرقد
بہر حصول مقصد آیند والہانہ​
ترجمہ: سرحد کے غازیوں سے زمین مرقد کی طرح لرزے گی۔ وہ مقصد کو حاصل کرنے کے لئے دیوانہ وار آئیں گے۔ (اللہ اکبر) دوسری جانب ترکی ، چین،ایران،عرب اور مشرق وسطیٰ کے مسلمان والہانہ جذبے کے ساتھ یکجا ہو کر پنجاب، شہر لاہور(جو غالبا ہاتھ سے نکل چکا ہو گا) کشمیر، دریائے گنگا اور دریائے جمنا کے درمیان دوآب کا علاقہ اور شہر بجنور پر غالبانہ قبضہ کر لیں گے۔ نہ صرف یہ بلکہ دین اور ایمان کے بدخواہ لوگ جان سے مارے جائیں گے اور تمام ہندوستان(حکومت) ہندوانہ رسم و رواج سے پاک ہو جائے گا۔ کافر مغلوب ہو جائیں گے۔ انشااللہ
اسی دوران ہندوستان کی طرح مغرب یعنی یورپ کی تقدیر بھی خراب ہو جائیگی اور تیسری جنگ عظیم شروع ہو جائے گی۔ اس میں دو الف یعنی امریکہ اور انگلستان میں ایک الف (غالباً انگلستان) روس کے حملے سے ایسا تباہ ہو جائے گا کہ اس کا ایک نقطہ بھی باقی نہ رہے گا۔ بلکہ اس کا نام اور تذکرہ صرف تاریخ کی کتابوں میں ہی باقی رہ جائے گا۔
اس پیشنگوئی میں اسلام کی تین اہم شخصیات شیر علی شاہ، عبدالحمید اور حبیب اللہ کے(قیاس کردہ) نام بھی آتے ہیں، جو شاید مستقبل میں ظاہر ہوں۔ اسکے علاوہ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے ”مے بینم“ کی ردیف میں ایران کے بارے پیشنگوئی کے الف قریبا ً ١٠٥ اشعار لکھے ہیں جن میں مستقبل میں ظاہر ہونے والے بہت سے واقعات، بادشاہوں اور حکمرانوں کے نام اور ان کی مدت حکمرانی کا ذکر موجود ہے۔ لیکن فی الحال اس کتاب میں وہ اشعار شامل نہیں کئے گئے۔
یہ امر بھی بصد افسوس جاننا چاہئے کہ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کشمیری نے کشمیر ہی میں وصال فرمایا لیکن کسی کو ان کی قبر کے بارے کوئی مصدقہ معلومات حاصل نہیں۔ گویا کم و بیش ایک ہزار سال پر محیط اس شہرہ آفاق پیشنگوئی کرنیوالے درویش باکمال نے اپنے مرقد کی نشاندہی کے بارے کوئی پیشنگوئی نہیں کی، اس میں شاید اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت پوشیدہ تھی جس نے اپنے اس برگزیدہ بندے کو دنیا کی نظروں سے مخفی رکھا۔

بقول اقبالٌ: ” آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے“۔
حضرت نعمت اللہ شاہ ولیٌ کی اس منفرد پیشنگوئی کو اپنے اختتام کی طرف لے جاتے ہوئے یہ جاننا چاہیے کہ ہندوستان پر اسلام کا غلبہ ٤٠ سال تک قائم رہے گا۔​
لیکن اس کے بعد جیسے ہر مسلمان قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، قرب قیامت کی انتہائی قریبی نشانیوں کا ظہور شروع ہو جائے گا۔ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کے مطابق ایران کے شہر اصفہان سے دجال لعین ظاہر ہو گا۔ اچانک حج کے دنوں میں امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو گا۔ ان کے ظاہر ہونے کی شہرت دنیا بھر میں پھیل جائے گی۔ ادھر دجال لعین کو قتل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اُتر آئیں گے۔


حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی = پانچواں حصہ

<حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی < پانچواں حصہ 

حال کے حوالے سے کی گئی  پیشنگوئی
اب ماضی کی پیشنگوئی کو خیر باد کہتے ہوئے ہم پہلے ''حال '' کے ایسے تین اشعار بیان کرتے ہیں جو غالبا موجودہ دور سے متعلق معلوم ہوتے ہیں اور جن میں لفظ ''قاضی'' (جج)، ''جنگ قاضی''، ''شکاری'' ، ''سگ'' (کُتا) ، ''رشوت اور مسند جہالت'' کے پر معنی الفاظ بے دریغ استعمال ہوئے ہیں۔

''جنگ قاضی'' یعنی قاضی یا ''جج کی لڑائی'' کے الفاظ بلاشبہ موجودہ عدلیہ کے بحران ہی کو ظاہر کر رہے ہیں۔ چنانچہ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی فرماتے ہیں۔
در مومناں نزارے، در جنگ قاضی آرے
چوں سگ پئے شکاری، گردد بسے بہانہ​
ترجمہ: قاضی کی لڑائی میں کمزور مسلمان شکاری کے پیچھے کتے کی طرح بہانہ سازی کریں گے۔
بینی تو قاضیاں را بر مسند جہالت
گیرند رشوت از خلق علامہ با بہانہ​
ترجمہ: قاضیان یعنی ججوں کوتوجہالت کی مسندپردیکھےگا۔بڑےبڑےعلم والےلوگ بہانہ سےلوگوں سےرشوت لیں گے۔
گردانگ از بہ رشوت در چنگ قاضی آری
چوں سگ پئے شکاری، قاضی کند بہانہ​
ترجمہ: اگرتوقاضی (جج) کی مُٹھی میں چاندی کےچندسکہ دے دے گا تو قاضی شکاری کتےکیطرح بہانہ سازی کرے گا۔
تشریح: چونکہ مندرجہ بالا تینوں اشعار میں لفظ ''بہانہ'' قافیہ میں استعمال ہوا ہے۔ لہذٰا اس بہانہ کا مفہوم قانون کی غلط اور من مانی توضیح و تشریح بھی مراد لی جا سکتی ہے۔
از اہل حق نہ بینی در آں زماں کسے را
دزدان و رہزنے را بر سر نہند عمامہ​
ترجمہ: تو اس وقت کسی کو اہل حق نہ دیکھے گا۔ لوگ ''چور'' اور ''ڈاکوؤں'' کے سر پر دستار رکھیں گے۔
تشریح: یہ شعر بھی حال یعنی موجودہ دور سے متعلق معلوم ہوتا ہے۔ بعض اوقات بات اشارہ و کنایہ میں کہی جاتی ہے۔
بینی تو پند معروف پنہاں شود در عالم
سازند حیلہ افسوں نامش نہند نظامہ​
ترجمہ: نیک کام کرنے کی نصیحت دنیا میں چھپ جائے گی۔ دھوکہ بازی اور فسوں سازی کے حربوں اور ہتھکنڈوں کا نام نظام حکومت رکھ لیں گے۔
گردد ریاء مروج در شرق و غرب ہر سُو
فسق و فجور باشد منظور خاص و عامہ​
ترجمہ: مشرق و مغرب میں ہر طرف ریاءکاری رواج پا جائیگی۔عام و خاص لوگوں کے لئے فسق و فجور منظور خاطر ہو گا۔

نعمت اللہ شاہ ولی کی تمام ہندوستان کے اندر فتوحات کے حوالے سے کی گئی پشنگوئ

پنجاب، شہر لاہور، کشمیر ملک منصور
دوآب ، شہر بجنور گیرند غالبانہ​
ترجمہ: پنجاب، شہر لاہور، ملک کشمیر نصرت شدہ ، دریائے گنگا اور جمنا کا علاقہ اور بجنور شہر پر مسلمان غالبانہ قبضہ کر لیں گے۔
تشریح: اس شعر میں مذکور صوبے ، علاقے اور شہروں کے نام بالواسطہ طور پر نہ صرف دریائے اٹک کے خونیں معرکہ میں مسلمانوں کی فتح کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ دشمن کو پیچھے دھکیلتے ہوئے پنجاب ، لاہور، کشمیر اور ہندوستان کے اندر دریائے گنگا اور دریائے جمنا کے درمیان دوآبہ کا وسیع علاقہ اور مشہور شہر بجنور پر مسلمانوں کا غالبانہ قبضہ ظاہر کرتے ہیں، انشااللہ!
از دُختران خوشرو از دلبران مہ رو
گیرند ملک آں سُو خلقے مجاہدانہ​
ترجمہ: خوبرو لڑکیاں اور حسین دلربائیں ، مجاہدین مال ِ غنیمت کے زمرے میں اپنی ملکیت میں لے لیں گے۔
تشریح: اس شعر میں پچھلے گزرے ہوئے دو اشعار کی مکمل تشریح و توضیح اور حتمی نتیجہ مسلمانوں کی فتح کی شکل میں سامنے آجاتا ہے۔
بعد از عقب ایں کار مغلوب اہل کفار
مسرور فوج جرار باشند فاتحانہ​
ترجمہ: اس کام کے بعد کافر مغلوب ہو جائیں گے اور مسلمانوں کی جری افواج فتح حاصل کر کے خوش ہو جائیں گی۔
ایں غزوہ تا بہ شش ماہ پیوستہ ہم بشر ہا
مسلم بفضل اللہ گردند فاتحانہ​
ترجمہ: یہ لڑائی چھ ماہ تک انسانوں کے بیچ چلتی رہے گی۔ مسلمان اللہ کے فضل سے فاتح ہوں گے۔
خوش می شود مسلماں از لطف و فضل یزداں
خاق نماید اکرم از لطف خالقانہ​
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمان خوش ہو جائیں گے،اللہ پاک خالقانہ لطف و کرم فرمائیں گے۔
کشتہ شوند جملہ بد خواہ دین و ایماں
کل ہند پاک باشد از رسم ہندوانہ​
ترجمہ: دین اور ایمان کےجملہ بدخواہ لوگ قتل کردئیےجائیں گے۔تمام ہندوستان ہندوؤں کی عملداری سےپاک ہوجائےگا۔
یک زلزلہ کہ آید چوں زلزلہ قیامت
آں زلزلہ بہ قہر در ہند سند ہیانہ​
ترجمہ: قیامت کے زلزلوں کی مثل ایک زلزلہ آئے گا اور وہ زلزلہ ہندوستان اور سندھ میں قہر بن کر نمودار ہو گا۔
چوں ہند ہم بہ مغرب قسمت خراب گردد
تجدید یاب گردد جنگ سہ نوبتانہ​
ترجمہ: ہندوستان کی طرح مغرب یعنی یورپ کی تقدیر بھی خراب ہو جائے گی۔ تیسری جنگ عظیم شروع ہو جائے گی۔
آں دو الف کہ گُفتم الفے تباہ گردد
را حملہ ساز باید بر الف مغربانہ​
ترجمہ: دو الف (انگلستان اور امریکہ) جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں، ان میں سے ایک الف(غالبا انگلستان) تباہ ہو جائے گا۔روس انگلستان پر حملہ کر دے گا۔
جیم شکست خوردہ بارا برابر آید
آلات نار آرند مہلک جہنمانہ​
ترجمہ: جنگ عظیم دوئم میں شکست خوردہ جرمنی یا جاپان روس کے ساتھ برابری کرے گا یا ساتھ مل جائے گا۔ اس جنگ میں جہنمی قسم کے انتہائی مہلک آتشی ہتھیار استعمال کئے جائیں گے۔
تشریح: یہ متوقع تیسری جنگ عظیم ہو گی جس میں ایسے ایٹمی ممالک برسرپیکار ہوں گے جن کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد اس وقت اتنی ہے جو دنیا کو درجنوں مرتبہ تباہ و برباد کر کے راکھ کا ڈھیر بنا سکتے ہیں۔ جیسے کہ ایک مرتبہ C.S.S کے انٹرویو کے دوران جب ایک امیدوار سے متوقع تیسری جنگ عظیم میں استعمال ہونے والے بڑے ہتھیاروں کے نام پوچھے گئے تو اس نے برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ تیسری جنگ عظیم کے مہلک ہتھیاروں کے بارے تو میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن چوتھی جنگ عظیم یقینی طور پر ڈنڈوں سے لڑی جائیگی۔گویا تیسری جنگ عظیم میں وسیع پیمانے پر ایٹمی ہتھیاروں کے آزادانہ استعمال کے بعد اس روئے زمین پر کچھ باقی رہ ہی نہیں جائے گا۔لہٰذا چوتھی جنگ عظیم جنگلات کے بچے کھچے درختوں کے ڈنڈوں سے ہی لڑی جا سکے گی۔ اس طرح چوتھی جنگ عظیم کے ہتھیار بتا کر تیسری جنگ عظیم کے ہتھیاروں کا حال بتا دیا گیا۔
راہم خراب باشد از قہر ”سین“ ساز
از او مان یابد از حیلہ و بہانہ​
ترجمہ: روس بھی چین کے قہر و غضب سے تباہ ہو جائیگا، چین سے روس مکر و فریب اور حیلہ و بہانہ سے امان حاصل کر کے جان بچائے گا۔
کاہد الف جہاں کہ یک نقطہ رونماند
الا کہ اسم و یادش باشد مؤرخانہ​
ترجمہ: انگلستان اتنا تباہ ہو گا کہ اس کا ایک نقطہ بھی باقی نہ رہے گا سوائے یہ کہ اس کا نام اور تذکرہ تاریخ کی کتابوں میں باقی رہ جائے گا۔
تعزیر غیبی آید مجرم خطاب گیرد
دیگر نہ سرفرازد بر طرزِ راہبانہ​
ترجمہ: یہ انہیں غیبی سزا ملی اور مجرم کا خطاب حاصل کیا لہٰذا کوئی دوسرا شخص راہبوں کی طرح سربلندی نہیں کرے گا۔
دنیا خراب کردہ باشند بے ایماناں
گیرند منزل خود فی النار دوزخانہ​
ترجمہ: ان بے ایمان لوگوں نے اپنی دنیا خراب کر ڈالی، آخر کار انہوں نے اپنی منزل دوزخ میں بنا لی۔
رازے کہ گُفتہ ام من، درے کہ سُفتہ ام من
باشد برائے نصرت اسناد غائبانہ​
ترجمہ: وہ راز جو کہ میں بیان کر چکا ہوں اور وہ موتی جو میں پرو چکا ہوں، یہ ایک غیبی سند ہے ۔ یہ میں نے اس لئے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یقینا اسلام کی مدد کریں گے۔
عجلت اگر بخواہی، نصرت اگر بخواہی
کن پیروی خدا را در قول قدسیانہ​
ترجمہ: اگر تو عجلت چاہتا ہے اور اللہ کی مدد چاہتا ہے تو خدا کیلئے اللہ کے نیک بندوں کے اقوال کی پیروی کر۔
اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد اور خصوصی عنایت سے حضرت نعمت اللہ شاہ ولی اپنی مقدس پیشنگوئی کے ان آخری چند اشعار میں غیب سے پردہ ہٹاتے ہوئے دجال ، امام مہدی اور حضرت عیسیٰ کے ظہور کا بیان کر کے جب قیامت کے قریب آکر قدرت کے رازوں کو مزید آشکارا کرنے سے جب خود کو روکتے ہیں ، تو انسان کا دل خوف الہٰی سے دہلنے لگتا ہے:
تا سال بہتری از کان زھوقا آید
مہدی عروج سازد از مہد مہدیانہ​
ترجمہ: یہاں تک کہ زھوقا والا بہترین سال آجائے تو امام مہدی علیہ السلام مہدیانہ ہدایت والے اپنے عروج پر آ جائیں گے۔
ناگاہ بہ موسم حج مہدی عیان باشد
ایں شہرت عیانش مشہور در جہانہ​
ترجمہ: اچانک حج کےدنوں میں مہدی علیہ السلام ظاہر ہونگے۔انکی ظاہرہونےوالی یہ شہرت تمام دنیامیں مشہورہوجائے گی۔
زیں بعد از اصفہاں دجال ہم در آید
عیسیٰ برائے قتلش آید ز آسمانہ​
ترجمہ: اس کے بعد اصفہان شہر سے دجال ظاہر ہو گا۔ اس کے قتل کرنے کیلئے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اُتر آئیں گے۔

اپنی شہرہ آفاق پیشنگوئی کےاختتامی مرحلہ پرآکر حضرت نعمت شاہ ولی اپنے آخری شعر میں رب کے رازوں کو مزید افشا کرنے سے خود کو روکتے ہوئے فرماتے ہیں 

خاموش باش نعمت اسرار حق مکن فاش
اے نعمت! خاموش ہو جا، رب کے رازوں کو ظاہر نہ کر۔​

نعمت اللہ نشستہ در کنجے
ہمہ را در کنار مے بینم
نعمت اللہ شاہ ایک کونے میں بیٹھا ہوا ہے۔ میں سب کچھ ایک کنارے سے دیکھ رہا ہوں۔


حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی = حصہ چہارم

<حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی <حصہ چہارم

مستقبل کے حوالے سے (قافیہ زمانہ ، بہانہ وغیرہ)​ کے ساتھ کی گئی کی پیشنگوئی
اب تک ٨٥٠ سال پر محیط ماضی اور حال کے واقعات کے بارے حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی کے چیدہ چیدہ اشعار بیان کئے گئے ۔ جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔ لیکن اب پیشنگوئی کا اہم ترین حصہ شروع ہوتا ہے جس میں حضرت نعمت اللہ شاہ ولی علم و عرفاں کے بحر بیکراں کے شناور کی حیثیت سے آنیوالے مستقبل کے نیک و بد اور ہیبتناک اور عبرتناک واقعات سے پردہ اُٹھاتے ہوئے مسلمانوں کو غیب کے رازوں میں جھانکنے کا موقع فراہم کرتے ہیں تا کہ مسلم امہ دین اسلام پر کاربند رہتے ہوئے اپنے اخلاق سنواریں اور باطل قوتوں کے خلاف جہاد کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں، حضرت نعمت اللہ شاہ ولی آج کے بعد مستقبل کے واقعات اور حادثات کی پیشنگوئی کرتے کرتے انسان کو قیامت کے قریب پہنچا دیتے ہیں۔

اندر نماز باشند غافل ہمہ مسلماں
عالم اسیر شہوت ایں طور در جہانہ​
ترجمہ: سب مسلمان نماز سے غافل رہیں گے، لوگ شہوت کے قیدی ہوں گے، دنیا میں ایسا ہی ہو گا۔
روزہ ،نماز ، طاعت، یکدم شوند غائب
در حلقہء مناجات تسبیح از ریانہ​
ترجمہ:روزہ،نمازاوراحکام کی بجاآوری یک لخت غائب ہوجائےگی۔مناجات کی مجالس میں ریاکارانہ طورسےذکرواذکارہوگا۔
تشریح: ذکر و اذکار کا یہ ریا کارانہ انداز تو ابھی سے دیکھنے میں آرہا ہے۔نہ جانے مستقبل میں یہ ریاکاری کس نہج پر پہنچ جائے گی۔ (بتاریخ ٢٠٠٩ء)
شوق نماز و روزہ ، حج و زکوٰۃ و فطرہ
کم گردد و بر آید یکبار خاطرانہ​
ترجمہ: نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ اور فطرانہ ادا کرنے کا شوق کم ہو جائے گا۔ دلوں پر ایک بوجھ معلوم ہو گا۔
ہم سود مے ستانند از مردمان مسکین
بر سر غرور و لعنت، بر سر نہند خزانہ​
ترجمہ: ایک جماعت مجبور لوگوں سے سُود لیا کرے گی، ان پر لعنت ہو۔ یہ سر پر خزانہ رکھے ہوئے ہوں گے۔
ماہِ محرم آید چوں تیغ با مسلماں
سازند مسلم آندم اقدام جارحانہ​
ترجمہ: محرم کے مہینہ میں مسلمانوں کے پاس ہتھیار آجائیں گے۔ مسلمان اس وقت جارحانہ قدم اُٹھائیں گے ۔
تشریح: آج سے سینتیس سال قبل مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے صدمہ کے چند ماہ بعد ١٩٧٢ء میں کسی نے چلتے چلتے راقم الحروف کو ایک بڑے سائز کا ورق دیا تھا جس پر حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی کے تیس چالیس اشعار چھپے ہوئے تھے۔ ماضی کی پیشنگوئی کے متعدد اشعار کو درست تسلیم کرتے ہوئے جب مشرقی پاکستان کے المیہ سے متعلق چند اشعار پڑھے تو پاکستان کے مستقبل کے متعلق کوئی اچھی خبر سننے کو دل بے چین ہو گیا۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ اس وقت مستقبل کے بارے یہی شعر تھا کہ ”ماہ محرم آید۔۔۔۔اقدام جارحانہ“ جس میں امید کی کرن نظر آئی اور جس کے وقوع پذیر ہونے کیلئے اب تک راقم الحروف انتظار میں ہے، یہ نہ جانتے ہوئے کہ وہ ”محرم“کس سال کا ہو گا۔ بہر حال پیشنگوئی کے تقدس کا تقاضا ہے کہ بعض مقامات پر حقائق کو کسی قدر پوشیدہ اور طویل انتظار کو روا رکھا جائے۔
بعد آں شود چوں شورش در ملک ہند پیدا
فتنہ فساد برپا بر ارضِ مشرکانہ​
ترجمہ: اس کے بعد ہندوستان کے ملک میں ایک شورش ظاہر ہو گی۔ مشرکانہ زمین پر فتنہ و فساد برپا ہو گا۔
درحین خلفشارے قومے کہ بت پرستاں
بر کلمہ گویاں جابر از قہر ہندوانہ​
ترجمہ: اس خلفشار کے وقت بت پرست قوم کلمہ گو مسلمانوں پر اپنے ہندوانہ قہر و غضب کے ذریعے جابر ہوں گے۔
بہر صیانت خود از سمت کج شمالی
آید برائے فتح امداد غائبانہ​
ترجمہ: اپنی مدد کیلئے شمال مشرق کی طرف سے فتح حاصل کرنے کیلئے غائبانہ امداد آئے گی ۔
آلات حرب و لشکر درکار جنگ ماہر
باشد سہیم مومن بے حد و بیکرانہ​
ترجمہ: جنگی ہتھیاراورجنگی کاروائی کاماہرلشکرآئیگا،جس سےمسلمانوں کوزبردست اوربےحساب تقویت پہنچے گی۔
عثمان و عرب و فارس ہم مومنانِ اوسط
از جذبہء اعانت آیند والہانہ​
ترجمہ: ترکی ، عرب، ایران اور مشرق وسطیٰ والے امداد کے جذبہ سے دیوانہ وار آئیں گے۔
اعراب نیز آیند است کوہ و دشت و ہاموں
سیلاب آتشیں شد از ہر طرف روانہ​
ترجمہ: نیز پہاڑوں، بیابانوں اور صحراؤں سے اعراب بھی آئیں گے۔ آگ والا سیلاب ہر طرف رواں دواں ہو گا۔
چترال، ناگا پربت، باسین ، ملک گلگت
پس ملک ہائے تبت گیر نار جنگ آنہ​
ترجمہ: چترال، نانگا پربت، چین کے ساتھ گلگت کا علاقہ مل کر تبت کا علاقہ میدان جنگ بنے گا۔
یکجا چوں عثمان ہم چینیاں و ایراں
فتح کنند ایناں کُل ہند غازیانہ​
ترجمہ: ترکی ، چین اور ایران والے باہم یکجا ہو جائیں گے۔ یہ سب تمام ہندوستان کو غازیانہ طور پر فتح کر لیں گے۔
غلبہ کنند ہمچوں مورو ملخ شباشب
حقا کہ قوم مسلم گردند فاتحانہ​
ترجمہ: یہ چیونٹیوں اور مکڑیوں کی طرح راتوں رات غلبہ حاصل کر لیں گے۔ میں قسم کھاتا ہوں اللہ تعالیٰ کی کہ مسلمان قوم فاتح ہو گی۔
کابل خروج سازد در قتل اہل کفار
کفار چپ و راست سازند بسے بہانہ​
ترجمہ: اہل کابل بھی کافروں کو قتل کرنے کیلئے نکل آئیں گے، کافر لوگ دائیں بائیں بہانہ سازی کریں گے۔
از غازیان سرحد لرزد زمیں چو مرقد
بہر حصول مقصد آیند والہانہ​
ترجمہ: سرحد کے غازیوں سے زمین مرقد کی طرح لرزے گی۔ وہ مقصد کے حصول کے لئے دیوانہ وار آئیں گے۔
تشریح: اوپر کے دو اشعار سرحد کے غازیوں اور افغانستان کے مجاہدوں کا کفار کے خلاف زوردار جہاد اور دیوانہ وار یلغار ظاہر کرتے ہیں۔ (اللہ اکبر)
از خاص و عام آیند جمع تمام گردند
درکار آں فزایند صد گونہ غم افزانہ​
ترجمہ: عام و خاص سب کے سب لوگ جمع ہو جائیں گے۔اس کام میں سینکڑوں قسم کے غم کی زیادتی ہو گی۔
تشریح: غازیانہ، دلیرانہ اور فاتحانہ انداز سے کفار کے خلاف جہاد میں کامیابی کی نشانیوں کے باوجود ایک نامعلوم ”غم“ کے لئے تمام مسلمانوں کا باہم جمع ہو جانا تشویشناک نظر آتا ہے۔
بعد از فریضہء حج پیش از نماز فطرہ
از دست رفتہ گیرند از ضبطِ غاصبانہ​
ترجمہ: فریضہء حج کے بعد اور عید الفطر کی نماز سے پہلے ہاتھ سے نکلے ہوئے علاقہ کو حاصل کر لیں گے جو انہوں نے غاصبانہ ضبط کیا ہوا تھا۔
رودِ اٹک نہ سہ بار از خوں اہل کفار
پر مے شود بہ یکبار جریان جاریانہ​
ترجمہ: دریائے اٹک (دریائے سندھ) کافروں کے خون سے تین مرتبہ بھر کر جاری ہو گا۔
تشریح: حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی کا ہر شعر جہاں ایک الگ باب کی حیثیت رکھتا ہے، وہاں مستقبل کے بارے ان کا یہ شعر جس میں صاف طور پر دریائے اٹک (دریائے سندھ) کا نام لے کر اسے تین مرتبہ کفار کے خون سے بھر کر جاری ہونے کی پیشنگوئی کی گئی ہے ، مسلمانوں اور کفار کے درمیان ایک انتہائی خونریز جنگ کو ظاہر کرتا ہے جس میں اگلے شعر کے تناظر میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گی۔لیکن اس شعر کی یہ تشریح اس وقت تک تشنہ لب ہے جب تک جغرافیائی اور واقعاتی لحاظ سے اس اہم نکتہ پر غور نہ کیا جائے کہ بھلا کفار کے خلاف مذکورہ خونریز جنگ آخر پشاور سے صرف ٤٥میل دور دریائے اٹک تک کیسے آ پہنچے گی جبکہ دریائے سندھ کے مغرب میں صرف صوبہ سرحد(پختونخواہ) ، قبائلی علاقہ، افغانستان اور چند آزاد جمہوری ریاستیں واقع ہیں جو مسلمانوں پر مشتمل ہیں۔ تو کیا اٹک کے کنارے کفار سے مزاحمت صرف یہی مغرب کی طرف سے آنے والے مسلمان کریں گے؟ دوسرا انتہائی تشویشناک اور حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ اگر مغرب کی طرف سے کفار کا آنا بعید از قیاس ہے تو پھرکفار دریائے اٹک تک پاکستان کے مشرق یا شمال مشرق کی جانب سے کن راستوں یا علاقوں سے گزر کر پہنچیں گے؟ کیونکہ مقامِ کارزار آخر دریائے اٹک ہی بتایا گیا ہے۔

حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی = حصہ دوئم

<حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی <حصہ دوئم 

 ماضی کے حوالے سے  (قافیہ زمانہ ، بہانہ وغیرہ)​ کے ساتھ کی گئی کی پیشنگوئی

اولیا کرام اور صوفیا عظام جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں ان پر کب اور کس وقت جلال اور جمال کی کیفیت طاری ہوتی ہے،کب اورکیسےوہ حالت وجد میں آتےہیں او کب مکاشفہ اور کب مشاہدہ اور الہام یا القاء کے ذریعے ان پر غیب کےپردے کھلتےہیں اورکسطرح اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو لوحِ محفوظ میں جھانکنےکا اعلی و ارفع روحانی مرتبہ عطا کرتےہیں،ایسےبےشمارسوالات اوربہت زیادہ کرید سےاللہ اوراس کےرسول صلی اللہ علیہ وآلِہٖ وسلم نےانسان کومنع فرمایا ہے۔

حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے اپنے پیشنگوئی کے قصیدے میں ”پیدا شود“ (پیدا ہو گا) کے ردیف میں خصوصی طور پر بر صغیر پاک و ہند میں رونما ہونے والے غیر معمولی حالات اور حوادث سے پردہ اُٹھایا ہے۔ لیکن اب ویرانہ، زاہدانہ، اور فاتحانہ وغیرہ قافیہ کے ذریعے حضرت نعمت اللہ شاہ کشمیری نے زیادہ وسعت اور وضاحت کے ساتھ برصغیر پاک و ہند اور ملحقہ علاقہ جات میں پیش آنے والے واقعات اور حادثات کو ایسے بے باکانہ طور پر بیان کیا ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دل دہلنے لگتا ہے۔ موقعہ کی مناسبت سے عقل اور عشق(حقیقی) کے بارے فرماتے ہیں:
خرد سے راہ روشن ہے، بصر ہے
خرد کیا ہے ، چراغ راہ گزر ہے
درون خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا
چراغ رہگذر کو کیا خبر ہے​
علامہ اقبال عشق حقیقی اور معرفت الٰہی کے بغیر عقل کو محدود قرار دیتے ہوئے دوبارہ فرماتے ہیں
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے​
اسی طرح علامہ اقبال علم کو بھی محدود تصور کرتے ہوئے فرماتے ہیں
علم کی حد سے پرے بندہء مومن کیلئے
لذت شوق بھی ہے، نعمت دیدار بھی ہے​
لہٰذا نعمت اللہ شاہ ولی علم اور عقل کی سرحدوں سے آگے نکل کر درون خانہ ہنگاموں کی پردہ کشائی کرتے ہوئے کچھ یوں گویا ہوتے ہیں
پارینہ قصہ شوئم از تازہ ہند گوئم
افتاد قرن دوئم کہ افتد از زمانہ​
ترجمہ: میں قدیم قصہ کونظراندازکرتا ہوں،میں ہندوستان کےمتعلق تازہ بیان کرتا ہوں کہ دوسراقرن جوزمانہ میں آئےگا۔
صاحب قرن ثانی اولاد گور گانی
شاہی کندا ما شاہی چو رستمانہ
ترجمہ: خاندان مغلیہ میں سے صاحب قرن ثانی ہند پر بادشاہی کرے گا لیکن بادشاہی دلیرانہ طور پر ہو گی۔​
عیش و نشاط اکثر گردد مکاں بہ خاطر
گم مے کنند یکسر آں طرز ترکیانہ​
ترجمہ: ان کے دلوں میں عیش و عشرت گھر کر لے گا۔اور اپنے ترکیانہ طرز و انداز کو سراسر ترک کر دیں گے۔
تا مدت سہ صد سال در ملک ہند بنگال
کشمیر، شہر بھوپال ، گیرند تاکرانہ​
ترجمہ: ان کی حکومت ہندوستان کےملک میں بنگال ،کشمیراورشہر بھوپال کےآخرتک تین سو سال تک رہے گی۔
گیرند ملک ایراں، بلخ و بخارا ، تہراں
آخر شوند پنہاں ، باطن دریں جہانہ​
ترجمہ: یہ ملک ایران، بلخ، بخارا اور تہران پر بھی قابض ہو جائیں گے، لیکن آخر کار چھپ جائیں گے اور اس جہان کے اندر باطن ہو جائیں گے۔
تا ہفت پشت ایشاں در ملک ہندو ایراں
آخر شوند پنہاں در گوشہء نہانہ​
ترجمہ: ان (مغل) کی سات پُشتیں ہندوستان اور ایران کے ملک پر حکومت کریں گی۔لیکن آخر کار ایک گمنام گوشہ میں چھپ جائیں گے۔
بعد از سہ صد نہ بینی تو حکم گورگانی
چوں اصحاب کہف گردد در کہف غائبانہ​
ترجمہ: تو تین سو سال بعد خاندان مغلیہ کی حکومت نہیں دیکھے گا۔ یہ اصحاب کہف کی طرح غار میں غائب ہو جائیں گے۔
آں آخری زمانہ آید دریں جہانہ
شہباز سدرہ بینی از دست رائیگانہ​
ترجمہ: اس دُنیا میں وہ آخری زمانہ آئیگا جب شہباز سدرہ( اولیاء جن کی پرواز سدرہ المنتہیٰ تک ہو)، تو دیکھے گا کہ وہ ہاتھ سے نکل جائیں گے۔
آں راجگانِ جنگی مئے خور مست بہنگی
در ملک شاں فرنگی آئند تاجرانہ​
ترجمہ: وہ جنگجو راجے مہاراجے جو شراب اور بھنگ کے نشہ میں مست ہوں گے۔ ان کے ملک میں انگریز تاجرانہ انداز میں داخل ہوں گے۔
تشریح: انگریز شروع میں ہندوستان کے مشہور مرچ مصالحوں کی تجارت کے بہانے مغل حکمرانوں سے بحیرہ ہند کے ساحل کے قریب واقع گوا ، سورت اور پانڈی چری میں تجارتی کوٹھیاں بنانے کی اجازت ملنے پر داخل ہوئے۔ ہندوستان میں انگریزوں کا ایسٹ انڈیا کمپنی کی آڑ میں قبضہ کرنے اور اہل ہند پر ایک سو سال سے زائد عرصہ تک حکومت کرنے کا پہلا بیج اس طرح بویا گیا۔ اسلئے شعر میں لفظ '' تاجرانہ'' استعمال کیا گیا ہے۔
رفتہ حکومت از شاں آید بہ غیر مہماں
اغیار سکہ را نند از ضرب حاکمانہ​
ترجمہ: مغل حکمرانوں کی حکومت چلی جائے گی۔ غیر کے ہاتھوں میں آجائیگی۔ جو مہمان بن کر آئے ہونگے وہ آخرکار اپنا حاکمانہ سکہ چلائیں گے۔
بینی تو عیسوی را بر تخت بادشاہی
گیرند مومناں را از حیلہ بہانہ​
ترجمہ: تو عیسائیوں کو بادشاہی کے تخت پر دیکھے گا۔ یہ مکر و فریب سے مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ کریں گے۔
صد سال حکم ایشاں در ملک ہند میداں
من دیدم اے عزیزاں! ایں نقطہء غائبانہ​
ترجمہ: سو سال تک ہندوستان پر ان کی حکومت ہو گی۔ اے عزیزو میں نے یہ غیبی نقطہ دیکھا ہے۔
اسلام ، اہل اسلام گردد غریب و حیراں
بلخ و بخارا ، طہراں در سند ہند ہیانہ​
ترجمہ: اسلام اور اسلام والے لاچار اور حیران ہو جائیں گے۔ بلخ، بخارا، طہران، سند اور ہند میں۔
در مکتب و مدارس علم فرنگ خوانند
در علم فقہ و تفسیر غافل شوند بیگانہ​
ترجمہ: سکولوں اور درسگاہوں میں انگریزی علم پڑھیں گے جبکہ فقہ و تفسیر کے علم سے غافل اور بیگانہ ہو جائیں گے۔
حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی جو ٨٥٠ سال پہلے بیان کی گئی، وقت گزرنے کے ساتھ ان کے اشعار کی ترتیب سے قطع نظر آج سے قریبا ١٠٠ سال قبل اور پیشنگوئی کی تحریر کے ٧٥٠ سال بعد یعنی بیسویں صدی کی ابتدا میں رو نما ہونے والے واقعات اور ایجادات سے متعلق درج ذیل دو اشعار پیشنگوئی کی سچائی اور سند پر مہر ثبت کرتے ہیں:
آلات برق پیما اسلاح حشر پربا
سازند اہل حرفہ مشہور آں زمانہ​
ترجمہ: برق پیما آلات اور میدان جنگ میں حشر برپا کرنے والا اسلحہ اس زمانہ کے مشہور و معروف سائنسدان بنائیں گے۔
باشی اگر بہ مشرق، شنوی کلام مغرب
آید سرود غیبی بر طرز عرشیانہ​
ترجمہ: اگر تم مشرق میں بیٹھے ہو گے تو تم مغرب کی باتیں سُن سکو گے۔ آسمان کی طرح غیب سے نغمے آیا کریں گے۔
تا چہار سال جنگے افتد بہ بر غربی
فاتح الف گردد بر جیم فاسقانہ​
ترجمہ: مغربی ممالک (یورپ وغیرہ) پر چار سال کیلئے ایک جنگ واقع ہو گی۔ الف (انگلستان) جیم (جرمن) پر فاسقانہ طور پر فتح پا لے گا۔
تشریح: یہ شعر جنگ عظیم اول جو ١٩١٤ء سے ١٩١٨ء تک لڑی گئی، کو ظاہر کرتا ہے۔
جنگ عظیم باشد ، قتل عظیم سازد
یک صد و سی و یک لک باشد شمار جانہ​
ترجمہ: یہ عالمگیر جنگ (اول) ہو گی جس میں بہت بڑا قتال واقع ہو گا۔ ایک کروڑ اکتیس لاکھ جانیں ضائع ہو جائیں گی۔
اظہار صلح باشد لیکن پنہاں کنند ساماں
جیم و الف مکرر رو در ، مبارزانہ
ترجمہ: بظاہر دونوں خاموش ہوں گے لیکن درپردہ جرمنی اور انگلستان بدستور جنگی تیاریوں میں مصروف ہوں گے۔​
وقت کہ جنگ جاپاں با چین افتاباں شد
نصرانیاں بہ پیکار آیند باہمانہ​
ترجمہ: جس وقت جاپان کی جنگ چین کے ساتھ واقع ہو گی، عیسائی آپس میں لڑائی کریں گے۔
قوم فرنسوی را بر ہم نمود اول
با انگلیس و اطالین گیرند خاصمانہ
ترجمہ: وہ سب سے پہلے فرانس پر حملہ آور ہو کر قبضہ کرے گا۔ برطانیہ اور اٹلی والے خاصمانہ جنگ اختیار کرلیں گے۔​
پس سال بست و یکم آغاز جنگ دوئم
مہلک ترین اول باشد بہ جارحانہ​
ترجمہ: (جنگ عظیم اول کے) اکیس سال بعد (یعنی جنگ عظیم اول کے اختتامی سال ١٩١٨ء کےبعد ١٩٣٩ء میں) دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہو گا۔ جو جنگ عظیم اول سے بہت زیادہ مہلک اور جارحانہ ہو گی۔
تشریح: یہ جنگ عظیم دوئم انگلینڈ کی طرف سے چرچل اور جرمنی کی طرف سے ہٹلر کی سربراہی میں ١٩٣٩ء سے ١٩٤٥ء تک عالمی سطح پر لڑی گئی۔ امریکہ کی طرف سے دو بڑے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایٹم بم گرانے سے اس جنگ کا خاتمہ ہوا۔
نصرانیاں کہ باشند ہندوستاں سپارند
تخم بدی بکارند از فسق جاودانہ​
ترجمہ: اس کے بعد عیسائی (انگریز) ہندوستان چھوڑ جائیں گے۔ لیکن جاتے ہوئے اپنے فسق سے ہمیشہ کے لئے بدی کا بیج بو جائیں گے۔
تشریح: انگریزوں نے یہ بدی کا بیج متعدد مسلم اکثریتی صوبوں ، اضلاع اور ریاست جموں کشمیر کو بھارت کے حوالے کرنے کی صورت میں بویا، جس پر آج تک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چار جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ قائد اعظم کے الفاظ میں ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے“۔ اور اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کا وصال بھی کشمیر ہی میں ہوا۔
آں مرد مانِ اطراف چوں مژدہ ایں شنودند
یکبار جمع آیند بر باب عالیانہ​
ترجمہ: جب ارد گرد کے لوگ یہ خوشخبری سُنیں گے تو فورا ہی باب عالی پر اکٹھے ہو جائیں گے۔
تقسیم ہند گردد در دو حصص ہویدا
آشوب و رنج پیدا از مکر و از بہانہ​
ترجمہ: ہندوستان دو حصوں میں واضح طور پر تقسیم ہو جائے گا۔ لیکن مکر و فریب سے آشوب و رنج پیدا ہو گا۔
تقسیمِ ہند کے بعد بے تاج بادشاہوں کے دور میں معاشرے کی زبوں حالی ، علماء کی ریا کاری، جنسی سیاہ کاری اور رشوت کی فراوانی کے بارے حضرت نعمت اللہ شاہ ولی اپنی آفاقی پیشنگوئی میں آگے چل کر فرماتے ہیں:
بے تاج بادشاہاں شاہی کنند ناداں
اجراء کنند فرماں فی الجملہ مہملانہ​
ترجمہ: ہند و پاک پر بے تاج لوگ بادشاہی کریں گے، جبکہ نادان حکام احمقانہ احکام جاری کریں گے۔
از رشوتِ تساہل دانستہ از تغافل
تاویل یاب باشند احکامِ خسروانہ​
ترجمہ: یہ رشوت لے کر سُستی کریں گے۔ جان بوجھ کر غفلت کریں گے۔ اپنے شاہی احکامات کے لئے بے سروپا جواز پیش کریں گے۔
عالم ز علم نالاں ، دانا ز فہم گریاں
ناداں بہ رقص عریاں مصروف والہانہ​
ترجمہ: (حقیقی) عالم اپنے علم پر گریہ و زاری کریں گے۔ دانا لوگ اپنی فہم و فراست کا رونا روئیں گے جبکہ ناداں لوگ عریاں ناچ گانوں میں دیوانہ وار مصروف ہوں گے۔
شفقت بہ سرد مہری، تعظیم در دلیری
تبدیل گشتہ باشد از فتنہء زمانہ​
ترجمہ: شفقت سرد مہری میں اور تعظیم دلیری میں تبدیل ہو جائیگی۔ یہ زمانہ میں فتنہ کے سبب سے ہو گا۔
ہمشیر با برادر، پسران ہم با مادر
نیزہم پدر بہ دختر مجرم بہ عاشقانہ​
ترجمہ: بہن بھائی کے ساتھ، بیٹے ماؤں کے ساتھ اور باپ بیٹی کے ساتھ عاشقانہ فعل کے مجرم ہوں گے۔
تشریح: حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے اس شعر میں ”مجرم بہ عاشقانہ“ کے الفاظ استعمال کر کے جنسی سیاہ کاری کی قبیح ترین حالت کو قدرے مہذب زبان میں بیان کرنے کی سعی فرمائی ہے جو اخلاقیات کے ارفع و اعلیٰ مراتب پر فائز صوفیاء اور اولیاء کا وطیرہ ہے۔
از امت محمدؐ سرزد دشوند بیحد
افعال مجرمانہ، اعمال عاصیانہ​
ترجمہ: سرکارِ دو عالمﷺ کی امت سے بکثرت مجرمانہ افعال اور عاصیانہ اعمال سرزد ہوں گے۔
فسق و فجور ہر سُو رائج شود بہ ہر کُو
مادر بہ دختر خود سازد بسے بہانہ​
ترجمہ: ہر طرف اور ہر گلی کوچہ میں فسق و فجور عام ہو جائے گا۔ماں اپنی بیٹی کے ساتھ بہت بہانہ سازی کرے گی۔
حلت رود سراسر حرمت رود سراسر
عصمت رود برابر از جبر مغویانہ​
ترجمہ: حلال جاتا رہے گا، حرام کی تمیز جاتی رہے گی۔ عورتوں کی عصمت جابرانہ اغوائیگی سے جاتی رہے گی۔
بے مہر گی سر آید پردہ داری آید
عصمت فروش باطن معصوم ظاہرانہ​
ترجمہ: نفرت پیدا ہو گی، بے پردگی آجائیگی۔عورتیں بےپردہ ہوں گی۔ بظاہرمعصوم لیکن اندرسےعصمت فروش ہوں گی۔
دختر فروش باشند عصمت فروش باشند
مردانِ سفلہ طینت با وضع زاہدانہ​
ترجمہ: اکثر لوگ دختر فروشی اور عصمت فروشی کریں گے۔ بدکردار لوگ اپنی ظاہری وضع قطع زاہدوں جیسی رکھیں گے۔
بے شرم و بے حیائی درمرد ماں فزاید
مادر بہ دختر خود، خود را کند میزانہ​
ترجمہ: لوگوں میں بے شرمی اور بے حیائی زیادہ ہو جائیگی، ماں اپنی بیٹی کے ساتھ اپنے آپ کا موازنہ کرے گی۔ گویا ماں حسن و جمال اور طرز و انداز میں خود کو اپنی بیٹی سے کم نہیں سمجھے گی۔
کذب و ریاء و غیبت ، فسق و فجور بیحد
قتل و زنیٰ و غلام ہر جا شوند عیانہ​
ترجمہ: جھوٹ اور ریا کاری، غیبت اور فسق و فجور کی زیادتی ہو گی۔ قتل ، زنا اور اغلام بازی ہر جگہ عام ہو جائے گی۔
اب حضرت نعمت اللہ شاہ ولی اپنی پیشنگوئی کا رخ زمانے کے جاہل اور ریا کار علماء اور گمراہ مفتیان کی طرف موڑتے ہوئے ان کے تن بدن سے ظاہری زیب و زینت کا طرہ اور جبہ قبہ ہٹا کر انہیں اپنے اصلی رنگ و روپ میں پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
آں مفتیانِ گمرہ فتو ے دہند بیجا
در حق بیان شرع سازند بسے بہانہ​
ترجمہ: وہ گمراہ مُفتی غلط فتوے دیا کریں گے، شریعت کے حق بیان میں بہت بہانہ سازی کریں گے۔
فاسق کند بزرگی بر قوم از سترگی
پس خانہ اش بزرگی خواہد شود ویرانہ​
ترجمہ: فاسق لوگ بڑی صفائی سے اپنی قوم پر بُزرگی کریں گے۔ پھر ان بُزرگوں کے گھروں میں ویرانی آئے گی۔
احکام دیں اسلام چوں شمع گشتہ خاموش
عالم جہول گردد جاہل بہ عالمانہ​
ترجمہ: دینِ اسلام کے احکام شمع کی مانند خاموش ہو جائیں گے۔ عالم جاہل ہو جائیگا۔ جاہل گویا عالم بن جائے گا۔
آں عالمانِ عالم گردند ہمچوں ظالم
نا شستہ روئے خود را بر سر نہند عمامہ​
ترجمہ: وہ دنیا کے عالم ظالموں کی طرح ہو جائیں گے۔ اپنے نہ دھوئے ہوئے چہرے کو سر پر دستار فضیلت رکھ کر سجائیں گے۔
زینت دہند خود را با طرہ و جبہ
گئو سالہ سامری را باشد درون جامہ​
ترجمہ: اپنےآپ کوطرہ اورجبہ قبا کےذریعےعزت دیں گے۔گویاسامری جادوگر کےبچھڑے کولباس کےاندر چھپا لیں گے۔
زاہد مطیع شیطاں ، عالم عدو رحمٰن
عابد بعید ایشاں ، درویش با ریانہ​
ترجمہ: زاہدشیطان کی اطاعت کرنےوالےاورعالم رحمان سےدشمنی کرنےوالےہونگے،جبکہ عابدعبادت سےدوراوردرویش ریا کاری کرنےوالے ہوں گے۔
رسم و رواج ترسا ، رائج شود بہ ہر جا
بدعت رواج گردد نیز سنت غائبانہ​
ترجمہ: عیسائیوں جیسا رسم و رواج ہر جگہ رائج ہو گا۔ بدعت رواج پا جائیگی۔سنت پیغمبری غائب ہو گی۔
ناگاہ مومناں را شور پدید آید
با کافراں نمایند جنگے چوں رستمانہ​
ترجمہ: اچانک مسلمانوں کو ایک ظاہر شور سنائی دے گا، کافروں کے ساتھ ایک دلیرانہ جنگ لڑی جائیگی۔
تشریح: یہ شعر اور اس کے بعد اگلے چار شعر واضح طور پر ٦ ستمبر ١٩٦٥ء کی پاک بھارت جنگ کو ظاہر کرتے ہیں۔
شمشیر ظفر گیرند با خصم جنگ آرند
تا آنکہ فتح پابند از لطف آں یگانہ​
ترجمہ: یہ (پاک فوج) فتح والی تلوار پکڑ کر دشمن کے ساتھ جنگ کریں گے۔حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے فتح حاصل کر لیں گے۔
از قلب پنج آبی خارج شوند ناری
قبضہ کنند مسلم بر شہر غاصبانہ​
ترجمہ: پنجاب کے قلب سے ناری (جہنمی) لوگ بھاگ جائیں گے۔ مسلمان شہر پر غاصبانہ قبضہ کر لیں گے۔
تشریح: ایک لحاظ سے لاہور کو پنجاب کا دل کہا جاتا ہے، ٦٥ء کی جنگ میں دشمن کی فوجیں اچانک حملہ کر کے لاہور کے شالا مار باغ سے چند میل دور باٹا پور کے قرب و جوار تک پہنچ گئی تھیں۔ لیکن پاک فوج کی سخت مزاحمت سے وہ بی آر بی نہر کو کراس نہیں کر سکیں۔ بی -آر۔بی پُل کے ساتھ سڑک کے کنارے ان عظیم شہداء کی یادگار کھڑی ہے جنہوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کر کے لاہور کا دفاع کیا۔ دوسرے معنوں میں یہ شعر واہگہ سرحد کے قریب ہندوستان کے اندر کھیم کرن شہر پر پاک فوج کے قبضہ کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
از لطف و فضل یزداں بعد از ایام ہفدہ
خوں ریختہء و قربان دادند غازیانہ​
ترجمہ: سترہ روز کی جنگ کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسلام کے غازی خونریزی کر کے اور قربانی دے کر کامیاب ہونگے۔
تشریح: اس جنگ میں ”ایام ہفدہ“ (١٧ دن) کے الفاظ کہہ کر حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے ٨٠٠ سال قبل ٦ ستمبر ١٩٦٥ء پاک بھارت کی سترہ روزہ جنگ، نہ ایک دن کم ، نہ ایک دن زیادہ، کی بات کرکے اپنی پیشنگوئی کا لوہا منوایا ہے۔
درحین بے قراری ہنگام اضطراری
رحمے کند چو باری بر حال مومنانہ​
ترجمہ: اس بے قراری اور اضطراب کے وقت ذات باری تعالیٰ مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائیں گے۔
مومنان میر خود را از سفینہ تنزیل سازند
بر مسلماں بیاید تذلیل خاسرانہ​
ترجمہ: مسلمان اپنے امیر (صدر) کو اپنی حماقت سے (عہدہ صدارت) سے اتار دیں گے۔ اس کے بعد مسلمانوں پر خسارہ والی ذلت آئے گی۔
تشریح: ١٩٦٥ء کی جنگ کے تذکرے کے بعد اس شعر میں صدر محمد ایوب خاں کو مسند سے اتارنے کے عمل کو مسلمانوں کے لئے نقصان دہ امرقرار دیا گیا ہے۔
خونِ جگر بنوشم از رنج با تو گوئم
للہ ترک گردان آن طرز راہبانہ​
ترجمہ: میں اپنےجگرکاخون پی کربڑے رنج وغم سےتجھےکہتا ہوں کہ خدا کےلئے وہ راہبوں والا طریقہ ترک کر دیں۔
قہر عظیم آید بہر سزا کہ شاید
آخر خدا بہ سازد یک حکم قاتلانہ​
ترجمہ: ایک بہت بڑا قہر آئیگا جو سزا کے طور پر ہو گا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ ایک قاتلانہ حکم جاری کر دیں گے۔
کشتہ شوند مسلماں افتاں شوند خیزاں
از دست نیزہ بنداں یک قوم ہندوآنہ​
ترجمہ: ایک اسلحہ بند ہندو قوم کے ہاتھوں مسلمان گرتے پڑتے اور اُٹھتے ہوئے جان سے مارے جائیں گے۔
مشرق شود خرابے از مکر حیلہ کاراں
مغرب دہند گریہ بر فعل سنگدلانہ​
ترجمہ: مشرقی پاکستان حیلہ کاروں کے فریب سے تباہ ہو گا۔ جبکہ مغربی پاکستان والے اپنے سنگدلانہ فعل پر گریہ و زاری کریں گے۔
تشریح: اہل فہم و فراست پاکستان کے حکمرانوں اور مغربی پاکستان کے بااختیار بیوروکریسی کے متعصبانہ، جانبدارانہ اور غیر منصفانہ پالیسیوں کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔
ارزاں شود برابر جائیداد و جان مسلم
خوں می شود روانہ چوں بحر بیکرانہ​
ترجمہ: مسلمانوں کی جان اور جائیداد یکساں طور پر سستی ہو گی۔ایک بحر بیکراں کی طرح مسلمانوں کا خون رواں ہو گا۔
شہر عظیم باشد، اعظم ترین مقتل
صد کربلا چوں کربل باشد بخانہ خانہ​
ترجمہ: ایک بہت بڑا شہر (ڈھاکہ) ایک بہت بڑا مقتل بنے گا۔کربلا کی طرح سینکڑوں کربلائیں گھر گھر سے رونما ہوں گی۔
رہبر ز مسلماناں در پردہ یار آناں
امداد دادہ باشد از عہد فاجرانہ​
ترجمہ: مسلمانوں کے رہبر ( شیخ مجیب الرحمٰن وغیرہ) در پردہ بھارتی فوج کے دوست ہونگے اور اپنے فاجرانہ اقرار سے انہیں امداد دیں گے۔
ایں قصہ بین العیدین از شین و نون شرطین
سازد ہنود بدرا مغلوب فی زمانہ​
ترجمہ: یہ واقعہ دو عیدوں کے درمیان رونما ہو گا جبکہ سورج پچاس درجہ پر ہو گا اور چاند شرطین کی منزل میں ہو گا۔ اس وقت ہندو ہر بڑے آدمی کو مغلوب کر دے گا۔ در اصل شین سے شمس مراد ہے اور نون سے پچاس درجہ، شرطین سے چاند کی دو تاریخ مراد ہے۔( یہ واقعہ ٢٢ نومبر ١٩٧١ء کو صدر یحییٰ خان کے دور میں رونما ہوا)
یہ بات قابل توجہ ہے کہ اب تک پچھلے صفحات میں حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی کے جو چیدہ چیدہ اشعار گزرے ہیں۔ ان میں بعض مقامات پر واقعات کے لحاظ سے ترتیب اور تسلسل قائم نظر نہیں آتا ۔ بہ الفاظ دیگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ درمیان سے کچھ اشعار غائب ہو گئے ہیں یا پھر صدیوں سے اصل قلمی نسخہ سے نقل در نقل کر کے کچھ اشعار آگے پیچھے ہو گئے ہیں لیکن ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ یہ تمام اشعار ماضی قریب یا بعید کے واقعات اور حوادث بیان کرتے ہیں۔ جبکہ آج سے تقریبا ٧٠ برس پہلے کے واقعات کی تصدیق کیلئے ہمارے درمیان اب بھی ایسے ہزاروں بزرگ عینی شاہدین موجود ہیں جنہوں نے نہ صرف قیام پاکستان بلکہ اس سے قبل جنگ عظیم دوئم وغیرہ کے واقعات بھی اپنی آنکھوں سے دیکھے جو اس پیشنگوئی کی سچائی اور صداقت پر مہر ثبت کرتے ہیں۔ اسی طرح پانچ چھ سو سال قبل کی تاریخ کے مطابق نعمت اللہ شاہ ولی نے اپنے گزرے ہوئے پیشنگوئی کے اشعار میں خاندان مغلیہ کے قریبا تمام بادشاہوں کے ناموں اور ان کی مدت حکمرانی کا ذکر کیا ہے۔

***************

حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی < حصہ سوئم >

<حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشنگوئی < حصہ سوئم 

نعمت اللہ شاہ ولی کی آج کے بعد والے واقعات سے متعلق پیشنگوئی جو پیدا شد ردیف کےساتھ اپنےاشعاروں کی گئ

بعد از تذلیل شاں از رحمتِ پروردگار
نصرت و امداد از ہمسائیگاں پیدا شود​
ترجمہ: ان کی ذلت کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت سے نصرت اور امداد پڑوسی ملکوں سے ظاہر ہو گی۔
لشکر منگول آید از شمال بہر عون
فارس و عثمان ، ہمچارہ گراں پیدا شود​
ترجمہ: منگول لشکر شمال کی جانب سےمدد کیلئےآئیگا۔ایران(فارس) والےاورترکی (عثمان) والےبھی مددگارثابت ہوں گے۔
ایں ہمہ اسباب عظمت بعد حج گردد پدید
نصرتے از غیب چوں بر مومناں پیدا شود​
ترجمہ: کامیابی کے یہ تمام اسباب حج کے بعد ظاہر ہوں گے جب مسلمانوں کو غیب سے مدد اور نصرت آن پہنچے گی۔
قدرت حق میکند غالب چناں مغلوب دا
از عمق بینم کہ مسلمان کامراں پیدا شود​
ترجمہ: اللہ تعالیٰ اس طرح اپنی قدرت سے مغلوب کو غالب کر دے گا۔ میں گہری نظر سے دیکھ رہا ہوں کہ مسلمان فاتح اور کامران ہوں گے۔
تشریح: اہل علم اور تاریخ دان دنیا کی قریبا تمام قوموں کو چار بڑی قوموں آریہ، منگولیہ، حبشیہ اور یورپیہ کی مختلف ذیلی شاخیں سمجھتے ہیں۔ اہل یورپ گورے اور سرخ و سفید ہوا کرتے ہیں۔ اہل حبشہ سیاہ رنگ کے لوگ ہوتے ہیں جو زیادہ تر افریقہ میں آباد ہیں۔ آریہ سے مراد ہندوستان، پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے لوگ ہیں۔ جبکہ منگولیہ چین اور انڈونیشیا کے باشندے ہیں، لہذا گزرے ہوئے شعر میں پاکستان کی مدد کیلئے شمال کی طرف سے آنیوالا ”لشکر منگول“ چائنا ہی کی فوج کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ امر غور طلب ہے کہ چونکہ چائنا کی افواج اب تک پاکستان آئی ہی نہیں ہیں۔ اسلئے پچھلے چار اشعار کی پیشنگوئی کا ماضی کے بجائے مستقبل سے زیادہ تعلق محسوس ہوتا ہے۔
جیسے کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ مذکورہ پیشنگوئی کے سینکڑوں اشعار دستیاب نہیں ہیں اس لئے بعض مقامات پر عدم تسلسل اور خلاء کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن رونما ہونے والے حوادث اور واقعات کا خاطر خواہ تسلسل اور ربط آگے آنیوالے، غاصبانہ، فاتحانہ اور بیکرانہ کے قافیہ والی پیشنگوئی کے اشعار میں زیادہ واضح اور نمایاں نظر آتا ہے۔ لیکن بعض اشعار کا آگے پیچھے ہو جانا خارج از امکاں نہیں اسی لئے واقعات کی ترتیب میں جا بجا بگاڑ کا اندیشہ ہوتا ہے۔
پانصد و ہفتاد ہجری بوچوں ایں گفتہ شُد
قادر مطلق چنیں خواہد چناں پیدا شود​
ترجمہ: جب یہ اشعار کہے گئے تو اس وقت ٥٧٠ ہجری (بمطابق ١١٧٤ عیسوی) ہے۔لہذاخدائے بزرگ وبرتراسطرح چاہتے ہیں اوراسی طرح ظاہرہو گا۔
چوں شود در دور آنہا جور و بدعت را رواج
شاہ غربی بہر و فعش خوش عناں پیدا شود​
ترجمہ: جب اس کے دور میں ظلم و بدعت رواج پا جائے گا تو غرب کا بادشاہ ان کو دفع کرنے کیلئے حکومت کی اچھی باگ دوڑ سنبھالنے والا پیدا ہو گا۔
قاتل کفار خواہد شد شہ شیر علی
حامی دین محمدً پاسباں پیدا شود​
ترجمہ: شیر علی شاہ کافروں کو قتل کرنے والا ہو گا اور سید المرسلین اور خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دین کی حمایت کرنے والا ہو گا اور ملک کے پاسباں کے طور پر ظاہر ہو گا۔
تشریح: لیکن اس نام کی کوئی شخصیت ابھی سامنے نہیں آئی، شاید مستقبل میں ظاہر ہو۔
درمیان ایں و آں گردد بسے جنگ عظیم
قتل عالم بے شبہ در جنگ شاں پیدا شود​
ترجمہ: اسی دوران ایک بڑی جنگِ عظیم لڑی جائیگی۔ اس جنگ سے ایک عالم کا قتل بغیر شک و شُبہ ظاہر ہو گا۔
فتح یا بدشاہ غربستان بزور تبر و تیغ
قوم کافر را شکست بے گماں پیدا شود​
ترجمہ: شاہ غربستان ہتھیاروں اوراسلحہ کےزور پر فتح حاصل کرے گا،جبکہ کافرقوم کو ایسی شکست سےدوچارہونا پڑےگاجوکسی کےوہم وگمان میں بھی نہ ہوگی۔
اب پیشن گوئی بارے یہ شعر بہت معنی خیز اور اور ٹھوس وضاحت کے ساتھ وقت کے تعین کا تقاضا کرتا ہے۔
غلبہء اسلام باشد تا چہل در ملک ہند
بعد ازاں دجال ہم از اصفہاں پیدا شود​
ترجمہ: اسلام کاغلبہ چالیس سال تک ہندوستان کےملک میں رہےگا۔اس کےبعد دجال ایران کےشہراصفہان سےظاہر ہو گا۔
دجال کے اچانک ظاہر ہونے کی خبر دینے والے اس شعر سے پہلے اور کئی شعر گزرے ہوں گے جن کے بارے وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشن گوئی کے اشعار کا وسیع ذخیرہ ایک ہی جلد میں ٨٥٠ سال کے طویل عرصہ کے بعد دستیاب ہونا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ بہرحال تحقیق اور تلاش کا دروازہ اربابِ ذوق و شوق کے لئے کُھلا ہے، اس میں شک نہیں کہ ایسے نایاب خزانوں کو ڈھونڈنے کیلئے ایک والہانہ جذبہ ضروری ہے۔
حضرت نعمت اللہ شاہ ولی ”پیدا شود“ کی ردیف میں اپنے آخری تین اشعار میں پیشن گوئی کرتے ہوئے انسان پر لرزہ طاری کر کے اسے عین قیامت کے کنارے کھڑا کر دیتے ہیں:
از برائے دفع آں دجال مے گوئم شنو
عیسیٰ آید مہدی آخر زماں پیدا شود​
ترجمہ: اس کافر دجال کو دفع کرنے کیلئے میں بیان کرتا ہوں غور سے سُنو حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے اور حضرت مہدی علیہ السلام آخر الزماں ظاہر ہوں گے۔
اور یوں حضرت نعمت اللہ شاہ ولی پیشنگوئی کے قصیدے کے ”پیدا شود“ ردیف کے آخری شعر (مقطع) میں اپنا نام لے کر آنے والے پر اسرار واقعات پر اپنی روحانی مہر ثبت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
آگہی شد نعمت اللہ شاہ از اسرار غیب
گفتہ او بر مہر و ماہ بے گماں پیدا شود​
ترجمہ: نعمت اللہ شاہ ولی غیب کے رازوں سے باخبر ہوا، لہذا اس کا کہا ہوا دنیا میں، کائنات میں، زمانے میں بغیر کسی شک و شبہ کے ظاہر ہو گا۔

نعمت اللہ شاہ ولی کی آج کے بعد والے واقعات سے متعلق پیشنگوئی جو مے بینم ردیف کےساتھ اپنےاشعاروں کی گئ

نعمت اللہ شاہ ولی کے ”پیدا شود“ کی ردیف میں بیان کیے گئے پیشنگوئی کے آخری تین اشعار کی مزید وضاحت کیلئے ہم ان کے ”مے بینم“ کی ردیف کے چند اشعار بیان کرتے ہیں۔
نائب مہدی آشکار شود
بلکہ من آشکار مے بینم​
ترجمہ: نائب مہدی کا ظہور ہو گا بلکہ میں تو اسے ظاہر دیکھ رہا ہوں۔
قائم شرع و آل پیغمبر
در جہاں آشکار مے بینم​
ترجمہ: میں پیغمبر کی شرع کا قائم کرنے والا جہاں میں صاف ظاہر دیکھ رہا ہوں۔
صورت نیمہ ہمہ خورشید
بنظر آشکار مے بینم​
ترجمہ: میں اس کی صورت دوپہر میں چمکنے والے سورج کی مانند دیکھ رہا ہوں۔
سمت مشرق زیں طلوع کند
ظہور دجال زار مے بینم​
ترجمہ: میں اس کی مشرق کی جانب سے دجال لعین کا ظہور دیکھ رہا ہوں۔
رنگ یک چشم او بہ چشم کبود
خرے بر خر سوار مے بینم​
ترجمہ: اس کی ایک آنکھ میں پھولا ہو گا جبکہ میں اس کوایک گدھے پر سوار دیکھ رہا ہوں۔
لشکر او بود اصفہاں
ہم یہود و نصاریٰ مے بینم​
ترجمہ: اس کا لشکر اصفہاں میں ہو گا۔ میں اس کو یہود اور نصاریٰ کے لشکر کے ساتھ دیکھ رہا ہوں۔
ہم مسیح از سماء فر ود آید
پس کوفہ غبار مے بینم​
ترجمہ: حضرت مسیح بھی آسمان سے اتر آئیں گے۔ میں کوفہ میں غبار دیکھ رہا ہوں۔
از دم تیغ عیسیٰ مریم
قتل دجال زا رمے بینم​
ترجمہ: میں حضرت عیسیٰ کی تلوار سے دجال لعین کا قتل دیکھ رہا ہوں۔
زینت شرع دین از اسلام
محکم و استوار مے بینم​
ترجمہ: اسلام کی شریعت سے دین کی زینت ہو گی۔ میں دین کو محکم اور استوار دیکھتا ہوں۔
نہ وردے بخود نمے گوئم
بلکہ از سر یار مے بینم​
ترجمہ: یہ وارداتیں میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ میں ذات باری تعالیٰ کے رازوں کو دیکھتا ہوں۔
نعمت اللہ نشستہ در کنجے
ہمہ را در کنار مے بینم​

 
| Bloggerized by - Premium Blogger Themes |