Ads

Showing posts with label Personalities. Show all posts
Showing posts with label Personalities. Show all posts

Tuesday, August 30, 2022

شیرشاہ سوری (فرید خان)

 شیرشاہ سوری (فرید خان)

وہ پٹھان سردار جس نے ہندوستان پر5 سال حکومت کی۔ اور ایسی حکمرانی کی جو 6 صدیوں بعد بھی  بھی اچھی حکمرانی کیلئے ایک معیار ہے۔

یہ 1528 کی بات ہے، ہندوستان کے دارالحکومت آگرہ میں گہما گہمی ہے۔ مغل بادشاہ ظہیرالدین محمد بابر چندیری کی فتح کے بعد آگرہ لوٹ آئے ہیں اور بابر کی حکمرانی ہندوستان پر قائم ہو چکی ہے۔فتوحات کے ساتھ شاہی ضیافت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امرا اور سرداروں کی دعوت میں طرح طرح کے کھانے آئے دن لگائے جاتے ہیں۔ ایک دن اسی قسم کی ایک ضیافت میں 


مرغ،مچھلی، ہرن کےگوشت، کباب، پلاؤ، نان کےساتھ مختلف کھابوں میں ماہیچےبھی دسترخوان پررکھےگئ

بادشاہ بابر بھی اپنے امیروں اور وزیروں کے ساتھ وہاں موجود ہیں کہ ان کی نگاہ ایک  پٹھان سردار پر پڑتی ہے جو  اپنے انداز میں خنجر نکال کر اس کی قاش کر کے اسے آرام سے کھا رہا ہے۔

بادشاہ بابر کےدل میں اس کے چہرے کے اطمینان اور اس کے کھانے کے انداز کو دیکھ کر تشویش پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے پاس موجود اپنےوزیراعظم اور افغان سردار شاہ جنید کے بھائی میرخلیفہ وزیراعظم سےکہتے ہیں کہ اس شخص کے آثار سے معلوم ہوتا ہےکہ یہ خلفشار کا باعث بنےگا،اسے فورا گرفتار کرلیا جائے۔

خلیفہ وزیر اعظم نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ اس کو گرفتار کروانا خلاف مصلحت ہو گا اورپٹھان سرداروں میں یہ تاثر جائے گا کہ بادشاہ پختونوں کےخلاف ہے۔

گرفتاری کاحکم تو منسوخ کر دیا گیا لیکن بابر کو تسلی نہ ہوئی اور انھوں نے کہا کہ اس پر کڑی نظر رکھی جائے اور اس کے احوال سےانھیں باخبرکھا جائے کیونکہ ’وہ بہت چالاک آدمی ہے اور اس کی پیشانی پر حکومت کے آثار نمایاں ہیں۔‘میں نے کتنے ہی افغان سورما دیکھے ہیں لیکن کسی نے بھی مجھےپہلی ملاقات میں اتنا متاثر نہیں کیا جتنا اس شخص نےکیا ہے۔اس کےجاہ و جلال کے آثار ہمارے لیےخطرناک ہو سکتے ہیں۔‘

ادھر اس پٹھانسردار نے بادشاہ کو اپنی جانب کینہ توز نظروں سے دیکھتے اور اپنے وزیر سے بات کرتے دیکھا۔ فاصلے کی وجہ سے باتیں تو نہیں سن سکا لیکن جہاندیدہ سردار نے سمجھ لیا کہ بات اسی کے بارے میں ہو رہی ہے اور بادشاہ کی نیت ٹھیک نہیں۔

چنانچہ کھانے سے فراغت کے بعد وہ وہاں سے نکلا اور پھر اس نے کسی کو بتائے بغیر ہی آگرہ چھوڑ دیا۔ یہ سردار کوئی اور نہیں بلکہ مغلوں کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور اور ہندوستان سے بے دخل کرنے والا پٹھان اور سلطنت سور کا بانی شیر شاہ سوری تھا۔     

شیرشاہ سوری (فرید خان) سے متعلق بادشاہ ظہیرالدین بابرکا خدشہ ان کی موت کے بعد درست ثابت ہوا اور دس سال بعد تو وہ کسی پیشگوئی کی طرح بالکل سچ ثابت ہوا جب شیر شاہ سوری نے بابر کے جانشین اور مغل حکمران ہمایوں کو ہندوستان سے بے دخل کر دیا۔

شیر شاہ سوری نے شمالی ہندوستان پر مکمل طور پر فقط پانچ سال (17 مئی 1540 سے 22 مئی 1545) حکومت کی لیکن انھوں نے تاریخ میں اپنا ایک ان مٹ نقش چھوڑا۔

 میں ان کا حسن انتظام ایک ایسا روشن مینارہ ہے جس سے ان کے بعد آنے والے بادشاہوں بطور خاص مغل بادشاہ اکبر نے رہنمائی حاصل کی اور ملک گیری میں ان کی ڈالی طرز کو پروان چڑھایا۔

ان کا چلایا ہوا روپیہ آج نہ صرف انڈیا اور پاکستان میں رائج ہے بلکہ کئی اور ممالک میں بھی اسی نام کی کرنسی زیر استعمال ہے۔ روپیہ تو پہلے بھی رائج تھا لیکن اس کی مقدار طے نہ تھی۔

شیرشاہ سوری کی ابتدائی حالات زندگی

شیرشاہ کی پیدائش کے بارے میں تاریخ دانوں میں اتفاق نہیں لیکن اکثریت کا خیال ہے کہ وہ 1486 میں حصار یعنی آج کی انڈین ریاست ہریانہ میں پیدا ہوئے۔ اس طرح وہ بادشاہ بابر سے تقریباً تین سال چھوٹے تھے لیکن کئی جگہ آتا ہے کہ وہ ان کے ہم عمر تھے۔

شیرشاہ کا اصل نام فرید خان تھا او حسن خان کے پہلے بیٹے تھے۔ حسن خان کے والد ابراہیم خان سلطان بہلول لودھی کے دور میں ہندوستان آئے تھے اور اور جاگیر حاصل کی تھی۔

فرید خان کے والد حسن خان نے کالکاپور کے مسند اعلیٰ اور سلطان بہلول کے منظور نظر وزیر عمر خان سروانی کے یہاں ملازمت اختیار کی جنھوں نے پرگنہ شاہ آباد میں کئی گاؤں حسن خان کو بطور جاگیر عطا کیے۔ سکندر لودھی کے عہد میں جب جمال خان کا اقبال بلند ہوا تو انھوں نے حسن خان کو ان کے والد ابراہیم خان کی جاگیر کے علاوہ 500 گھڑ سواروں کا افسر مقرر کیا اور ان کی ملکیت میں بنارس کے پاس سہسرام، حاجی پور اور ٹانڈہ کی جاگیریں عطا کیں۔

فرید خان کے والد حسین خان نے تین شادیاں کررکھی تھی۔ جن میں دو پختون تھی اور ایک ہندو تھی۔ فریدخان سے حسن خان کی پہلی بیوی سے ان کا سب بڑا بیٹا تھا۔

حسن خان اپنی محبوب نظر بیوی کی خوشی کے لیے اپنے بیٹے فرید خان سےدور رہنے لگے۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ حسن خان نےجائیداد کے اختیارات فرید خان کو دے رکھی تھی۔ لیکن حسن خان کی ہندو بیوی یہ اختیارات اپنے بیٹھوں کو دینا چاہتی تھی۔ جس کیلئے حسن کی اس کی بیوی کی بار بار اس پر بحث نے حسن خان کی زندگی اجیرن کررکھتی تھی۔ 

جس کا احساس فرید خان کو ہو گیا اور وہ روٹھ کر جونپور جمال خان کے ہاں چلے گئے، جہاں انھوں نے اپنی نوجوانی تعلیم کے حصول میں لگائی اور اس کی بدولت ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی۔

شیر شاہ سوری کے دور پر نظر رکھنے والے اہم تاریخ داں کالکا رنجن قانون گو نے شیر شاہ کے علمی شغف اور کثیرالمطالعہ ہونے کی خصوصیت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’بچپن میں ادب کے مطالعے نے اسے اس کی فوجی زندگی کی راہ میں ممتاز کر دیا جس پر چل کر شیواجی، حیدرعلی اور رنجیت سنگھ جیسے ان پڑھ بہادر عام انسان اور معمولی سطح سے اونچے اٹھ کر شہنشاہ بننے کی سعادت حاصل کر لیتے ہیں۔ ہندوستان کی تاریخ میں ہمیں کوئی دوسرا ایسا شخص نہیں ملتا جس نے اپنی ابتدائی زندگی میں غیر فوجی ہوتے ہوئے کسی حکومت کی بنیاد رکھی ہو۔‘

فرید خان کی ابتدائی حالات اور سوتیلی ماں کے سلوک نے غور و خوض اور فکر و تدبر کی طرف مائل کیا تھا۔ بہت سے تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ اگر ان کی زندگی میں سوتیلی ماں نہ ہوتی تو ان میں اتنی اولوالعزمی پیدا نہیں ہوتی اور ان کی فطرت میں وہ لچیلاپن نہیں ہوتا جو ان کی ترقی کا ضامن بنا۔

شیرشاہ سوری فرید خان سے شیر خان اور اور پھر شیر سوری کیسے بنے۔

فرید خان کو ان کے والد حسن خان نے کئی قصبوں کا انتظام سونپا اور فرید کے حسن انتظام کا جب چرچا عام ہوا تو والد کو خوشی ہوئی لیکن سوتیلی والدہ کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔

فرید خان نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فرائض سے دستبرداری کا اعلان کیا اور اپنی جداگانہ راہ اختیار کی۔ اس وقت ہندوستان میں ابراہیم لودھی کی حکومت تھی لیکن بہت سے علاقوں میں شورش تھی اور باغی افغانوں کے سردار دریا خان لوہانی کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے بہار خان لوہانی نے اپنی خود مختار حکومت کا اعلان کر دیا۔

فرید خان کے پرگنے بہار خان کی سلطنت میں شامل تھے اس لیے انھیں یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ ان کی بقا بہار خان کے ساتھ ہے۔

تاریخ داں ودیا بھاسکر نے اس وقت فرید خان کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے ’شیر شاہ سوری‘ نامی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’فرید خان فطرتاً وفادار، جفاکش اور جانثار انسان تھے، انھیں یہ فیصلہ کرنے میں دیر نہ لگی کہ بہار خان لوہانی کی خدمت گزاری میں ہی ان کا فائدہ ہے۔۔۔ بہار خان کو بھی جلد ہی معلوم ہو گیا کہ فرید خان لائق، محنتی، وفادار اور جانثار ہونے کے ساتھ ساتھ ہر لحاظ سے قابل اعتماد ہیں۔‘

چنانچہ دونوں کے درمیان قربت بڑھتی گئی اور دوستی مضبوط تر ہوتی گئی۔ اس دوران بہار خان نے سلطان محمد کا لقب اختیار کر کے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیا اور بہار کو آزاد صوبہ قرار دے کر اپنا سکہ جاری کیا۔

اس سے ذرا قبل ہی پانی پت کی پہلی جنگ میں بابر نے ابراہیم لودھی کی بڑی فوج کو شکست دے کر ہندوستان کا تخت حاصل کر لیا تھا۔اسی ہم نشینی کے دوران ایک بار بہار خان کے ساتھ فرید خان شکار پر گئے۔

جنگل میں گھومتے تھے کہ اچانک ان کی جانب شیر آ گیا اور شیر نے فرید کی طرف چھلانگ لگا دی، فرید نے شیر کا وار خالی جانے دیا اور اسی دوران تلوار سے ایسا وار کیا کہ ایک ہی ضرب میں شیر ڈھیر ہو گیا۔ چاروں طرف سے مرحبا اور آفریں کی صدائیں بلند ہونے لگی۔

بہار خان فرید خان کی اس بہادری سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اس نے انھیں شیر خان کا خطاب عطا کیا اور اپنے بیٹے کا اتالیق مقرر کر دیا۔ لوگ پھر فرید خان کو شیر خان کے نام سے ہی پکارنے لگے اور اس کے بعد یہی ان کی شناخت بن گئی۔

مغلوں کی ملازمت

چنانچہ بہار خان کی بادشاہت کے اعلان کے بعد بابر نے مشرق میں سرکوبی کے لیے روانگی کا ارادہ کیا تو ہمایوں نے اس مہم کے لیے اپنا نام پیش کیا اور بابر نے ہمایوں کو اجازت دی اور ہمایوں نے باغی پٹھانوں کی سرکوبی کی لیکن اس دوران شیر خان نے اپنا اعتماد کھو دیا اور اپنی جاگیر اپنے سوتیلے بھائیوں کے حوالے کر کے مغلوں کی حکومت کے گورنر جنید برلاس کو امان کی یقین دہانی کے بعد ان کے پاس جونپور پہنچے۔

16 مارچ سنہ 1527 میں کھانوا (کنوا) کی جنگ کے بعد جنید برلاس کے ساتھ شیر خان بھی بابر کے دربار میں پہنچے جہاں انھوں نے تقریباً سوا سال تک مغل فوج میں خدمات انجام دیں۔ اسی دوران جنید اور وزیر اعظم کے کہنے پر بابر بادشاہ نے شیر خان کو سہسرام میں ان کی جاگیر عطا کی۔

لیکن بابر کے دسترخوان پر شیر خان کی اُس حرکت نے بابر کے دل میں تشویش پیدا کر دی لیکن یہاں ماہیچہ کھانے کی وضاحت ضروری ہے جس سے کوئی بھی پریشان ہو سکتا ہے تو پھر بادشاہ بابر جیسا شخص کیوں نہ تشویش کا شکار ہوتا۔

لکھنؤ کی خواجہ معین الدین چشتی یونیورسٹی میں پروفیسر ثوبان سعید نے فارسی لغات کے حوالے سے بتایا کہ ماہیچہ کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک جگہ اسے سویوں اور دودھ سے بنائی جانے والی فیرنی جیسی چیز کہا گیا ہے جبکہ ایک جگہ اسے آٹے کے اندر گوشت یا مچھلی ڈال کر بنائے جانے والی ڈش کہا گیا ہے۔ ان دونوں کو چمچے سے کھایا جاتا ہے نہ کہ کٹار یا خنجر سے کاٹ کر۔

انھوں نے بتایا کہ خان صاحب کے غصے کا ذکر کئی جگہ آیا ہے کہیں مذاقاً تو کہیں واقعتاً۔ انھیں بہت جلد بازی تھی اور وہ بہت تپاکی بھی تھے لیکن بعض مؤرخین انھیں معاملہ فہم اور سلجھا ہوا کہتے ہیں۔

بادشاہ اکبر کے دربار میں افغانوں کی تاریخ رقم کرنے پر مقرر کیے جانے والے درباری عباس خان سروانی کی شیر شاہ سے رشتہ داری تھی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ وہ شروع سے حوصلہ مند تھے اور مغلوں سے حکومت حاصل کرنے کا خیال رکھتے تھے جبکہ دوسرے افغان انھیں سرپھرا اور شيخی باز سمجھتے تھے۔

وہ شیر شاہ کو سکندر ثانی کہتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ ’چندیری کی مہم میں سکندر ثانی (شیر شاہ) ظل سبحانی بابر بادشاہ کے لشکر کے ساتھ تھا۔ شیخ ابراہیم سروانی نے مجھ سے آ کر کہا آؤ شیر خان سور کے پاس چلیں اور باتیں وہ اپنے مرتبے سے ایسی زیادہ کرتا ہے کہ لوگ ہنستے ہیں۔‘

’ہم سوار ہو کر اس کے ڈیرے گئے۔ باتوں باتوں میں شیخ ابراہیم نے کہا مشکل ہے کہ ملک ہندوستان پھر پٹھانوں کے ہاتھ آئے اور مغل ہندوستان سے خارج ہوں۔ شیر خان نے شیخ محمد کو کہا تو گواہ رہیو کہ میرے اور شیخ ابراہیم کے درمیان جو بات ہوتی ہے۔ اگر میرے طالع نے یاوری کی تو تھوڑے دنوں میں مغلوں کو ہند سے نکال دوں گا۔‘

’اس لیے کہ مغل تلوار کی لڑائی میں پٹھان سے زیادہ نہیں ہیں۔ آپس کی مخالفت کے سبب پٹھانوں نے ہند کا ملک اپنے ہاتھ سے دیا۔ جب سے میں مغلوں میں آیا اور ان کی لڑائی کا معلوم کیا تو پایا کہ ان کے پاؤں لڑائی میں نہیں ٹھہرتے اور بادشاہ ان کا اعلیٰ نسبی اور بلند مرتبے کے باعث اپنی ذات سے تدبیر ملک میں متوجہ نہیں ہوتا اور امور مملکت کی مہمات کو اپنے امرا اور ارکان دولت کو سونپ دیتا ہے۔

’اور ان کے قول و فعل پر اعتماد کرتا ہے اور دے رعیت اور سپاہی اور زمیندار جو حرام خور ہیں ان کے برآمد کار کے لیے دام رشوت میں گرفتار ہیں۔ بھلا برا سب پیسے کے زور سے اپنے کام نکالتا ہے۔۔۔ زر کی طمع کے سبب سے دوست و دشمن میں آپ فرق نہیں کرتے۔ اگر اقبال نے یاوری کی تو شیخ جی دیکھو گے یا سنو گے کہ پٹھانوں کو اس طرح قابو میں کروں کہ متفرق نہ ہونے دوں۔‘

اور شیر خان کی بات حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ اس سے قبل جب پہلی بار اسے اپنے پرگنے کا انتظام سونپا گیا تھا تو اس نے دوٹوک ریا کی خاطر زمین دار اور پٹواریوں پر لگام ڈالی تھی۔

ادھر بادشاہ بابر کے انتقال کے بعد شیر خان پٹھانوں کو یکجا کرنے میں اور اپنی طاقت کو بڑھانے لگ گیا۔ ان کی پہلی اہم جنگ بنگال کے سلطان محمود کے خلاف تھی۔اور اس میں شیر شاہ نے منفرد جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ بنگال پر شیر شاہ کے قبضے نے ہمایوں کو خواب غفلت سے جگایا جو کہ بابر کی جگہ ہندوستان کے بادشاہ تھے۔

چنار کی فتح

شیر خان کی دوسری اہم فتح چنار کا قلعہ تھا جسے بابر نے پہلے فتح کیا تھا لیکن وہ اس پر تسلط قائم نہ کر سکے اور تاج خان نے بابر کی اطاعت قبول کر کے اس قلعے پر اپنا اقتدار قائم رکھا۔

تاج خان نے ایک پری جمال لاڈ ملکہ کو دل دے دیا اور ان سے شادی کر لی لیکن ان سے کوئی بچہ نہ ہوا جبکہ ملکہ کے پہلے سے تین بیٹے تھے جو اپنے والد کے ساتھ لاڈ ملکہ سے بھی بدظن تھے کہ انھوں نے ان کے باپ کو کٹھ پتلی بنا رکھا تھا۔

چنانچہ لاڈ ملکہ سے چھٹکارہ پانے کے لیے ایک بیٹے نے حملہ کر دیا جب تاج خان کو علم ہوا تو وہ تلوار لے کر نکل آئے۔ عباس خان سروانی کے مطابق اس نے کہا ’تو نے لاڈ پر حملہ کیا ہے اب تو میری تلوار کا مزہ چکھ۔ بیٹے نے یہ سمجھا کہ اب اس کی جان جانے والی ہے تو وہ تلوار کا زخم دے کا بھاگ نکلا لیکن تاج خان جانبر نہ ہو سکے۔‘

اس کے بعد چنار کے قلعے میں انتشار پھیل گیا۔ شیر خان کی نظر اس قلعے پر تھی کیونکہ یہ اس وقت ملک کے گنے چنے قلعوں میں سے ایک تھا اور مشرق کی فتوحات اسی کے راستے تھی۔

اب لاڈ ملکہ قلعے کی مختار کل تھی اور تین سرداروں نے مرتے دم تک ان کی اطاعت کا دم بھرا تھا لیکن شیر خان نے انھیں یہ باور کرایا کہ جب تاج خان کی موت کی خبر بادشاہ کو پہنچے گی تو وہ لاڈ ملکہ کو برطرف کر دے گا اور ان کی جان بھی سلامت نہ رہے گی۔

ودیا بھاسکر لکھتے ہیں کہ ’شیر خان کی باتیں ان سرداروں کی سمجھ میں آ گئیں اور انھوں نے شیر خان سے معاہدہ کر لیا اورلاڈ ملکہ سے کہا کہ بادشاہ سے بچنے کا واحد راستہ ہے کہ قلعہ شیر خان کے حوالے کر دیا جائے بلکہ اس سے نکاح کا بھی مشورہ دے ڈالا۔ وہ اس پر رضا مند ہو گئیں اور شیر شاہ کے سامنے یہ شرط رکھی کہ جس لڑکے نے اس کے خاوند کو ہلاک کیا اس کے ناک کان کاٹ دیے جائیں۔‘

اس سے قبل کہ تینوں بیٹوں کو ان معاہدوں کی خبر ملتی شیر خان بارات لے کر چنار پہنچ گ

تاریخ شیر شاہی کے مصنف عباس سروانی کے مطابق ’دلہن کی جانب سے شیر شاہ کو ڈیڑھ سو نایاب ہیرے، سات من موتی، ڈیڑھ سو من سونا اور طرح طرح کے قیمتی زر و جواہرات ملے۔ تھوڑے عرصے بعد شیر خان نے قرب و جوار کے پرگنوں کو اپنے قبضے میں لے لیا اور ناصر خان کی بیوہ گوہر حسین سے بھی شادی کر لی جہاں سے اسے آٹھ من سونا حاصل ہوا۔‘

شیر خان نے فوج کو سارے مال و دولت کو منظم کرنے پر لگایا۔ جب ہمایوں کو شیر خان کی فتوحات کا علم ہوا تو اس نے فوراً آگرہ سے فوج لے کر لکھنؤ کی طرف کوچ کیا جہاں شیر شاہ نے ہمایوں کو ہندو بیگ کے ہاتھ خفیہ پیغام بھیجا کہ سلطان محمود نے اسے زبردستی اپنی جانب ملا لیا ہے اور جب جنگ اپنے عروج پر ہو گی تو وہ میدان سے نکل جائے گا اور اس نے ایسا ہی کیا۔ سلطان محمود کو شکست ہوئی اور جونپور اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔

شیر خان کو مطالعے کا بہت شوق تھا اور ان کی طبیعت میں لوگوں سے ملنا اور دیس دنیا کی خبر رکھنا سرایت کر چکا تھا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب دوسرے سرداران عیش و عشرت میں مصروف رہتے تھے شیر خان مختلف درباروں سے حالات کے بارے میں آگاہ رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔

چنانچہ جب افغان سرداروں نے شیر شاہ کو قتل کرانے کا منصوبہ بنایا تو انھوں نے اس کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا کہ جونپور کے دربار میں ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ چونکہ صوبیدار بھی اس میں شریک تھا لہذا وہ خفت محسوس کرتا رہا۔ اسی طرح جب ہمایوں نے چنار کا محاصرہ کر رکھا تو شیر شاہ نے پتا لگایا کہ دوسری جگہ کیا احوال ہیں اور انھیں اندازہ ہو گیا کہ ہمایوں وہاں زیادہ دن نہیں ٹھہرے گا۔ چنانچہ ویسا ہی ہوا۔

کس جگہ کتنا مال و دولت ہے اس کا بھی انھیں علم رہتا چنانچہ انھوں نے کئی پرگنوں کو اپنی نگرانی میں صرف اس لیے لیا کہ اس کی دولت پر اس کا تصرف ہو سکے۔

جب شیر شاہ بابر کے ہاں تھے تو وہ فرائض کے انجام دینے کے علاوہ لوگوں سے ملنے ان سے قربت پیدا کرنے میں وقت صرف کرتا تھا۔ بہرحال انھوں نے اپنی جان پہچان اور دوستی سے افغانوں میں اتحاد پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی اور 26 جون سنہ 1539 کو چوسا کی جنگ میں جب اس نے ہمایوں کو شکست دی تو انھوں نے فریدالدین شیر شاہ کا لقب اختیار کیا اور اپنے نام پر سکے ڈھلوائے۔

اس کے اگلے سال یعنی سنہ 1540 میں قنوج کی جنگ میں ہمایوں کو ایسی شکست فاش دی کہ ہمایوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

سنہ 1539-40 کے درمیان شیر خان نے ہمایوں کو پے در پے شکستوں سے دوچار کیا۔ وہ اپنے عمل میں اس قدر موقع شناس تھا کہ جب تک ہمایوں کو ہوش آتا بہت دیر ہو چکی تھی۔

اس سے قبل سنہ 1537 میں ہمایوں اس کی قابلیت کا اندازہ لگائے بغیر آگرے سے نکل پڑے۔ انھوں نے پہلی عسکری غلطی یہ کی کہ شیرخان کو بنگال میں کچلنے کے بجائے وہ بنارس کے پاس چنار کے محاصرے کے لیے رک گئے اور بنگال کو پوری طرح قبضہ کرنے کے بجائے اس کی سرحد پر وقت ضائع کرتے رہے۔

اس بات کا ذکر دوسرے تاریخ دانوں نے بھی کیا ہے۔ شیر شاہ کے پہلے تذکرہ نویس عباس خان سروانی نے لکھا ہے کہ شیر خان نے اپنے بیٹے کو احکامات دے کر قلعے میں چھوڑ دیا اور خود پاس کی ایک پہاڑی پر خمیہ زن ہو گئے جہاں سے انھوں نے ہمایوں کے سارے ذرائع کاٹ دیے اور ان کی فوج کو تقریباً مفلوج کر دیا۔

شیر خان کے مقابلے میں ہمایوں سست جنگجو تھے اور وہ شیر شاہ کی جانب سے لاحق خطرات کا اندازہ لگانے سے قاصر رہے یہاں تک کہ شیر شاہ نے ہمایوں کی نہ صرف رسد بلکہ خط و کتابت کا راستہ بھی منقطع کر دیا۔

ہمایوں کی شکست کا سبب ان کی نااہلی یا فوج کی پست ہمتی نہیں تھی جیسا کہ تاریخ داں مرزا حیدر نے کہا بلکہ یہ شیر شاہ کی لچکدار جنگی حکمت عملی کی مغلوں کی سخت جنگی حکمت عملی پر فتح تھی۔‘

ہمایوں کو شکست دینے کےبعد شیر شاہ نےاس وقت تک اپنی فوج کےساتھ ہمایوں کا پیچھا کیا جب تک کہ انھوں نے ہندوستان نہ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد شیر شاہ نے کسی دوسرے بادشاہ کی طرح اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی اور راجپوتوں کےخلاف محاذ آرائی کی یہاں تک کہ وہ پورے شمالی ہندوستان کےبادشاہ قرار پائے۔

انتظامی صلاحیتیں

شیرشاہ کی جنگی مہمات سے کہیں زیادہ ان کی انتظامی صلاحیتوں کی تعریف ہوتی ہے۔ اگرچہ ان سے قبل علاؤالدین خلجی، محمد بن تغلق اور فیروز شاہ نے اس جانب کچھ توجہ مبذول کی تھی لیکن شیر شاہ نے انتہائی کم عرصے میں بہت ہی انمٹ نقش چھوڑے۔

ودیا بھاسکر کے مطابق انگریز مورخ کین نے شیر شاہ کے انتظام سلطنت کی خاص طور پر تعریف کرتے ہوئے لکھا: ’کسی حکومت نے، یہاں تک کہ برطانوی حکومت نے بھی ملک کے نظم و نسق میں اتنی مہارت کا ثبوت نہیں دیا جتنا شیر شاہ نے دیا۔ انھوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ بہتر نظم و نسق اور عمدہ فوجی تنظیم کے لیے صرف کیا۔ وہ شاہی شان و شوکت کے قائل نہ تھے اور عیش و عشرت کی محفلوں سے کوسوں دور رہتے تھے۔‘

’کہا جاتا ہے کہ ایک بار ہمایوں کا سفیر شیر شاہ سے مل کر واپس آیا تو اس نے بتایا کہ شیر شاہ کڑی دھوپ میں گڑھا کھود رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ زمین پر بیٹھ گئے اور مجھ سے باتیں کرنے لگے۔‘

واضح رہے کہ شیر شاہ نے آسام سے لے کر ملتان اور سندھ تک اور کشمیر سے سدپارہ کی پہاڑیوں تک اپنی حکومت قائم کی اور ایک جیسا نظام حکومت رائج کیا۔ پوری سلطنت کو سرکاروں اور پرگنوں میں تقسیم کیا جو کہ آج کے دور میں کمشنری اور اضلاع ہیں۔

شیر شاہ نے شروع سے ہی حکومت کے زوال کی وجہ عدل کی کمی کو قرار دیا اور جب بھی انھیں کہیں سربراہی ملی تو انھوں نے نظام عدل کو قائم کرنے کی کوشش کی اور ہر شہر میں عدالت قائم کی۔

انھوں نے بنگال سے لے کر افغانستان تک ایک ایسی شاہراہ بنائی جسے گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) کے نام سے جانا گیا۔ یہی نہیں انھوں نے آگرہ سے جنوب کی سمت میں برہان پور تک اور دوسری آگرہ سے جودھ پور اور چتور تک اور تیسری لاہور سے ملتان تک سڑک بنائی اور ان سڑکوں پر تقریباً 1700 کاروان سرائے بنوائیں جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے قیام و طعام کے علیحدہ انتظامات تھے۔

یہاں ٹھنڈے اورگرم پانی کےانتظامات تھے۔ سرائے میں گھوڑوں کےکھانے پینےکابھی نظم تھا اور حکومت کی جانب سے مسافروں کو مفت کھانا ملتا تھا۔ سرائے میں مسجد کی تعمیر اور اس میں امام و موذن کی تقرری بھی کی گئی۔ مسافروں کے مال واسباب کی حفاظت کےلیے چوکیدارہوتا اور ان سب پر ایک شحنہ یعنی مینیجر ہوتا تھا۔

شیر شاہ نے سڑک کے کنارے درخت بھی لگوائے تھے تاکہ مسافر گرمیوں میں اس کی چھاؤں تلے آرام کر سکیں۔ سرائے کے انتظامات کے لیے اطراف کے کئی گاؤں کے محصول وقف تھے۔

شاہراہوں کی حفاظت کے لیے انتظامات تھے اور عامل یا شقدار کو حکم جاری کیا گیا تھا کہ ان کے علاقے میں کہیں بھی چوری یا راہ زنی ہوتی ہے اور مجرموں کا پتا نہیں چلتا تو لازم ہے کہ قریبی گاؤں کے مقدم (مکھیا) کو گرفتار کر لیں اور ان سے نقصان کی تلافی کرائی جائے لیکن اگر وہ مجرموں کا پتا چلانے میں معاونت کرتے ہیں تو انھیں کوئی سزا نہ دی جائے۔

گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) کے بارے میں تفصیل سے جاننے کیلئے ہمارے اس بلاگ کو پڑھئے۔

شیر شاہ نے سہسرام کے قلعے کو تو مضبوط کیا ہی، انھوں نے روہتاس کا قلع بھی بنوایا جو اب پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع جہلم میں ہے جبکہ بہار میں بھی روہتاس ایک جگہ ہے جہاں شیر شاہ نے تعمیرات کروائیں۔ اس کے علاوہ دلی کے پرانے قلعے کی کئی عمارتیں بھی ان کی یادگار ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ شیر شاہ نے کالنجر کے قلعے کا محاصر کر رکھا تھا اور اس قلعے کے سامنے اتنا بلند پشتہ تیار کروایا کہ قلعے کے اندر جو نظر آتے ان کا شکار کر لیتے تھے۔

شیر شاہ کا مزار سہسرام میں ہے جو ان کے بیٹے سلیم شاہ نے ایک مصنوعی جھیل کے کنارے تعمیر کرایا ہے جو آج تک سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

کالم نگار عرفان حسین نے بہت عرصہ پہلے لکھا تھا کہ ’ہم ہندوستان میں اچھی حکمرانی کے ابتدائی تصورات کے ساتھ انگریزوں کو جوڑنے کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہم اس انتہائی پرعزم حکمران کی منصفانہ اور اچھی حکمرانی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔‘

’شیر شاہ نے ثابت کیا کہ وہ ہندوستان کی طویل اور داغدار تاریخ میں سب سے کامیاب حکمرانوں میں سے ایک تھے۔ صرف پانچ سال حکومت کی لیکن تقریباً پانچ صدیوں قبل حکمرانی کے وہ معیار قائم کیے کہ ان کے بعد آنے والے اس عرصے میں بنی نوع انسان کی پیشرفت کے باوجود ان تک پہنچنے میں بڑی حد تک ناکام رہے۔‘

ان کے مخالف مغل بادشاہ ہمایوں انھیں ’استاد بادشاہان‘ یا بادشاہوں کے استاد کہتے تھے۔ آروی سمتھ کے مطابق ہمایوں کے بیٹے مغل شہنشاہ اکبر نے اپنی حکمرانی کے اصولوں کی بنیاد شیر شاہ کی پالیسیوں پر رکھی اور زبردست کامیابی حاصل کی۔

اپنی کتاب ’اگر تاریخ نے ہمیں کچھ سکھایا‘ میں فرحت نسرین لکھتی ہیں کہ اگرچہ شیر شاہ کا دور حکومت چند سال ہی رہا لیکن ہندوستان کے انتظامی نظام پر اس کا اثر دیرپا تھا۔

شیرشاہ سوری کا انتقال

شیر شاہ اپنی عمر کے 60ویں برس میں تھے جب انھوں نے مہوبا کے راجپوتوں کے خلاف بندیل کھنڈ میں کالنجر کے قلعے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ عباس سروانی بتاتے ہیں کہ ان کی موت جمعے کے دن 22 مئی سنہ 1545 کو قلعے کی دیوار سے ٹکرا کر آنے والے ایک بارود کے گولے سے ہوئی کیونکہ جہاں وہ کھڑے تھے وہاں بارود کے بہت سے گولے تھے جس میں شیر شاہ کے ہمراہ بہت سے دوسرے افراد بھی شہید ہو گئے لیکن ان کا ایک بچہ اس بارود کے ڈھیر میں بھی زندہ سلامت رہا۔

***********                                                               

Thursday, June 17, 2021

ہندوستان کے پہلے مسلمان سلطان قطب الدین ایبک

    ہندوستان کے پہلے مسلمان  سلطان قطب الدین  ایبک

یہ یہ تقریبن نو آٹھ سو سال قبل کی بات ہے جب سلطان معزالدین (شہاب الدین) غوری افغانستان کے شہر اور اپنے دارالحکومت غزنی میں عیش و نشاط کی محفلیں آراستہ کیا کرتے تھے اور مصاحبوں کے ہنر اور ان کی عقل و دانش کی باتیں سُنتے تھے۔

اسی قسم کی ایک مجلس میں روایتی محفل سجی ہوئی تھی اور حاضرین اپنی اپنی کارگزاریوں اور حاضر جوابیوں اور ابیات و غزل سے بادشاہ کو محظوظ کر رہے تھے، اور انعام و اکرام سے نوازے جا رہے تھے۔اس شب سلطان غوری اپنے درباریوں اور اپنے غلاموں کو تحفے تحائف، زر و جواہرات اور سونے چاندی سے مالا مال کر رہے تھے۔ ان میں ایک درباری اور غلام ایسا تھا جس نے دربار سے باہر آنے کے بعد اپنا سارا انعام اپنے سے کم حیثیت ترکوں، پردہ داروں، فراشوں، غلاموں اور ديگر کارپردازوں کو بخش دیا۔

جب اس کا چرچاعام ہوا تو یہ بات ہوتے ہوتے سلطان کے کانوں تک بھی پہنچ گئی اوران کےدل میں اس دریا دل صفت انسان کے بارےمیں جاننےکی خواہش پیدا ہوئی کہ آخر یہ کون فیاض شخص ہے۔سلطان کو بتایا گیا کہ یہ ان کاغلام (قطب الدین) ایبک ہے۔

غوری سلطنت کےتاریخ داں منہاج السراج (ابو عثمان منہاج الدین بن سراج الدین) نےاپنی کتاب ’طبقات ناصری‘ میں بھی اس واقعےکا ذکر کیا ہے۔انھوں نے نہ صرف ایبک کا دور دیکھا بلکہ ان کےبعد سلطان شمس الدین التتمش اور غیاث الدین بلبن کا دور بھی دیکھا تھا۔

وہ لکھتے ہیں کہ محمد غوری کو ایبک کی فراخدلی نے بہت متاثر کیا اور انھوں نے ایبک کو اپنے مقربین میں شامل کر لیا، اور انھیں تخت گاہ اور ایوان دربار کے اہم کام سونپے جانے لگے۔ یہاں تک کہ وہ سلطنت کے بڑے سردار اور کارپرداز بن گئے۔ انھوں نے اپنی لیاقت سے اس قدر ترقی کر لی کہ انھیں امیر آخور بنا دیا گیا۔امیر آخور اس زمانے میں شاہی اصطبل کے سردار کا عہدہ ہوتا تھا اور اسے بہت اہمیت حاصل تھی۔ انسائکلوپیڈیا آف اسلام (دوسری اشاعت) میں اسے ایک ہزار کا سردار کہا گیا ہے جس کے ماتحت تین سردار ہوتے تھے جو کہ 40 کے سردار کہے جاتے تھے۔

قطب الدین ایبک وہ مسلم حکمراں ہیں جنھوں نے ہندوستان میں ایک ایسی سلطنت کی بنا ڈالی جس پر مسلم حکمراں آنے والے 600 سال تک یعنی سنہ 1857 کی غدر تک حکومت کرتے رہے۔انھیں غلام سلطنت یا خاندانِ غلاماں کا بانی کہا جاتا ہے لیکن جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں عہد وسطی کی تاریخ کے ماہر اور پروفیسر نجف حیدر کا کہنا ہے کہ انھیں یا ان کے بعد آنے والوں کو غلام سلاطین نہیں کہا جا سکتا۔ انھیں ترک یا مملوک کہا جا سکتا ہے۔

دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں تاریخ کی اسسٹنٹ پروفیسر رحما جاوید راشد بتاتےہیں کہ مسلم حکومتوں میں غلام کا تصور بازنطینی غلام کےتصورسےبہت مختلف ہوتا تھا اور یہی وجہ ہےکہ مسلم دور میں غلاموں کا مرتبہ بعض اوقات جانشین کیطرح ہوتا تھا۔چنانچہ جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں محمود اور ایاز نظر آتے ہیں جس کو محمود غزنوی اپنی اولاد سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔علامہ اقبال کی معروف نظم ’شکوہ‘ کا ایک شعر اس جانب اشارہ کرتا ہےکہ اسلام میں غلاموں کی کیا حیثیت تھی۔

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

جن لوگوں نے فلم رضیہ سلطانہ، باہو بلی، یا ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی دیکھ رکھا ہے، ان کے لیے غلاموں کے حالات اور اہمیت کو سمجھنا آسان ہوگا۔

'رضیہ سلطانہ' میں رضیہ کا محافظ یاقوت ایک حبشی غلام ہے جو اپنی جانثاری سے ملکہ کے دل میں جگہ بناتا ہےجبکہ 'باہو بلی' میں 'کٹپپا' اپنے غلامی کےتقاضوں کے تحت شہزادے کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا جبکہ ارطغرل غازی میں بازنطینی غلام اور سونے کی کان کنی کے ماہر حاجا توریان کی خرید و فروخت اور آزادی کے ساتھ خود ارطغرل کا غلاموں کی تجارت کرنےوالےسمکو کے ہاتھ لگنےکا منظر اور پھر تمام غلاموں کی رہائی دکھائی گئی ہے۔بہرحال نجف حیدر بتاتے ہیں کہ 'یہ کہا جاتا ہے کہ جب محمد غوری سے کسی نےپوچھا کہ آپ کو تو کوئی اولاد نرینہ نہیں ہے جس سے آپ کو آنے والے زمانےمیں یاد رکھا جائے گا تو انھوں نےکہا تھا کہ میرے پاس بہت ساری اولاد نرینہ ہیں اور وہ میرے نام کو باقی رکھنے کےلیےکافی ہیں۔'

پروفیسر نجف حیدر بتاتےہیں کہ ان کا اشارہ ان کےمخصوص غلاموں کی جانب تھا جن میں یلدوز، ایبک اورقباچہ شامل تھے۔رحما جاوید بتاتی ہیں کہ غوری نےان میں آپس میں رشتہ داری بھی قائم کی تھی اوریلدوز کی ایک بیٹی کی شادی ایبک سے کروائی تھی جبکہ ایک بیٹی کی شادی قباچہ سےکروائی تھی تاکہ ان میں گہرا تعلق قائم ہو اور وہ رشتےداری کےتحت ایک دوسرےکی مخالفت کےبجائےایک دوسرے کی معاونت کریں۔آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک سٹڈیزمیں ساؤتھ ایشین اسلام کے پروفیسرمعین احمد نظامی بتاتےہیں کہ ایبک کوغلام سلطنت کےبانی کےطورپرنہیں بلکہ انڈیا میں ترک یا مملوک سلطنت کے بانی کےطورپریاد کیاجانا چاہیے۔

معین احمد نظامی بتاتے ہیں کہ قطب الدین ایبک کا تعلق ترک قبیلے ایبک سے تھا اور بچپن میں ہی وہ اپنے کنبے سے علیحدہ ہو گئے اور انھیں غلام بازار میں بیچنے کے لیے نیشا پور لایا گیا۔ ایک تعلیم یافتہ شخص قاضی فخرالدین عبد العزیز کوفی نے انھیں خریدا اور اپنے بیٹے کی طرح ان کے ساتھ سلوک کیا اور ان کی تعلیم اور فوجی تربیت کی مناسب دیکھ بھال کی۔

تاریخ کی معرف کتاب 'طبقات ناصری' میں منہاج السراج لکھتے ہیں کہ ایبک کے نئے والی قاضی فخرالدین عبد العزیز کوئی اور نہیں بلکہ امام ابو حنیفہ کی آل میں شامل تھے اور نیشاپور و مضافات کے حاکم تھے۔وہ لکھتے ہیں: 'قطب الدین نے قاضی موصوف کی خدمت گزاری کے ساتھ ان کے بیٹوں کی طرح کلام اللہ کی تعلیم حاصل کی اور سواری و تیر اندازی کی تعلیم بھی پائی۔ چنانچہ تھوڑی ہی مدت میں وہ صفت مردانگی سے متصف ہو گیا اور اس کی ستائش کی جانے لگی۔'

کہتے ہیں کہ قاضی کی موت کے بعد ان کے فرزندوں نے ایبک کو پھر سے ایک تاجر کے ہاتھ فروخت کر دیا جو انھیں غزنہ کے بازار لے آیا جہاں سے سلطان غازی معزالدین سام (سلطان محمد غوری) نے انھیں خرید لیا۔'طبقات ناصری میں لکھا ہے کہ 'اگرچہ ایبک قابل ستائش اوصاف اور برگزیدہ محاسن کا حامل تھا لیکن اس کی ایک کمزوری کے سبب اسے 'ایبک شل' کہا جاتا تھا یعنی ایسا شخص جس کی ایک انگلی کمزور ہو۔ اور درحقیقت ان کی ایک انگلی ٹوٹی ہوئی تھی

قطب الدین کے بارے میں کہاجاتا ہےکہ ترک قبیلے ایبک سےتعلق رکھتےتھےلیکن ان کے والد اور قبیلے کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ تاریخ کی کتابوں میں ان کا سن پیدائش 1150 درج ہے لیکن قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

بہر حال ایبک کا مطلب ترکی زبان میں 'چاند کا آقا یا مالک' ہوتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ قبیلے کو یہ کنیت اس کی خوبصورتی کی وجہ سے ملی تھی یعنی اس قبیلے کے لوگ مرد و زن دونوں انتہائی حسین و جمیل ہوتے تھے۔ لیکن قطب الدین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اتنے حسین نہیں تھے۔

لیکن اردو کے معروف شاعر اسد اللہ خان غالب نے اپنی ایک فارسی غزل میں خود کو ترکی کے ساتھ ساتھ ایبک بھی کہا ہے اور ایک طرح سے چاند سے زیادہ خوبصورت ہونے پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ غالب نے لکھا:

ایبکم از جماعۂ اتراک

در تمامی ز ماہ دہ چندیم

ان کا کہنا ہے کہ ہم ترکوں کے ایبک قبیلے سے آتے ہیں اس لیے ہم چاند سے دس گنا زیادہ خوبصورت ہیں

بہر حال معین احمد نظامی بتاتے ہیں کہ ایبک کا عروج تیزی سے ہوا اور انھوں نے اپنی ذہانت اور قابلیت کے بدولت معزالدین کی توجہ جلد ہی اپنی طرف مبذول کرلی۔

نھوں نے بتایا کہ ایبک کو پہلے ہی امیر آخور بنایا جا چکا تھا لیکن جب محمد غوری نے ہندوستان کی جانب اپنی مہمات کا آغاز کیا تو ایبک نے ترائن کی دوسری جنگ میں اپنی جنگی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے سلطان غوری کو فتح نصیب ہوئی اور انھیں دو اہم فوجی عہدوں ’کہرام‘ اور ’سمانہ‘ کا کماندار بنایا گیا۔

ترائن کی پہلی جنگ میں تو محمد غوری کو شکست ہوئی تھی لیکن دوسری جنگ کئی لحاظ سے فیصلہ کن رہی۔

کہا جاتا ہے کہ اس میں چہامن یعنی راجپوت راجہ پرتھوی راج چوہان کو شکست ہوئی۔ پہلی شکست کے ایک سال بعد غوری ایک لاکھ سے زیادہ افغان، تاجک اور ترکوں پر مبنی بڑی فوج کے ساتھ ملتان اور لاہور کے راستے ترائن (آج دہلی سے ملحق ہریانہ کے کرنال ضلعے میں تروری کا علاقہ کہلاتا ہے) پہنچا جہاں پرتھوی راج کی تین لاکھ گھڑ سواروں اور تین ہزار ہاتھیوں پر مشتمل فوج نے اس کا راستہ روکا اور شدید جنگ ہوئی۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق معروف پروفیسر اور تاریخ داں محمد حبیب اور خلیق احمد نظامی نے اپنی کتاب 'اے کمپریہینسو ہسٹری آف انڈیا' (جلد پنجم) میں لکھا ہے کہ اس تعداد میں غلو کا عنصر ہے کیونکہ اس زمانے میں کسی چیز کی اہمیت کے لیے تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا رواج تھا۔

بہر حال ترائن کی دوسری جنگ (1192) میں محمد غوری نے یہ حکمت عملی اپنائی کہ اپنی فوج کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا اور انھیں مختلف پوزیشن پر تعینات کر دیا جبکہ 12 ہزار افراد پر مشتمل فوج کو جنگ میں اتارا جس نے حکمتِ عملی کے تحت پسپائی اختیار کی۔

پرتھوی راج کی فوج نے یہ سمجھا کہ انھیں فتح نصیب ہو گئی ہے اور وہ اس کے پیچھے ان کا کام تمام کرنے کے لیے چل پڑے۔لیکن پھر چار جگہ مختلف سپہ سالاروں کی قیادت میں تعینات فوج نے پرتھوی راج کی فوج کو چاروں طرف سے گھیر لیا جبکہ مراجعت کرنے والی فوج بھی واپس مڑ کر لڑنے لگی۔ کہا جاتا ہے کہ پرتھوی راج چوہان اپنے ہاتھی سے اتر کر گھوڑے پر سوار ہوا اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کی۔

معین احمد نظامی بتاتے ہیں کہ اس جنگ سے برصغیر میں ایبک کے سیاسی کریئر کا آغاز ہوا اور بالآخر وہ سنہ 1206 میں معزالدین غوری کی موت کے بعد دہلی کے تخت تک جا پہنچے۔

تاریخ دانوں کا متفقہ طور پر کہنا ہے کہ سلطان معزالدین محمد غوری کےاچانک مارے جانےکیوجہ سےوہ کسی کواپنا جانشین مقرر نہیں کرسکےتھے چنانچہ ان کی زندگی میں ان کا جو غلام جہاں جس اعلیٰ عہدے پر فائز تھا وہ وہاں کا حاکم بن بیٹھا لیکن ایبک اپنی فراست اور سیاسی حکمت عملی کو استعمال کرتے ہوئےاصل جانشین کا عہدہ حاصل کرنےمیں کامیاب ہو گئے۔

انتقال کے بعد ان کے تین جانشینوں دہلی کے حاکم قطب الدین ایبک، ملتان کے حاکم ناصر الدین قباچہ اور غزنی کے حاکم تاج الدین یلدوز کے درمیان اقتدار کے لیے مقابلہ شروع ہو گیا۔ رحما جاوید کا کہنا ہے کہ ان کا ایک چوتھا غلام بختیار خلجی تھا جو کہ اس رسہ کشی میں شامل نہیں ہوا اور وہ بہار اور بنگال کی طرف چلا گیا اور خود کو وہاں کا فرمانروا کہا۔

اس بابت معین احمد نظامی کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے تھا کہ وہ غلام تھے اور انھیں آزادی نہیں ملی تھی اس لیے انھیں سلطان کے طور پر قبول کیا جانا مشکل تھا۔

بہرحال انھوں نے سنہ 1208 میں غزنہ کا سفر کیا جہاں سے وہ چھ ماہ بعد واپس آئے اور اس دوران غزنہ میں محمد غوری کے ایک جانشین نے ان کی آزادی کا اعلان کیا اور پھر انھوں نے سنہ 09-1208 میں سلطان کی خطاب اپنایا۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ہی انھوں نے اپنا نام قطب الدین (یعنی دین کا محور) رکھا۔

اس سے قبل ایبک اپنے آقا محمد غوری کی توسیع پسندانہ حکمت عملی پر عمل کرتے رہے اور اس دوران انھوں نے 1193 میں اجمیر اور اس کے بعد چار ہندو ریاستوں سرسوتی، سمانہ، کہرام اور ہانسی کو فتح کیا اور پھر قنوج کے راجہ جے چند کو چندوار کی جنگ میں شکست دے کر دہلی کو حاصل کیا۔ ایک سال کے اندر ہی محمود غوری کا تسلط راجستھان سے لے کر گنگا جمنا کے دوآبے کے علاقوں تک تھا۔

ایبک کی مزید فتوحات کے بارے میں منہاج السراج رقطراز ہیں: 'کہرام سےقطب الدین نے میرٹھ کی طرف پیش قدمی کی اور 587 ہجری میں اسے فتح کر لیا۔ میرٹھ سے اٹھا تو 588 ہجری میں دہلی پر قابض ہو گیا۔ 590 میں وہ سلطان کے ہم رکاب تھا اور بنارس کے راجہ جےچند کیجانب پیش قدمی کی۔ سنہ 591 میں ٹھنکر فتح کیا یہاں تک کہ مشرقی جانب اسلامی سلطنت چین تک پہنچ گئی۔

بہرحال ایبک کو دوسروں پر غلبہ حاصل ہوا اور 25 جون سنہ 1206 کو لاہور کے قلعے میں ان کی تاج پوشی ہوئی۔ لیکن انھوں نے سلطان کا خطاب نہیں اپنایا اور نہ ہی اپنے نام سے کوئی سکہ جاری کیا اور نہ ہی اپنے نام سے کوئی خطبہ پڑھایا۔

ایبک عہد وسطی کے دوسرے کسی بھی مسلم حکمراں کی طرح فن تعمیر میں شوق رکھتے تھے چنانچہ انڈیا میں غوری حکومت کی کامیابیوں کی یادگار کے طور پر انھوں نے دہلی میں سنہ 1199 میں ایک مینار کی تعمیر شروع کروائی۔ اس طرح کے مینار غزنی میں بھی ہیں اور غور صوبے میں دریائے ہاری کے کنارے جام مینار اس سے قبل تعمیر کیے جا چکے تھے۔

قطب مینار کے ساتھ قوۃ الاسلام مسجد کی بھی بنیاد انھوں نے ڈالی جبکہ اجمیر کی فتح کے بعد انھوں نے ایک مسجد کی تعمیر کروائی جسے ڈھائی دن کا جھونپڑا کہا جاتا ہے۔ یہ شمالی ہند میں بننے والی پہلی مسجد کہلاتی ہے جو آج تک موجود ہے۔ در اصل اسے جلدی جلدی ڈھائی دن میں کھڑا کیا گیا تھا لیکن پھر اس پر موجودہ افغانستان کے ہرات سے تعلق رکھنے اولے معمار ابوبکر نے مسجد کا نقشہ یا ڈيزائن تیار کیا اور یہ مسجد سنہ 1199 میں بن کر تیار ہوئی جسے ہند اسلامی طرز تعمیر کا پہلا شاہکار کہا جاتا ہے۔

قطب مینار

اسی طرح قطب الدین نےقطب مینار کی بنا ڈالی جسےانکےبعد شمس الدین التتمش کےزمانےمیں مکمل کیاجاسکا۔ یہ اینٹ سے تعمیردنیا کا سب سےبلند مینار ہےجس کی پانچ منزلیں ہیں اور ان پرآیات قرآنی کندہ ہے۔اس کےساتھ ہی ایبک نےقوت الاسلام مسجد کی بنا ڈالی جس کی باقیات آج بھی قطب مینارکےساتھ دیکھےجا سکتےہیں۔  تاریخ داں رحما جاوید اشرف کہتے ہیں کہ جتنے بھی فارسی ماخذ ہیں اس میں اسے جامع مسجد کہا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک جامع مسجد تھی جسے قبۃ الاسلام یعنی اسلام کی پناہ گاہ یا اسلام کا گنبد کا نام دیا گیا تھا لیکن سرسید احمد خان نے اپنی تصنیف ’آثار الصنادید‘ میں اسے قوت الاسلام مسجد کا نام دیا ہے۔

رحما جاوید  کہتے ہیں کہ جب منگولوں نے اسلامی دنیا کو تہ و بالا کر دیا تھا تو ہندوستان کی مسلم حکومت اس سے محفوظ تھی اور دنیا بھر کے صاحب علم اور ہنر ادھر کا رخ کر رہے تھے اور یہی وجہ ہے کہ اسے منہاج السراج نے دہلی کو قبۃ الاسلام یعنی اسلام کی پناہ گاہ بھی کہا ہے۔

اس مسجد میں ہند اسلامی طرز تعمیر نمایاں ہے اور اسے ہندوستان کے کاریگروں نے بنایا جو کہ عربی رسم خط سے نابلد تھے لیکن پتھروں پر کندہ کرنے کے ماہر کاریگر تھے۔ اس میں کچھ جین منادر کی باقیات بھی نظر آتی ہیں جنھیں ستون کے طور پر استعمال کیا گيا ہے اور اس میں مجسمے بھی بنے ہیں لیکن ان کے نقش کو مسخ کر دیا گیا ہے۔ یہ مسجد بھی شمس الدین التتمش کے عہد میں مکمل ہوئی۔

سنہ 1208-09 میں سلطان بنے کے بعد ایبک کا زیادہ تر وقت لاہور میں گزار اور موسم برسات کے بعد گلابی جاڑے کی آمد کے وقت نومبر میں ایک روز وہ اپنے بہادر جنگجوؤں اور سپہ سالاروں کے ساتھ چوگان یعنی پولو کھیل رہے تھے کہ گھوڑے کی زین ٹوٹ گئی اور وہ زمین پر آ رہے۔

منہاج السراج نےاس کےمتعلق اس طرح لکھا ہے کہ 'جب موت آئی تو 607 ہجری (1210ء) میں چـوگان کھیلتا ہوا گھوڑے سے گرا، گھوڑا اس پرآ گرا، زین کےسامنے کا اوپر اٹھا ہواحصہ قطب الدین کےسینےمیں پیوست ہو گیا اور اس نے وفات پائی۔'

قطب الدین کو لاہور میں ہی دفن کر دیا گیا اور زمانے کے تغیر کے ساتھ آج بھی ان کا مزار لاہور میں موجود ہے جہاں ہر سال عرس بھی لگتا ہے۔

معین احمد نظامی بتاتے ہیں کہ 'عصری اور بعد کے تمام ذرائع نے ایبک کی فوجی صلاحیتوں کے علاوہ ان کی وفاداری، سخاوت، جرات اور ان کی انصاف پسندی جیسی خصوصیات کی تعریف کی ہے۔ وہ اپنی سخاوت کی وجہ سے لاکھ بخش (لاکھ دینے والے) کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی فیاضی کی کہانیاں 17 ویں صدی کے آخر میں دکن میں عام گردش میں تھیں جب معروف سیاح فرشتہ بتاتے ہں کہ فراخ دلی کے حامل لوگوں کو اس وقت کے ایبک کے نام سے جانا جاتا تھا۔'

کہا جاتا ہے کہ دہلی میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو ان کی فیاضی سے محروم رہا ہو۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حا‌فظ قرآن تھے اور اتنی اچھے لحن میں قرآن کی تلاوت کرتے تھے کہ انھیں قرآن خوان بھی کہا گیا۔

ایبک نے داد و دہشت کا جو معیار قائم کیا اس پر بعد میں کوئی بھی پورا نہ اترا۔ چنانچہ معین احمد نظامی کا کہنا ہے ایبک کو سخاوت کا مترادف سمجھا جانا واقعی ایک ایسا خراج تحسین ہے جو کسی دوسرے فرمانروا کے حصے نہیں آیا۔ جنگ اور مہمات میں زندگی گزارنے کے باوجود انھوں نے تاریخ اور آنے والی نسلوں میں جو تاثر چھوڑا وہ ان کا انصاف اور ان کی سخاوت تھا۔'

***********

Thursday, June 3, 2021

چین کی بحری تجارت کےماڈل کےموجد محمود شمس (زنگ خا) کون تھے؟

چین کی بحری تجارت کےماڈل کےموجد محمود شمس (زنگ خا) کون تھے؟

چین نے جنوب مشرقی ایشیا، بحرِ ہند، (گوادر، سی  پیک)، بحیرہ عرب، خلیج فارس، بحیرہِ احمر اور مشرق وسطیٰ کی دیگر بندرگاہوں کو جدید بنانے کا عمل کافی عرصے سے شروع کیا ہوا ہے اور وہ اسے ’تجارتی اور اقتصادی ترقی کا بنیادی انفراسٹرکچر‘ کہتا ہے مگر چین کے مخالف ممالک چین کی اس پالیسی کو فوجی قوت اور سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کی ایک حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں

مگر چین کا ہمیشہ اصرار رہا ہے کہ اُس کے سڑکوں، ریلوے لائنوں اور بندرگاہوں جیسے بڑے منصوبوں کی تعمیر تجارتی اور اقتصادی مقاصد کے لیے ہے نہ کہ دیگر قوموں کو محکوم بنانے کے لیے۔

جب چین نے اپنے کھربوں ڈالر کے تعمیراتی منصوبوں کا آغاز کیا تھا تو چین کی قیادت نے بندرگاہوں اور سمندر کے راستے سے تجارت کے لیے جو ماڈل پیش کیا تھا وہ 15ویں صدی کے چینی مسلمان ایڈمرل ژنگ خہ کا تیار کردہ تھا۔ ایڈمرل ژنگ نے اُس دور میں دنیا کی سب سے بڑی بحری قوت تیار کی تھی لیکن اس کی مدد سے کسی بھی ملک کو زیرِ نگیں نہیں بنایا تھا۔ ماہرین اُن کی اس پالیسی کو اشتراک اور تعاون کی پالیسی قرار دیتے ہیں۔

ایڈمرل ژنگ خہ  کون تھا اور اسکا پس منظر کیا تھا

ژنگ خہ یا ماہو کہلائے جانے والے اس بچے کا مسلمان نام محمود شمس تھا۔ بعض کتابوں میں ان کا نام محمد بھی لکھا گیا ہے۔ ان کے والد کا نام میر تکین اور دادا کا نام خرم الدین بتایا جاتا ہے۔ ان کے پڑدادا کے دادا کا نام سید اجّل شمس الدین تھا (بعض تاریخی ذرائع میں سید اجّل شمس الدین عمر بھی لکھا گیا ہے)۔ سید اجّل کا تعلق وسطی ایشیا کے شہر بخارا سے تھا اور انھیں منگول حکمران قبلائی خان نے گورنر نامزد کر کے یوحنان بھیجا تھا۔تاریخ میں آج ژنگ خہ کہلانے والے چینی ایڈمرل یوحنّان نامی علاقے میں سنہ 1371 میں چین کی مسلمان برادری ’ہوئی‘ میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ مسلم برادری آج بھی چین میں ’ہوئی‘ کے نام سے پہچانی جاتی ہے اور یہ وہ مسلمان تھے جو وسطی ایشیا کے مختلف خطوں سے چین میں یا تو خود سے پناہ لینے پہنچے تھے یا منگولوں کے ہمراہ حملہ آور بن کر آئے تھے۔


ژنگ خہ کا جنم اس دور میں ہوا تھا جب منگولوں کو مقامی مِنگ خاندان کے ہاتھوں شکست کا سامنا تھا۔ ژنگ خہ کا خاندان منگولوں کے لیے لڑا تھا۔ زنگ خہ کی عمر اس وقت 10 برس تھی جب مِنگ آرمی باغیوں کو ڈھونڈتی ہوئی اُن کے علاقے تک پہنچی۔ زنگ خہ کا خاندان مارا گیا مگر انھیں زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا۔

ژنگ کے ساتھ بھی وہی کیا گیا جو اُس دور میں کم عمر مرد قیدیوں کے ساتھ کیا جاتا تھا، یعنی اُن کی جنسی صلاحیت ختم کر دی گئی۔ننجینگ یونیورسٹی کے پروفیسر لوئی ینگ شینگ کہتے ہیں کہ ژنگ خہ کی زندگی کے اس پہلو کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔اسی بچے نے بعد میں چین کی عظیم الشان بحریہ کا سربراہ بن کر انڈیا، خلیجِ فارس اور افریقہ تک اپنے وقت کے سب سے بڑے بحری بیڑے پر تجارتی، سفارتی اور ثقافتی نوعیت کے سات سفر کیے۔

13ویں صدی تک چین کے بیشتر حصوں پر منگولوں کا قبضہ تھا۔ وقت کے ساتھ جب منگولوں کی بد نظمی، بدعنوانی اور زیادتیاں بڑھنا شروع ہوئیں تو چین کی مقامی قوم حاننی (ہنز) کے ساتھ امتیازی سلوک کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا۔

ان حالات میں مِنگ خاندان کے کسانوں نے منگول حکمرانوں کے خلاف بغاوت کر دی اور چین کے اِس حصے پر قبضہ کر لیا۔ ان کی بغاوت اس لیے کامیاب ہوئی کیونکہ اُس وقت چین کے اس خطے میں فصلیں تباہ ہوئی تھیں اور قحط پیدا ہو گیا تھا۔مِنگ خاندان کے کسان جنگجو ’ہونگ وُو‘ نے 1368 میں منگولوں کے حمایت یافتہ یوآن خاندان کی بادشاہت کا خاتمہ کر کے اپنی بادشاہت قائم کر لی۔ ہونگ وُو پیشے کے لحاظ سے ایک کسان تھے۔ یوآن خاندان کے زمانے کے کئی تاجر اور علما نے نئے خاندان کی حکومت سے تعاون کیا جن میں مسلمان ماہرین بھی شامل تھے جو چین کے اس خطے میں آباد ہو چکے تھے۔

برمنگھم یونیورسٹی کے قدیم چینی تاریخ کے پروفیسر یوہانس لوٹزے اپنی ایک تصنیف میں 1368 سے 1453 کے دور کے حالات پر کی جانے والی تحقیق میں بتاتے ہیں کہ ہونگ وُو کے جرنیلوں میں دس مسلمان بھی تھے۔بعض تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ مِنگ خاندان کا پہلا شہنشاہ خفیہ طور پر مسلمان تھا تاہم کئی مؤرخین نے اس بات کو مسترد کیا ہے۔ ہنگ وُو کی ایک بیوی مسلمان تھی جبکہ اس نے اپنی ایک بیٹی وسطی ایشیا کے (بعض روایات کے مطابق سمرقند) کے علم الافلاک کے ماہر محمد شیحی سے بیاہی تھی۔لیکن مِنگ خاندان کو کچھ مسلمان جرنیل اور علما تو سابق حکمران خاندان یوآن کے ترکے میں ملے تھے اور کچھ انھوں نے خود بھرتی کیے۔

ہونگ وو کا انتقال سنہ 1398 میں ہوا لیکن اُس کی وصیت کے مطابق اُس کا جانشین اُس کے پوتے جیان وین کو بنایا گیا۔ تاہم جلد ہی وہ نااہل ثابت ہوا اور اس کی گرفت کمزور پڑنے لگی۔ اُس نے کنفیوشسزم کے حامی درباریوں کے ذریعے اپنی طاقت بحال کرنے کی کوشش کی لیکن اُس کے چچا ژو ڈی نے اُس کے خلاف بغاوت کر دی۔بغاوت میں اُس کے مسلمان سپاہی اور جرنیل دلیری سے اُس کے لیے لڑے اور بالآخر وہ کامیاب ہوا اور یونگ لی کے لقب کے ساتھ وہ شہنشاہ بن گیا۔ اور یہاں سے ایڈمرل ژنگ خہ کی عظمت کی کہانی شروع ہوتی ہے۔

جب 10 برس کی عمر میں یوحنّان میں ژنگ خہ کو جنسی صلاحیت سے محروم کیا گیا تو اُسے ژو ڈی کے حرم خانے میں ایک ملازم کے طور پر رکھا گیا تھا۔ تاہم ژو ڈی کے ہاں کام کرنے کی وجہ سے زنگ خہ کو بہتر تعلیم و تربیت، انتظامی امور کی سمجھ اور فنِ سپاہ گری سیکھنے کا اچھا موقع ملا۔ وہ تیزی سے ترقی پاتا ہوا ایک گھریلو ملازم سے آج کے عہدے کے لحاظ سے ژو ڈی کا (جو ابھی شہنشاہ نہیں بنا تھا) چیف آف سٹاف بن چکا تھا۔یعنی ژنگ خہ مِنگ خاندان کے تیسرے شہنشاہ ژو ڈی یا یونگ لی کے بادشاہ بننے سے پہلے ہی سے اُس کے معتمدِ خاص بن چکے تھے۔ یونگ لی کی اپنے بھتیجے شہنشاہ جیان وین کے خلاف بغاوت کے وقت ماہو نے اپنی دلیری کے جوہر دکھائے تھے اس پر نئے شہنشاہ نے اُسے ’ژنگ خہ‘ کا لقب دیا تھا۔

زنگ خہ نے بچپن میں اپنے والد اور دادا سے ان کے حج کے سفر کے قصے سُنے تھے۔ اس لیے اُسے حج کی کہانیاں متاثر کرتی تھیں۔ اُس زمانے کے ’ہوئی‘ مسلمانوں کی روایات کے مطابق وہ چینی زبان کے علاوہ عربی اور فارسی زبانوں کا بھی علم رکھتا تھا۔ ژنگ خہ نے شاہی تعلیمی ادارے ’نانجینگ ٹائیگژو‘ سے تعلیم حاصل کی تھی۔

شہنشاہ یونگ لی نے ایڈمرل ژنگ خہ کو ایک بہت بڑے بحری بیڑے کے ساتھ روانہ کیا تھا۔ سنہ 1405 میں جب ژنگ خہ نے پہلا بحری سفر کیا تھا تو اُس کے پاس 317 بحری جہاز تھے اور اس کے ساتھ سفارتی، فوجی، تجارتی اور دیگر خدمات کے لیے افرادی قوت تقریباً 28 ہزار کے لگ بھگ تھی۔

ژنگ خہ کے اپنے مرکزی جہاز پر بادبانوں کو سہارا دینے کےلیےنو مستول لگے ہوئے تھے۔ بحری سفر کے دوران اتنی بڑی تعداد کا انتظام اتنی باریکی کےساتھ منظم کیا جاتا تھا کہ ایک بھی جہاز دوسرے سےٹکراتا نہیں تھا۔ یہ بحری جہاز ایک بیضوی شکل میں حرکت کرتےتھے۔بڑے سائزکےجہازمرکز میں ہوتےتھےاورچھوٹےجہازباہرکےدائرے کی جانب ہوتےتھے۔

چونکہ ژنگ خہ مسلمان تھا اور چین کی مغربی دنیا سے بہت زیادہ واقف تھا اور اُسے کئی ایک ایرانی اور عرب تاجروں کی خدمات بھی حاصل تھیں، اس وجہ سے شہنشاہ کا اُسے اس بڑے مشن کی ذمہ داری دینا ایک قدرتی امر تھا۔ اُس نے بحری راستوں کا بہت گہرا مطالعہ کیا، علم الافلاک کے ماہرین کے ذریعے سمندر کے راستوں کو سمجھنے کا علم بھی حاصل کیا، اس علم میں مسلمان پہلے ہی کمال حاصل کر چکے تھے۔ بحری جہازوں کی تعمیر کے لیے شپ بلڈنگ کی صنعت کو اپنی زیرِ نگرانی تعمیر کرایا۔ مقناطیسی قطب نما بھی بنوایا جو ک اُس وقت ایک جدید ٹیکنالوجی تھی۔ کئی کئی مستولوں کے جہاز بنائے گئِے۔

ژنگ خہ کے بحری بیڑے کے باقی جہازوں میں، جو کہ سینکڑوں کی تعداد میں تھے، ہزاروں کی تعداد کے عملے کی غذا، پانی، خدمت گزاروں کا عملہ، گھوڑے، توپ و تفنگ، ریشم اور دیگر قیمتی پارچاجات، چینی مٹی کے قیمتی برتن، سنہری روغن، لاکھ اور شراب سے بنے ہُوئے برتن، چائے، کالی مرچیں، سونا چاندی، لوہے سے تیار کرہ اشیا تھیں جو کہ دور دراز ممالک کے حکمرانوں کو تحفے میں دی جاتی تھیں۔یہ تحفے برونائی، انڈونیشا، جاوا، سماٹرا، ملاکا کے سلطانوں، ویت نام، بنگال، اور سری لنکا کے راجاؤں، انڈیا کی معروف بندرگاہوں، کالی کٹ، کوچن اور مالابار کے حکمرانوں، خلیج فارس کے منہ پر ہُرمُز نامی بندرگاہ کے حکمرانوں، یہاں تک کے بندرگاہوں سے دور ایران کے مختلف علاقوں کے حکمرانوں، ترکی کی ابھرتی ہوئی عثمانیہ سلطنت کے عہدیداروں، یمن کے علاقے میں حضرموت اور عدن کی بندرگاہوں کی مقامی حکومتوں، موغادیشو، موزمبیق، مالدیپ کے حکمرانوں کو دیے گئے۔ غرض کے بحرِ ہند کی کوئی ساحلی حکومت ایسی نہیں تھی جس سے ژنگ خہ نے براہِ راست خود یا اُس کے بیڑے کے کس اعلیٰ اہلکار نے رابطہ نہ کیا ہو۔

بعض مؤرخین نے ژنگ خہ کے جہازوں کا جدہ تک جانے کا ذکر کیا ہے جہاں ژنگ خہ اور اُس کے ساتھی مکہ و مدینہ تک پہنچے ہیں۔ مؤرخین کا اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا اُنھوں نے حج کیا تھا یا نہیں۔ تاہم اگر حالات اور ژنگ خہ کی اپنی زندگی کا اندازہ لگایا جائے تو کوئی سبب نہیں ملتا ہے کہ وہ مکہ اور مدینہ جائیں اور عمرہ یا حج نہ کریں۔وہ تو بچپن سے اپنے باپ اور دادا سے حج کی کہانیاں سنتا تھا جنھوں نے، بقول مؤرخین، اُس کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا تھا

1424 میں شہنشاہ یونگ لی کا انتقال ہو گیا تھا اور نیا بادشاہ ایک برس بعد ہی انتقال کر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یونگ لی کا پوتا بادشاہ بنا تو اُس کی بحری مہمات میں دلچسپی نہیں تھی۔ اس نے ژنگ خہ کو ساتویں اور آخری بحری مہم کے لیے چھٹی مہم کے دس برس بعد اجازت دی۔ ساتویں مہم کا 1431 میں آغاز ہوا اور یہ سنہ 1433 میں مکمل ہوئی۔کہا جاتا ہے کہ 62 برس کی عمر میں ژنگ خہ کا اس ساتویں مہم سے واپسی کے دوران بحری جہاز پر ہی انتقال ہو گیا تھا۔ ژنگ خہ کی قبر اُس وقت کے چینی دارالحکومت نانجِنگ میں بنائی گئی تھی جو آج بھی موجود ہے۔

؎چین میں ژنگ خہ کو تقریباً بھلا دیا گیا تھا۔ لیکن بیرون ممالک رہنے والی چینی کمیونیٹیز نے اُس کی یاد کو پھر سے زندہ کیا ہے، جس کی خاص وجہ جنوبی مشرقی چین کی بندرگاہیں ہیں جہاں اُس نے کبھی اپنے سفر کے دوران کئی یادگاریں چھوڑی تھیں۔ ان بندرگاہوں میں سے چند پر اُس نے لاٹیں (پتھر کے کتبے) تعمیر یا نصب کروائی تھیں جن پر مِنگ خاندان کے بادشاہ کے اُن ممالک کے لیے خیر سگالی کے پیغامات کُندہ کیے گئے تھے۔اُن ہی لاٹوں میں سے ایک سری لنکا کی ایک بندرگاہ گیل سے سنہ 1911 میں کھدائی کے دوران دریافت ہوئی تھی جو آج بھی وہاں کے مقامی میوزیم میں محفوظ ہے۔ یہ لاٹ یا پتھر کی سِل پر کندہ کیا گیا کتبہ تین زبانوں میں مِنگ شہنشاہ یونگ لی کے پیغام پر مشتمل ہے۔

مِنگ خاندان کی حکومت نے ژنگ خہ کے بحری تجارتی مہمات کی وجہ سے کافی منافع بھی کمایا تھا جس کی وجہ سے شہنشاہ کو اتنے مالی وسائل حاصل ہو گئے کہ اُس نے ’ممنوعہ شہر‘ کی تعمیر کا حکم دیا۔ یہ وہی ممنوعہ شہر ہے جو بعد میں بیجنگ کے نام سے مشہور ہوا اور اب چین کا دارالحکومت ہے۔

انہی مہمات سے حاصل ہونے والے مالی وسائل کی وجہ سے چین میں ایک بڑی نہر بھی کھودی گئی جس کا زرعی اور تجارتی فائدہ ہوا۔ مؤرخین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ دو بڑی تعمیرات ژنگ خہ کی مہمات کے بغیر ممکن نہیں تھیں۔

تاریخ میں کئی بارایسا ہوا ہےکہ کامیابیاں شدت کےساتھ حسد کےجذبات بھی پیدا کردیتی ہیں، شاید ایسا ہی ژنگ خہ کے ساتھ ہوا۔

شہنشاہ یونگ لی کے 1424 میں انتقال کے بعد اُس کا بیٹا ہونگژو بادشاہ بنا۔ لیکن وہ اس کے بعد صرف ایک برس زندہ رہا۔ 1425 میں ہونگژو کا بیٹا ژوانڈو بادشاہ بنا۔ ژوانڈو 1435 تک بادشاہ رہا اور مجموعی طور پر ایک کامیاب بادشاہ نہیں تھا۔ سنہ 1433 میں وہ اس آخری مہم کے بعد 317 جہازوں پر مشتمل بحری بیڑے کو جلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ مؤرخین کے پاس اِس دور کی بہت کم معلومات ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ اتنی سرمایہ کاری کے بعد مِنگ خاندان کے چین نے بحری مہمات کا خاتمہ کیوں کیا؟

*************

Monday, September 2, 2019

ملک صمد خان آفریدی

پاکستان کے ائیر مارشل اور معروف سیاستدان اظہر خان کے دادا ملک صمد خان آفریدی کی کہانی

ملک صمد خان آفریدی کو تعلق آفریدی قبیلے کے ایک شاخ ملک دین خیل سے تعلق رکھتے تھے۔ جنہیں تاریخ میں سردار صمد خان کے نام سے بھی جانا جاتاہے۔
جو پاکستان کے ائیر مارشل اور معروف سیاسی شخصیت اظہر خان آفریدی کی دادا تھے۔ ملک صمد خان جوانی کے دنوں ہندوستان میں بغاوت اور آذادی کی تحریک شروع ہونے سے دو سال قبل  1855 میں وادی تیراہ سے کشمیر کے صوبہ جمو کے علاقے اودھم پور میں منتقل ہوئے۔ ان دنوں کشمیر پر ڈوگرا کی حکومت تھی۔
ملک صمد خان نے 1863 میں محاراجہ رنبیر سنگھ کی موجودہ گلگت بلستان کو فتح کرنے میں مدد کی تھی۔ جس کے بدلے ڈوگرا دربار نے ملک صمد خان آفریدی کو بڑی جائیداد وجاگیر سے نوازا۔ ملک صمد خان ڈوگرا سلطنت کی فوج میں جرنل کے عہدے تک پہنچ گئے تھے۔

ان کے چاروں بیٹوں نےڈوگرا سلطنت کی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ ان کا بڑا بیٹا سمندر خان آفریدی میجر جرنل کی حثیت سے فوج سے ریٹائر ہوگئے اور ان کا دوسرا بیٹا رحمت اللہ خان 1944 میں بطور بریگیڈئری فوج سے ریٹائر ہوگئے۔ 








Thursday, August 29, 2019

ایمل خان آفریدی ایک بہادر قبائلی پشتون کی کہانی

  ایمل خان آفریدی ایک بہادر قبائلی پشتون کی کہانی
تاریخ کی کتابوں میں ایمل خان آفریدی کی تاریخ پیدائش اورعلاقہ پیدائش کے بارے میں یاتو معلومات موجود نہیں یا پھر شاید ہمیں آج تک نہیں ملی۔(اگرہمارے قارئین میں سے کسی کے پاس اس حوالے سے کوئی مستند تاریخ موجود ہو تو ہماری اس حوالے سےمدد کیجئے)۔
اکثر تاریخی آرٹیکلز میں لوگ ایمل خان کو مہمند بتاتے ہیں۔جو کہ درست نہیں۔ ہم اس آرٹیکل میں واقعات کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کرینگے کہ ایمل خان مہمند نہیں بلکہ آفریدی قبیلے سے تھا
ایمل خان کی آفریدی قبیلے سے تعلق اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب خوشخال خان خٹک مغلوں کی قید سے آذاد ہوئے تو انہوں بدلہ لینے کیلئے اُس وقت آفریدی قبیلے کے جنگجوں جس کے دو اہم کردار دریا خان آفریدی اور ایمل خان تھے۔ ان کے گروپ میں خوشخال خان شامل ہوگئے تھے۔
Aimal Khan Afridi
یہاں اس بات کر ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ خوشحال خان خٹک کے والد شہباز خان جو مغلوں کا بہادر سپاہی تھا جس کی وجہ سے انہیں سورڈزمین کے خطاب سےنوازا گیا تھا۔ انہوں مغلوں کے لئے یوسفزئی قبیلے کے ساتھ ساتھ آفریدی قبیلے سے بھی جنگیں لڑی تھی۔ جن کی بہادری کا ذکر شہباز خان خود اپنے بڑے بیٹے خوشخال خان خٹک سےکرتےرہے۔اگر دیکھا جائے تو خوشخال خان خود آخر تک یوسفزئی قبیلے کے خلاف تھا۔لیکن جیسے اوپر ذکرکیا گیا کہ خوشخال خان بعد میں دریاخان آفریدی اور ایمل خان کے ساتھ جاملے تھے۔ یہ دونوں اُس آفریدی قبیلے کے جنگجو تھے جن سے شہباز خان کی لڑائی ہوتی رہی۔ چونکہ خوشخال خان انتقام کی آگ میں جل رہا تھا اسلئےاس نےچونکہ اپنےوالدسےآفریدی قبیلےکی بہادری کےقصےسُنےتھے۔اسلئے خوشحال خان نےمغلوں سےانتقام لینےکیلئےاسی آفریدی قبیلے کےجنگجووں سےہاتھ ملایا۔تویہاں کہاجاسکتا ہےکہ دریاخان آفریدی کےساتھی ایمل خان بھی آفریدی تھا نا کہ مہمند  

لیکن شاید ایمل خان آفریدی کو چند تاریخ دان مہمند قبیلے سے اسلئے سمجھنے لگے کہ 1672 میں ایک مہمند صافی خاتونسے مغل فوج کے موجودہ کنٹر کے علاقے کے فوجدار حسین بیگ خان کے سپاہیوں نے بدتمیزی اور انہیں جنسی حراساں کرنے کی کوشش کی تھی ۔ جس پر مہمند  سمیت آفریدی قبیلےنےبھی سخت ناراضگی ظاہر کی تھی۔ جس کا بدلا لینے کیلئے صافی قبیلےکے لوگوں نےان سپاہیوں کو قتل کردیا۔ مغل حکمرانوں نے ان سپاہیوں کےقاتلوں کوحوالےکرنےکا مطالبہ کیا۔جو پشتون قبائل نے رد کردیا۔جس کی وجہ سے حسین بیگ خان نے صافی قبیلے پر حملے شروع کردئے۔ جس کے نتیجے میں تقریبن تمام پشتون قبائل میں اشتعال پیدا ہوگیا۔ جو بعد میں  مغل سلطنت کے خلاف افغان بغاوت میں تبدیل ہوگیا۔جس کی سربراہی ایمل  خان کررہے تھے اور اس بغاوت میں انکے ساتھ آفریدی ، شینواری اورمہمند قبائل  شامل تھے

علی مسجد

اسی سال ایک دن ایک دن  مغلوں کے مغرور گورنر محمد امین خان اپنی فیملی پوری فوج کے ساتھ کابل جاررہے تھے کہ ایمل خان آفریدی اور اسکے سپاہیوں نے علی مسجد کے علاقے میں ایک تنگ گھاٹی میں گھات لگا کربیٹھ گئے گورنر کا کافلہ پہنچتے ہی پشتون جنگجووں نے ہر طرف سے  مغل کافلے پر تیر ، گولیاں اور پتھر برسانہ شروع کردیا۔ گورنر امین خان اور اس کے افسر تو پشاور کی طرف بھاگتے ہوئے جان بچانے میں کامیاب ہوگئے لیکن ان کی 40000 فوج قبائلی جنگجووں کی تلواروں اور تیروں کی ذد میں آگئے۔ اور 2 کروڑ روپے نقد کیش مال غنیمت بھی قبضے میں لے لئے۔ اس کے علاوہ 20000 کے لگ بھگ مرد وعورت گرفتار کرکے قیدی بنائے۔جن گونر امین خان اور انکی بیوی بھی شامل تھی ۔ جو
بھاگتے ہوئے پشاور کے قریب سےزندہ پکڑے گئے تھے۔
     

ان 20000قیدیوں کو سنٹرل ایشاٗ فروخت کرنے کیلئے بیج دیا گیا جبکہ خود گورنر محمدامین خان اور اسکی بیوی نے ایک بڑی رقم تاوان کے عوض خود کو رہا کروادیا۔

یہ مارکہ چونکہ آفریدی قبیلے کے علاقے خیبر پاس اور علی مسجد کے علاقے میں ہوا۔ اسلئے یہ ثابت کرتا ہے۔کہ ایمل خان اس علاقے کے چپے چپے سے باخبر تھا اور اس علاقے کے لوگوں کی مغلوں کے خلاف انکو بھرپور حمایت حاصل تھی۔ ورنہ قبائلی دستور کے مطابق ایک قبیلے کے لوگ دوسروں قبیلے کے لوگوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ آکر انکے علاقے میں حکومت اور سلطنت یا کسی اور کے خلاف کے خلاف ایسی بڑی کاروائی کرے۔ کیونکہ ایسی کاروائی سےان علاقے کے لوگوں کیلئے حکومت کی طرف سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تو لہذا یہ واقع بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایمل خان مہمند  نہیں بلکہ آفریدی تھا اسلئے ان کی لشکر کو آفریدیوں کے علاقے میں حکومت وقت کے خلاف اتنی بڑی کاروائی کا اجازت دی گئی تھی۔

خیبر پاس کی اس عظیم  فتح کے بعد قبائلی جنگجوں کے سردار ایمل خان آفریدی نے خود سلطان قراردیا اور خود کو ایمل شاہ کا خطاب دیا۔ اور اپنےنام سے ایک سکہ بھی جاری کردیا۔ اور تمام پشتوں کو سمن کے ذریعے اطلاع دی کہ مغل سلطنت کے خلاف انکی اس قومی بغاوت میں ان کے ساتھ شامل ہوجائے۔


اس عظیم فتح کے بعد ایمل خان آفریدی کو بےپناہ دولت حاصل ہوئی اور انکے کارناموں کی خبریں افغانوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جس کے بعد بہت سے نوجوانوں نے انکی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ 

چونکہ یہ پشتون بغاوت  ایک صافی خاتون جومہمند قبیلےسےتعلق رکھتی تھی۔ کے واقع سے سےشروع ہوئی۔ اوراس بغاوت کی سربراہی ایمل خان  کررہےتھےاسلئےچند مورخین سمجھتےہیں کہ ایمل خان بھی مہمند  قبیلے سےتھا اسلئے کہ اس  بغاوت نےمہمند  سے شروع ہوکر زور پکڑی تھی۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا کیونکہ مغل فوج  قاتل حوالے نہ کرنے پر اس علاقے پر حملے کررہے تھے اسلئے ان قاتلوں کو ایمل خان کے قبیلے نے پناہ دے دی۔ اور مزید حالات خراب ہونے کی صورت میں  اُس وقت تمام پشتون قبائلیوں نے  اسے نگ وناموس کا مسئلہ سمجھ کرمغلوں کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔

نوشہرہ کی لڑائی 
ایمل خان آفریدی اور دریا خان آفریدی کے لشکر جس میں خوشحال خٹک کی سربراہی میں خٹک قبیلہ اوربعد میں یوسفزئی قبیلہ بھی شامل ہوگیا تھا۔ انکی 8000 افراد پر مشتمل لشکر نے نوشہرہ میں مغل قلعہ پر حملہ کردیا اور پیر پائی کے علاقے کو نست وناد کردیا اورسارمال غنیمت اپنےقبضےمیں لےلیا۔اس لڑائی میں مغل فوج کو بڑی جانی ومالی نقصان سےدوچارہونا پڑا۔نوشہرہ کی لڑائی فتح کرنےکےبعد چارسدہ کےقریب دوآبہ کےمقام پرمغل کمانڈرمیرحسین کوبھی شکست سےدوچا کردیا۔

دوآبہ کے شکست کے بعد مغل بادشاہ اونگزیب اُس وقت پشاور کے گورنر مہابت خان جو 70 سال کے قریب تھے۔ سے بلکل ناخوش تھے۔ کیونکہ وہ اونگزیب کی خواہش کے مطابق ایمل خان کی سربراہی میں افغان لشکر کے خلاف کچھ نہیں کرسکا۔ اسلئے اونگزیب نے شجاعت خان کو پشاور میں مغلوں کا وقار بحال کرنے کیلئے بیجا۔ اُس نے توڑے عرصے کیلئے پشاور میں قیام کیا۔ بعد میں وہ گنداب وادی کی طرف روانہ ہوئے راستے میں انہیں معلوم ہوا کہ ایمل خان نے کڑپہ کا پاس بند کررکھا ہے۔ وہاں پہنچتے ہی ایمل خان کی لشکر نے مغل فوج پر حملہ کردیا جس کے نتیجے مین شجاعت خان سمیت ہزاروں مغل فوجی قتل کئے گئے۔

جون 1675میں باجوڑ کے علاقے کاپوش میں بھی مغل فوج کیلئے ایمل خان آفریدی کی فوج گھات لگا کرحملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں مغل کمانڈر شمشیر خان قتل کیا گیا تھا جبکہ مکرم خان شدید زخمی ہوکر بھاگ نکال اور باجوڑ میں موجود مغل فوج کے بیس کیمپ میں پہنچ گیا۔

چونکہ ہمارا بحث یہ بھی ہے کہ ایمل خان مہمند نہیں بلکہ آفریدی قبیلے سے تھا۔ جس کیلئے ہم چند واقعات کے حوالے اوپر دے چکے ہیں۔ لیکن مذید ہمارے اس دعوے کو تقویت دینے کیلئے کہ ایمل خان آفریدی تھا کے حوالے سے مزید چند واقعات اورحوالاجات درج ذیل پیش کرتے ہیں۔

ایک دن مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر لاہور جاررہے تھے اس دن کوہاٹ کے علاقے گھمبٹ میں خوشحال خان خٹک اور مغلوں کے حمایتی شیر محمد بنگش کے درمیان شدید لڑائی ہوئی جس میں خوشخال خان خٹک اور انکا بیٹا عبدالقدید شدید زخمی ہوئی جس کے نتیجے میں خوشحال خان خٹک کو اس لڑائی میں شکست ہوئی۔ اس لڑائی کے بعد مغل بادشاہ اونگزیب سے اس افغان بغاوت کو کچلنے کیلئے ختمی فیصلہ کرلیا اور اگلے سال عامر خان اور دیگر اہم فوجی جرنلوں کی ہمراہ شہزادہ معظم کو روانہ کیا۔ جہاں عامر خان نے کابل کے گورنر کے ساتھ مل کرکامیاب حکمت عملی بنائی ۔ جس کے تحت قبائل کو بڑے پیمانے پر مراعات دینا شروع کردیا۔ اور خفیہ طورپر قبائل اور ایمل خان کے درمیان دراڑیں پیدا کرنے کی کوشش شروع کردی۔ لیکن مغلوں کے آلہ کار عامر خان تب کامیاب ہوئے جب  ایمل خان آفریدی کا انتقال ہوا۔ تو عامر خان اور آفریدی قبیلے کے درمیان چند شرائط معاہدے طے پایا گیا۔اور آفریدی قبیلے نے خیبر پاس کول دیا۔  یہاں یہ واقع بتانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر ایمل خان آفریدی نہیں مہمند  تھا کہ مغلوں کے نمائندے عامر خان کیلئے آفریدی قبیلے اور ایمل خان کے درمیان اختلافات پیدا کرنا کیوں ضروری تھا؟۔ اگر ایمل خان آفریدی نہیں تھا تو انکے انتقال ہی کے بعد مغلوں اور آفریدی قبیلے کے درمیان معاہدہ کیوں وجود میں آیا تھا۔؟ اورخیبرپاس آفریدی قبیلے نے کیوں کھولا؟ اگر ایمل خان مہمند تھا تو آفریدی قبائل ایمل خان کی زندگی میں بھی انہیں علاقہ بدرکرکے مغلوں کےساتھ معاہدہ کرسکتے تھے؟ لیکن نہیں ایسا نہیں ہوا۔ اور ایسا اسلئےنہیں ہوا کہ ایمل خان آفریدی اسی آفریدی قبیلےسےتھا اوراسلئےانکی حمایت اُسےحاصل تھی اسلئے ان ہی کی حمایت سےایمل خان یہ ساری لڑائیاں لڑ تارہا  اور اپنی سلطنت قائم کررکھی تھی۔

ایمل خان مہمند  نہیں بلکہ آفریدی تھے اس متعلق 1884 میں میجر رورٹی نے خوشحال خان خٹک کی ڈائری کا ترجمہ کرتے ہوئے بھی ایمل خان کا ذکر کرتے ہوئے آفریدی کہا تھا بلکہ ایک جگہ پر انہوں نے ایم خان کو دریا خان آفریدی کا بھائی بھی کہا ہے۔ اور 1958 میں سراولف کرک پٹرک کاریو نے ایمل خان کو ایمل خان آفریدی کے نام سے ذکر کیا تھا۔ جبکہ دوست محمد کامل ایمل خان کو آفریدی نہیں بلکہ مہمند سمجھتے ہے۔

اس کے علاوہ عالمگیر نامہ اور اخبارات المول جن کو انتہائی مستند ریکارڈ مانا جاتاہے۔ ان میں بھی اجمیر کے قریب دیورائی کی لڑائی کےبارے میں بتاتےہوئےایمان آفریدی کا ذکرآیا ہے۔جس میں کہاجارہا ہےکہ ایمان آفریدی مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیرکا ایک بہادر سپاہی تھا یہاں ممکن ہے کہ ایمل خان آفریدی کی جگہ ایمان آفریدی لکھا گیا ہو۔کیونکہ یہ ایمان نام نہیں ہوسکتا کیونکہ ایمان زنانہ نام ہے اور پختونوں میں زنانہ نام مردوں کیلئےمایوب سمجھاجاتاہے۔تو یہاں میں یقین سےکہہ سکتا ہے ہوں کہ یہ ایمان آفریدی نہیں بلکہ ایمل آفریدی ہے۔

سراولف کرک پٹرک کاریومزید کہتےہیں  کہ آفریدی علاقےدرہ آدم خیل میں داخل ہوتےوقت ایک قلعہ یا تھانہ ہےجوایمل خان آفریدی کےنام سےمنسوب ایمل چبوترا کہلاتاہےاورجسے آجکل سپینہ تھانہ بھی کہاجاتاہے۔
 

یہ قلعہ اُس وقت پشاور کے کمشنر کرنل میکسن نے درہ آدم خیل کے آفریدی قبائل کو کنٹرول کرنے کیلئے بنایا تھا۔ لیکن 1852میں جب آفریدی قبیلے کے جنگجووں نے جب کمشنر کرنل میکسن کو قتل کردیا۔ تو اس حکومت نے اس قلعہ کا نام  میکسن کے نام سے منسوب کردیا۔ جو بعد میں پشاور کے کمشنر  کرنل ایڈورڈ نے اس کا نام ایم چبوترا رکھ دیا۔ اب ظاہر ہے کہ حکومت کی طرف سے آفریدی قبائل کے علاقے میں اس قلعہ کا نام ایمل کے نام سے منسوب کرنے کی کوئی وجہ ہوگی۔ اور وہ وجہ یہ ہے کہ ایمل خان آفریدی چونکہ آفریدی قبائل کا ہیرو تھا اور اس نے مغل سلطنت کے خلاف بغاوت بھی کررکھی تھی۔ اور چونکہ انگریز خود مغل سلطنت کے خلاف تھے اسلئے مغلوں کے مخالفین ان کے بھی ہیروز تھے۔ اسلئے ایک انگریز کمشنر کرنل ایڈورڈ نے اس قلعہ کا نام درہ آدم خیل کے آفریدی قبیلےکو خوش کرنے کیلئے ان  کے ہیرو ایمل خان کے نام سے منسوب کیا ۔ تاکہ آفریدی قبائل انگریز حکومت کے خلاف جنگ بندی کرے اور کمشنر ایڈورڈ کے ذیر انتظام علاقے میں امن ہو۔

حوالہ

1.       Studies in Mughal History -  Ashvini Agrawal
2.       Mughal Empire in India -  A Systematic Study Including Source Material  - S.R.Sharma
3.       Mughal Rule in India – Stephen Meredyth Edwardes
4.       The Mughal Empire From babar to Aurangzeb – SM Jaffar
5.       History of Aurangzib – Jadunath Sarkar

Wednesday, August 28, 2019

احمدشاہ ابدالی کی کہانی - تیسری قسط

ایک عظیم پشتون مجاہد وحکمران  احمدشاہ ابدالی کی کہانی  تیسری قسط


مرہٹوں کے خلاف جنگ پانی پت کی تیسری لڑائی
پانی پت کی تیسری لڑائی افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی اور مرہٹوں کے سداشو راؤ بھاؤ کے درمیان 1761ء میں ہوئی۔ مرہٹے ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ مرہٹے جنگجو اور بہت بہادر لوگ تھے۔ مغل شہزادے جانشینی کی جنگیں لڑتے رہے اور مرہٹے اپنی فوجی طاقت بڑھاتے رہے یہاں تک کہ 1755ء میں دہلی تک پہنچ گئے مغل بادشاہ ان کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھے۔ 1737 میں "مرھٹے” دہلی پر حملہ آور ھوئے۔۔ بادشاھوں کی کمزوری اور امراء کی خود غرضی کے باعث مرھٹوں کو قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا موقع مل گیا۔ مرھٹوں کے مظالم نے شاہ ولی اللہ دھلوی ‘ شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے دل دھلادیئے۔ ان مظالم کی ایک طویل و شرمناک داستان ھے۔ بنگال کے مشہور شاعر گنگا رام نے لکھا:

"برگیوں (مرھٹوں) نے دیہاتیوں کو لوٹنا شروع کردیا۔۔ کچھ لوگوں کے انہوں نے ھاتھ ‘ ناک اور کان کاٹ لئے۔ خوبصورت عورتوں کو وہ رسیوں میں باندھ کر لے گئے۔۔ عورتیں چیخیں مارتی تھیں۔ انہوں نے ھر طرف آگ لگادی اور ھر طرف لوٹ مار کرتے ھوئے گھومے۔۔”

  1760ء تک مرہٹے پاک و ہند کے بڑے حصے کو فتح کر چکے تھے۔ ان کے سردار رگوناتھ نے مغلوں کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کر لیا۔ پھر لاہور پر قبضہ کرکے اٹک کا علاقہ فتح کر لیا۔ انہوں نے لال قلعہ دہلی کی سونے کی چھت اترواکر اپنے لیے سونے کے سکے بنوائے اور لوٹ مار کی۔مغلوں کے دور میں ہندوؤں کو مذہبی آزادی حاصل رھی لیکن جیسے ہی مرہٹوں کے روپ میں ہندو طاقتور اور مغل کمزور ہوئے تو مرہٹوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی کی شاہی مسجد کے منبر پر رام کی مورتی رکھیں گے جس سے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمان سردار نجیب الدولہ نے احمد شاہ ابدالی کو تمام صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے ہندوستان پر حملہ کی دعوت دی اور مالی وعسکری مدد کا یقین دلایا۔ مرہٹہ مقبوضہ علاقہ جات احمد شاہ ابدالی کی ملکیت تھے ان کا حاکم احمد شاہ درانی کا بیٹا تیمور شاہ تھا جسے شکست دے کر مرہٹوں نے افغانستان بھگا دیا اب احمد شاہ درانی نے اپنے مقبوضات واپس لینے کے لیے چوتھی مرتبہ برصغیر پر حملہ کیا۔ 14 جنوری 1761ء کو پانی پت کے میدان میں گھمسان کا رن پڑا۔ یہ جنگ طلوع آفتاب سے شروع ہوئی جبکہ ظہر کے وقت تک ختم ہو گئی روہیلہ سپاہیوں نے بہادری کی داستان رقم کی۔ ابدالی فوج کے سپاہیوں کا رعب مرہٹوں پر چھایا رہا ان کے تمام جنگی فنون ناکام ہو گئے۔ فریقین میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد سپاہی مارے گئے جن مین زیادہ تعداد مرہٹوں کی تھی مرہٹوں کی قتل و غارت، لوٹ مار کی وجہ سے عوام کی ان سے نفرت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب مرہٹے شکست کھاکر بھاگے تو ان کا پیچھا کرکے انہیں مارنے والوں میں مقامی افراد کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی شامل تھیں اس جنگ میں مرہٹوں نے عبرت ناک شکست کھائی اس کے بعد وہ دوبارہ کبھی جنگی میدان میں فتح حاصل نہ کرسکے۔مرھٹوں کی اتحادی افواج میں مسلمانوں کا ایک سردار "ابراھیم خان گاردی” بھی تھا جو اپنے ساتھ 2 ھزار سوار اور 9 ھزار پیدل فوج لایا تھا۔

جب ابراھیم خان گاردی کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا تو احمد شاہ ابدالی نے نفرت آمیز لہجے میں اس سے پوچھا۔۔ "کہو خان صاحب ! کیا حال ھے۔۔؟ کس طرح تشریف آوری ھوئی۔۔؟”ابراھیم گاردی نے کہا۔۔ "میں ایک جاں فروش سپاہی ھوں۔۔ حضور جان بخشی کریں گے تو اسی طرح حق نمک ادا کروں گا۔۔”غصے سے احمد شاہ ابدالی کا چہرہ سرخ ھوگیا اور کہا۔۔ "گاردی ! جاں فروشوں کی جان بخشی ھوسکتی ھے لیکن ایمان فروش دنیا میں رھنےکےقابل نہیں ھوتے۔۔

"یہ تاریخی جملہ کہنےکےبعداحمد شاہ ابدالی نےحکم دیا۔۔ "اس ایمان فروش کومیری آنکھوں سےدورکرکےصفحہ ھستی سے مٹادیا جائے۔۔”

احمد شاہ ابدالی نے دہلی پہنچ کر شہزادہ علی گوہر کو دہلی کے تخت پر بٹھایا اور دو ماہ بعد واپس چلا گیا۔اس جنگ کے نتیجے میں مرہٹوں کا خاتمہ ہو گیا ان کی طاقت مکمل طور پر توڑ دی گئی۔ ہندوستان پر ان کی حکومت کی خواہش اور شاہی مسجد دہلی کے منبر پررام کی مورتی لگانےکا خواب بکھرگیا۔اس جنگ میں مرہٹوں کے27سردار مارے گئے۔ وہ دوبارہ اٹھنےکا قابل نہ رہےمگر مغلوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ دوبارہ اپنا اقتدار مضبوط کریں۔ ان کی کمزوری سے فائدہ انگریزوں نے اٹھایا انہوں نے باآسانی مرہٹہ سرداروں کو شکست دے کر اپنی حکومت مضبوط کی۔

احمد شاہ ابدالی ملک و ہوس کا پجاری نہیں تھا۔ اس نےافغانستان میں اپنی بادشاہت پراکتفا کیا تھا لیکن جب ہندو مرہٹوں کے لشکر 1759ء میں دہلی پر قابض ہونےکےبعد اٹک تک پہنچ گئےاوران کےپیشوا نےپونا میں اعلان کیا کہ جامع مسجد دہلی میں مہادیو کا بت نصب کیا جائے گا تب شاہ ولی اللہ‘ نواب شجاع الدولہ اور روہیلہ سردار حافظ رحمت خان نے احمد شاہ ابدالی سے درخواست کی  کہ وہ آ کر ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندو مرہٹوں کے ظالمانہ تسلط سے بچائیں۔ اس کے بعد ہی احمد شاہ ابدالی نے جنوری 1761ء میں پانی پت کی تیسری جنگ میں لاکھوں ہندو مرہٹوں کو شکست دے کر ہندوستان میں مسلم اقتدار کو سنبھالا دیا تھا۔ اس کے بعد ابدالی نے پنجاب میں دہشت گردی کرتے ہوئے سکھوں کو کچلنے کے لئے آنا پڑا تھا اگر ابدالی اقتدار کا بھوکا ہوتا تو وہ 1761ء ہی میں شاہ عالم ثانی کو معزول کر کے دہلی پر قبضہ کر سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا اور مغلوں کو سنبھلنے کا موقع دیا۔ اس نے صرف پنجاب اور کشمیر کو سکھوں کے کشت و خون اور لوٹ مار سے بچانے کیلئے اپنی سلطنت میں ضم کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے پوتے زمان شاہ نے 1799ء میں کابل میں بغاوت ہو جانےکےباعث لاہورسےواپس جاتےہوئےیہاں کی حکومت رنجیت سنگھ کوسونپ دی۔زمان شاہ سلطان ٹیپو کی مدد کونہ پہنچ سکا اورمیسور کا شیر4 مئی 1799ء کوانگریزوں‘مرہٹوں اورنظام کی متحدہ افواج سےلڑتےہوئےشہید ہوگیا۔ اس کےچار سال بعد 1803ء میں انگریز دہلی پر قابض ہو گئےاورشاہ عالم ثانی نےانگریزوں کا وظیفہ خوار بننا قبول کرلیا۔

جہاں تک بات ہے نادرشاہ کی طرف سے 1737ء میں دہلی پہ حملے اور قتل و غارت اور لوٹ مار کی تو وہ ایک ایرانی اہل تشیع حکمران تھا نہ کہ ایک سنی مسلم۔ لہٰذا ہم اس مضمون میں اس معاملے کی تحقیق لازمی نہیں سمجھتے۔

ملحدین و سیکولرطبقہ یہ الزام لگاتا ہےکہ احمد شاہ ابدالی نے1747میں پنجاب پرحملےکےدوران لاہور شہرکا تاخت و تاراج کردیا۔افغان فوج نےشہریوں کوجی بھرکےقتل کیا۔ لاہور میں ایک بھی گھوڑا نہیں چھوڑا لوگوں کےگھروں سےبرتن تک اٹھالیے۔اورجالندھرکےدوآبےمیں ایک دن میں 10لاکھ پنجا بی ماردیےگیےجن میں مسلمان بھی تھی ہندو بھی اورسکھ بھی۔ان جاہلوں کویہ بھی نہیں پتہ کہ احمد شاہ ابدالی 1747میں تخت نشین ہوا تھا نہ کہ اسی سال لاہورپہ حملہ کیاتھااوراسکےہندوستان پہ حملوں کاآغاز 1748ء اوراس کےبعدہوااوران الزامات کاایک بھی ثبوت کسی مستند تاریخی حوالےمیں موجود نہیں۔

احمد شاہ ابدالی پہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ نادر شاہ کے قتل کے بعد اس نے قندھار جاتے ہوئے اس کے ہاتھ سے شاہی مہر اور کوہ نور ہیرا اتار لیا جو اس کے ہاتھ کے گرد بندھا ہوا تھا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کوہ نور ہیرا خود نادرشاہ ایرانی 1739ء میں دہلی کی لوٹ مار کے بعد برصغیر سے چرا کر لے گیا تھا اور 1747ء میں نادرشاہ کے قتل کے بعد یہ اس کے پوتے کی تحویل میں آیا جس نے اس کو 1751ء میں احمد شاہ ابدالی کے حوالے کر دیا۔ لہٰذا یہ بات مکمل جھوٹ ہے کہ احمد شاہ ابدالی نے یہ ہیرا نادرشاہ کے قتل کے بعد چوری کر لیا تھا۔
اگر احمد شاہ ابدالی ملک و ہوس اور دولت کی لوٹ مار کا بھوکا ہوتا جیسا کہ الزام لگایا جاتا ہے تو وہ اپنی فوجوں کی اتنی قربانی اور اتنے افراد مرہٹوں سے جنگ میں مروانے کے بعد کیونکر دہلی پہ خود قبضہ کرنے کی جگہ دوبارہ مغل بادشاہ کے ہاتھ میں دے کے جاتا۔ کیا اس بات کی امید رکھی جا سکتی ہے کہ یہ انسان لاہور اور ہندوستان کے دیگر علاقوں میں لاکھوں کروڑوں کی لوٹ مار کرتا جب کہ اس الزام کے ثبوت میں ایک بھی مستند تاریخی حوالہ نہیں۔ الزام لگانے والے اور جھوٹ بولنے والے شرم سے ڈوب کیوں نہیں مرتے۔ان منافقین و کاذبین و دجالین کو یہ الزام لگانا تو یاد ہے کہ ابدالی چور لٹیرا تھا لیکن ان کو مرہٹوں کی وہ چوری لوٹ مار قتل و غارت اور عصمت دری بھول جاتی ہے جو مرہٹوں اور سکھوں نے مغل سلطنت کے زوال کے بعد ہندوستان خصوصاًدہلی سے اٹک تک مسلسل جاری رکھی ہوئی تھی اور جس کے متعلق خود ایک ہندوستانی  بنگال کے مشہور غیر مسلمشاعر گنگا رام نے لکھا۔
"برگیوں (مرھٹوں) نے دیہاتیوں کو لوٹنا شروع کردیا۔۔ کچھ لوگوں کے انہوں نے ھاتھ ‘ ناک اور کان کاٹ لئے۔۔ خوبصورت عورتوں کو وہ رسیوں میں باندھ کر لے گئے۔۔ عورتیں چیخیں مارتی تھیں۔۔ انہوں نے ھر طرف آگ لگادی اور ھر طرف لوٹ مار کرتے ھوئے گھومے۔۔”  دوہرے پن، اور منافقت کا اس سے گھٹیا درجہ کوئی نہیں ہوسکتا۔
آج عالم اسلام کو ایک بار پھر احمد شاہ ابدالی کی ضرورت ھے جو ایمان فروشوں کو بھولا ھوا سبق یاد دلاسکے کہ جاں فروشوں کی جان بخشی تو ھوسکتی ھے لیکن ایمان فروشوں کی نہیں۔

احمدشاہ ابدالی کی کہانی پہلی قسط
احمدشاہ ابدالی کی کہانی  دوسری قسط

Tuesday, August 27, 2019

احمدشاہ ابدالی کی کہانی - دوسری قسط

ایک عظیم پشتون مجاہد وحکمران احمدشاہ ابدالی کی کہانی - دوسری قسط
 دورحکومت اورموجودہ پاکستان کے علاقے

احمد شاہ ابدالی جوان ہوکر افعان فوج میں بھرتی ہوا نادر شاہ کی توجہ حاصل کرنے بعد وہ ترقی کرتے ہوۓ ترقی کرکے افغان فوج کا سپہ سالار بن گیا۔ نادر شاہ کے قتل کے بعدافغان معززین کا لویہ جرگہ منعقد ہوا جس میں احمد شاہ ابدالی کو نیا حکم ران منتخب کرلیا گیا۔ یہ جرگہ شیر سرخ بابا کے مزار پر منعقد ہوا تھا، اسی دوران صابر شاہ ملنگ نےگندم کا ایک خوشہ توڑ کران کے سر پر بطور تاج لگایا اور احمد شاہ کو بطور بادشاہ تسلیم کر لیا گیا۔ حمد شاہ ابدالی کے دور میں افغان سلطنت اٹک سے کابل، کوئٹہ، مستونگ، قلات، سبی، جیکب آباد، شکارپور، سندھ، پشین، ڈیرہ اسماعیل خان، ضلع لورالائی اور پنجاب کے علاقوں پر مشتمل تھی ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ احمد شاہ ابدالی کاسندھ دھرتی کے ساتھ خصوصی تعلق تھا اور سندھ کے حکم ران افغان بادشاہ کے اطاعت گزار تھے۔ 1747 میں جب احمد شاہ ابدالی نے افغانستان کی حکومت سنبھالی تواس وقت سندھ میں میاں نور محمد کلہوڑہ حکمراں تھے۔ 1748میں احمد شاہ ابدالی ہندوستان پہنچا۔ اس وقت اس نے میاں نور محمد کلہوڑہ کو ’’شاہنواز خان‘‘ کا خطاب دیا اور ہدایت کی کہ وہ نادر شاہ کو دیا جانے والا سالانہ خراج قندھار میں پابندی سے ادا کرتے رہیں۔ میاں نور محمد کلہوڑہ نے اسے یقین دلایا کہ خراج کی ادائیگی میں تاخیر نہیں ہوگی اور وہ اسے اس سلسلے میں کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دیں گے لیکن جب ان کی جانب سے تاخیر ہوئی تو احمد شاہ ابدالی نے ان کے نام فرمان جاری کیا اور تنبیہ کی کہ اگر تم نے خراج ادا کرنے میں تاخیر یا کوتاہی کی تو تمہارے ملک کو تاخت و تاراج کردیا جائے گا۔
میاں نور محمد کلہوڑہ، احمد شاہ ابدالی سے جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ ان کو دہلی اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کی تباہی کا پورا علم تھا اور یہ بات بھی معلوم تھی کہ احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں وہاں کے بادشاہوں، امیروں اور وزیروں پر کیا گزری ، تھی، چنانچہ انہوں نے پہلی فرصت میں دیباوحریر، اطلس و کمخواب، مشک و عنبر اور اسی قسم کی دوسری بیش بہا اشیاء، ایک سفارت کار کے ذریعے قندھار بھجوا دیں اوراحمد شاہ ابدالی کو اپنی اطاعت گزاری کا یقین دلایا۔ احمد شاہ ابدالی ان تحائف اور سفارت کاری کے انداز سے بہت خوش ہوا اور ایک بار پھر میاں نور محمد کلہوڑہ سے دوستانہ روابط کی تجدید کی۔ اس کے چند دنوں بعد میاں نور محمد کلہوڑہ نے محمد محفوظ سرخوش اور مرید خان کو قندھار اور کابل میں مستقل طور پر اپنا سفیر اور وکیل تعینات کردیا۔
میاں نور محمد کلہوڑہ اس کے بعدپابندی کے ساتھ سالانہ خراج قندھار بھجواتے رہے لیکن ایک سال ان کو خراج کی ادائیگی میں تاخیر ہوگئی۔ اس عہد شکنی پر احمد شاہ ابدالی نے مشتعل ہوکر اپنے سپہ سالار جہان خان کو ہدایت کی کہ وہ ایک لشکر لے کر سندھ جائے۔ جب لوگوں نے سردار جہان خان کی آمد کی خبر سنی تو پریشان ہوگئے۔ ابھی ان کی پریشانی دور نہیں ہوئی تھی کہ خود احمد شاہ ابدالی بھی اپنی فوج کے ساتھ سندھ میں داخل ہوکر محمدآباد کے ریگستان تک پہنچ گیا۔ میاں نور محمد کلہوڑہ کو اپنی جان بچانا مشکل نظر آئی تو انہوں نے اپنے دیوان گدو مل سے کہا کہ وہ کسی طرح احمد شاہ ابدالی کے حضور میں حاضر ہوکراسے اطاعت اور فرماں برداری کا یقین دلائے۔ گدو مل سکھر کے پل سے متصل احمد شاہ ابدالی کی لشکرگاہ میں پہنچا، دو تین روز تک ملاقات کی کوئی سبیل پیدا نہیں ہوئی۔ بڑی کوششوں اور دشواریوں کے بعد اسے احمد شاہ ابدالی سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ گدو مل ایک زیرک، مدبر اور معاملہ فہم شخص تھا۔ اس کو احمد شاہ ابدالی کی دلی کیفیت اور غضب ناکی کا پورا اندازہ تھا چنانچہ اس نے عفوتوقیر چاہتے ہوئے اس کی خدمت میں گراں قدر تحائف کے ساتھ مٹی سے بھری ہوئی چند بوریاں بھی پیش کیں۔ احمد شاہ ابدالی نے اس سے سخت لہجے میں پوچھا، ’’ ان بوریوں میں کیا ہے‘‘؟ گدو مل نے ہاتھ جوڑے اور بولا۔ ان بوریوں میں سندھ کے بزرگوں کی قبروں کی مٹی ہے۔ ہم غریب لوگ آپ کی خدمت میں اس سے زیادہ عظیم تحفہ پیش نہیں کرسکتے۔ چونکہ احمد شاہ ابدالی کو اولیائےکرام سےدلی محبت تھی، اس نے بڑی عقیدت سے مٹی کی ان بوریوں کو قبول کیا اور پھر سندھ کے رہنے والوں پر کوئی سختی نہیں کی۔

میاں نور محمد کلہوڑہ نے 1753 میں وفات پائی۔ تمام امیروں نے اتفاق رائے سے ان کے بیٹے میاں محمد مرادیاب خان کو عمرکوٹ کے مقام پر سندھ کا حکمران بنایا۔ احمد شاہ ابدالی اس وقت نوشہرہ میں تھا۔ اس نے محمد مرادیاب خان کی بادشاہت کی توثیق کردی۔ یہی نہیں بلکہ اسے ’’شاہنواز خان‘‘ کا خطاب بھی عطا کیا۔ ان دنوں شکارپور، کلہوڑوں، دائودپوتوں اور بلوچوں کے درمیان وجہ تنازع بنا ہوا تھا۔ احمد شاہ ابدالی نے اسے سبی میں شامل کرکے افغان ناظم کی تحویل میں دے دیا۔ اس کے نتیجے میں شکارپور کے راستے ماورالنہر اور خراساں تک افغانستان کی تجارت ہونے لگی اور شکارپور ایک تجارتی مرکز کی حیثیت اختیار کرگیا۔ اس کے ساتھ ہی احمد شاہ ابدالی نے اسماعیل خان کو اپنے نمائندے کی حیثیت سے سندھ میں مامور کیا۔ اسماعیل خان نے محمدآباد میں قیام کرکے سید محمد شاہ کی ماتحتی میں چند علماء ٹھٹھہ اور دوسرے علاقوں کی طرف بھجوائے تاکہ وہ سالانہ خراج وصول کرکے قندھار بھجواتے رہیں۔ اس زمانے میں احمد شاہ ابدالی کا ایک سفیر محمد بیگ شاملو بھی ٹھٹھہ پہنچا۔ اس نے محمد صالح کو ٹھٹھہ کی نظامت پیش کی۔ اس صورت حال سے محمد بیگ شاملو اور اسماعیل خان میں اختلافات پیدا ہوئے اور ٹھٹھہ کی نظامت پر قاضی محفوظ بحال ہوگیا۔ یہ پورا عرصہ دیوان گدومل نے احمد شاہ ابدالی کے دربار میں سندھ کے سفیر کی حیثیت سے گزارا اور کلہوڑوں کی نمائندگی کی۔ اس زمانے میں کئی سیاسی تبدیلیاں عمل میں آئیں اس کے باوجود میاں مرادیاب خان نے تین سال کامیابی اور کامرانی سے بسر کئے لیکن اس کے بعد چند بااثر امراء اس کے مخالف ہوگئے۔ انہوں نے1758 میں اسے اس کی اقامت گاہ یعنی عمرکوٹ سے گرفتار کرکے معزول کردیا اور اس کی جگہ اس کے بھائی میاں غلام شاہ کلہوڑہ کی تخت نشینی عمل میں آئی۔
میاں غلام شاہ کلہوڑہ کو اپنی مسند نشینی کے بعد طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ جب تک دربار قندھار سے اس کی حکومت کی توثیق نہیں ہوجاتی، اس وقت تک عزل و نصب کا جھگڑا برقرار رہتا اور متعدد دعویدار اپنے حقوق کے نام پر اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجاتے۔اس صورت حا ل کو دیوان گدو مل نے سنبھالا۔ وہ اس وقت قندھار میں متعین تھا اور خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہا تھا جس کی وجہ سے احمد شاہ ابدالی کو غلام شاہ کلہوڑہ سے کسی قسم کی شکایت نہیں تھی چنانچہ دیوان گدو مل کی حسن تدبیر اور موثر سفارش کی بنا پر سنہ 1762کی کارروائی میں احمد شاہ ابدالی نے میاں غلام شاہ کلہوڑہ کو ’’ہنر برجنگ شاہ ویری دی خان‘‘ کا خطاب مرحمت کیا اوراس کی حکومت کو سندحکم رانی عطا کردی۔ اس کے ساتھ احمد شاہ ابدالی نے ایک ہاتھی اور دوسرے تحائف بھی بھجوائے۔ جب غلام شاہ کلہوڑہ نے ’’کچھ‘‘ کی یورش پر قابو پایا اور وہاں کے راجہ پر فتح پائی اوراپنے دارالخلافہ واپس ہوئے تو احمد شاہ ابدالی نے ایک فرمان کے ذریعے ان کے منصب و اعزاز میں اضافہ کیا۔ اس طرح وہ ہنربرجنگ شاہ ویر دی خان کے ساتھ ساتھ صمصام الدولہ بھی بن گئے۔ اس کے ساتھ ایک خطاب ’’دولہ‘‘ بھی ملا۔

میاں غلام شاہ کلہوڑہ نے حتیٰ الامکان اس امر کی کوشش کی کہ دربار قندھار سے ان کے تعلقات درست رہیں چنانچہ ان کی جانب سے باقاعدگی کے ساتھ سالانہ خراج ادا کیا جاتا رہا اور دوسری جانب انہوں نے عوام کی فلاح و بہبود میں بھی پوری توجہ دی جس کی وجہ سے وہ سندھ کے باہر مقبول ترین حکمران سمجھے جانے لگے۔ انہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں ملکی معاملات کو نہایت خوش اسلوبی سے چلایا اور سیاسی اور اقتصادی حالات میں استحکام کی کیفیت پیدا کی۔ اس کے نتیجے میں احمد شاہ ابدالی کو بھی ان کی حسن کارکردگی کا اعتراف کرنا پڑا۔ چنانچہ سنہ 1767 میں احمد شاہ ابدالی نے ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازی خان کے علاقے بھی ان کے حوالے کردیئے چونکہ ان علاقوں کا نظم و نسق درست کرنے میں احمد شاہ ابدالی کے کارپرداز ناکام ہوگئے تھے، میاں غلام شاہ کلہوڑہ کو خود ان علاقوں میں پہنچ کر وہاں کے حالات کی درستی کے یےاقدامات کرنا پڑے۔

میاں غلام شاہ کلہوڑہ نے 3؍جمادی الاول سنہ 1773 کو وفات پائی۔ ان کی وفات کے بعد میاں سرفراز خان نے کاروبار حکومت سنبھالا چونکہ سندھ افغانستان کے تابع تھا، اس لئے ہر مرتبہ اس کی ضرورت پیش آتی تھی کہ دربار قندھار سے بادشاہت کی توثیق کرائی جائے لیکن کسی وجہ سے سفارت اس سلسلے میں موخر نہیں ہوئی اور وہ دربار قندھار کی جانب سے انہیں سند توثیق حاصل نہیں ہوسکی۔ سرفراز خان ابھی اسی کوشش میں تھا کہ سنہ 1773 میں احمد شاہ ابدالی کا انتقال ہوگیا۔ اس کی وفات کی خبر سنتے ہی سندھ کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ سندھ کے رہنے والوں کو پہلی مرتبہ اس امر کا احساس ہوا کہ وہ کم سے کم افغانوں کی ذہنی غلامی سے نجات پاگئے ہیں کیونکہ وہ خود مختار اور آزاد ہونے کے باوجود کسی نہ کسی طرح افغانستان کے زیرتسلط تھے اور دربار قندھار ہی کا حکم چلتا تھا۔

ابھی سندھ کے رہنے والےچبن و سکون کا سانس بھی نہ لینےپائے تھے کہ خبر آگئی کہ احمد شاہ ابدالی کی جگہ اس کا بیٹا تیمور شاہ حکمران بن گیا ہے۔ تیمور شاہ نے تخت نشین ہونے کے فوری بعد سندھ پر توجہ دی جو کہ افغان سلطنت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ تھا اور یہاں خراج کی مد میں سالانہ لاکھوں روپے حاصل ہوتے تھے ۔چنانچہ تیمور شاہ نے سرفراز خان کوسند توثیق عطا کرکے ’’خدایار خان‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ اس طرح ابدالیوں کو مزید سندھ پر قبضہ جمائے رکھنے کے مواقع دوبارہ حاصل ہوگئے۔

احمدشاہ ابدالی کی کہانی پہلی قسط
احمدشاہ ابدالی کی کہانی  تیسری قسط

 
| Bloggerized by - Premium Blogger Themes |