Ads

Showing posts with label Islamic Articles. Show all posts
Showing posts with label Islamic Articles. Show all posts

Wednesday, December 13, 2017

کیا حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہے؟؟

کیا حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہے؟؟
********************************************

حضرت خضر علیہ السلام کی کنیت ابو العباس اور نام ''بلیا'' اور ان کے والد کا نام ''ملکان'' ہے۔ ''بلیا'' سریانی زبان کا لفظ ہے۔ عربی زبان میں اس کا ترجمہ ''احمد'' ہے۔ ''خضر'' ان کا لقب ہے اور اس لفظ کو تین طرح سے پڑھ سکتے ہیں۔ خَضِر، خَضْر، خِضْر۔
''خضر'' کے معنی سبز چیز کے ہیں۔ یہ جہاں بیٹھتے تھے وہاں آپ کی برکت سے ہری ہری گھاس اُگ جاتی تھی اس لئے لوگ ان کو ''خضر'' کہنے لگے۔
یہ بہت ہی عالی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور ان کے آباؤ اجداد بادشاہ تھے۔ بعض عارفین نے فرمایا ہے کہ جو مسلمان ان کا اور ان کے والد کا نام اور ان کی کنیت یاد رکھے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ اُس کا خاتمہ ایمان پر ہو گا۔ (صاوی، ج۴،ص۱۲۰۷،پ۱۵،الکہف:۶۵)
تو آپ بھی ہوسکے تو اس کنیت کو یاد رکھئے گا۔ ابوالعباس بلیا بن ملکان۔
یہ حضرت خضر علیہ السلام حضرت ذوالقرنین کے خالہ زاد بھائی بھی تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام حضرت ذوالقرنین کے وزیر اور جنگلوں میں علمبردار رہے ہیں۔ یہ حضرت سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت ذوالقرنین حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر کے مدتوں اُن کی صحبت میں رہے اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ان کو کچھ وصیتیں بھی فرمائی تھیں۔ (صاوی،ج۴،ص۱۲۱۴،پ۱۶، الکہف:۸۳)
تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کا دور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور کے فوری بعد کا ہی ہے۔
کیا حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں۔
اس میں کچھ علماء نے اختلاف کیا ہے۔ لیکن جمہور علماء (یعنی کثیر علماء) کی یہ ہی رائے ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ بلکہ ان کی ملاقات حضرت موسی علیہ السلام سے بھی ثابت ہے حالانکہ آپ کا دور حضرت موسی علیہ السلام سے کئی سوبرس پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور کے فوری بعد کا ہے۔
تفسیر روح البیان میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے ہیں ان کے درمیان اور اور حضر ت موسی علیہ السلام کے درمیان 400 سال کا فرق ہے۔
تو اس لحاظ سے حضرت موسی علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام سے تقریبا 600 سال بعد پیدا ہوئے ہوں گے۔ واللہ تعالی اعلم
امام بدر الدین عینی صاحب شرح بخاری نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ جمہور کا مذ ہب یہ ہے اور صحیح بھی یہ ہے کہ وہ نبی تھے ۔اور زندہ ہیں ۔ (عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری مصنف بدرالدین العینی ۔کتاب العلم،باب ما ذکرفی ذہاب موسی، ج۲،ص۸۴،۸۵)
خدمت بحر(یعنی سمندر میں لوگوں کی رہنمائی کرنا) ا ِنہیں سے متعلق(یعنی انہیں کے سپرد ) ہے اور
اِلیاس علیہ السلام '' بَرّ ''(خشکی) میں ہیں۔(الاصابۃ فی تمیزالصحابۃ،حرف الخاء المعجمۃ،باب ماوردفی تعمیرہ،ج۲،ص۲۵۲)
اسی طرح تفسیر خازن میں ہے کہ ۔اکثر عُلَماء اس پر ہیں اور مشائخِ صوفیہ و اصحابِ عرفان کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں ۔ شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر و الیاس دونوں زندہ ہیں اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ یہ بھی اسی میں منقول ہے کہ حضرت خضر نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی پیا۔
اسی طرح تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ صحابی بھی ہیں۔ (صاوی، ج۴،ص۱۲۰۸،پ ۱۵، الکہف:۶۵)
اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ان کی ملاقات ثابت ہے۔اور حضرت خضر علیہ السلام نے ان کو نصیحت بھی فرمائی تھی ۔ کہ اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات سے بچنا کہ تو ظاہر میں تو خدا کا دوست ہو اور باطن میں اس کا دشمن کیونکہ جس کا ظاہر اورباطن مساوی نہ ہو تو منافق ہوتاہے اور منافقوں کا مقام درک اسفل ہے ۔یہ سن کر عمربن عبدالعزیزرضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں تک روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔ (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص39)
اور بھی بزرگان دین نے ان سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔واللہ تعالی اعلم


آب حیات کی حقیقت:۔
آب حیات کے متعلق بہت اختلاف ہے۔ بعض لوگ اس کو ایک افسانے کے علاوہ کچھ نہیں کہتے ۔ کیونکہ آب حیات کا تذکرہ نہ قرآن میں ہے نہ ہی کسی صیحح حدیث میں۔
ہاں کچھ علماء کرام نے اس کا تذکرہ اپنی تفسیر میں حضرت ذوالقرنین کے پہلے سفر کے ذمرے میں کیا ہے۔
جیسے کہ تفسیر خزائن العرفان پ۱۶، الکہف: ۸۶تا ۹۸ میں نقل ہے۔حضرت ذوالقرنین نے پرانی کتابوں میں پڑھا تھا کہ سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک شخص چشمہ ء حیات سے پانی پی لے گا تو اس کو موت نہ آئے گی۔ اس لئے حضرت ذوالقرنین نے مغرب کا سفر کیا۔ آپ کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے وہ تو آب ِ حیات کے چشمہ پر پہنچ گئے اور اس کا پانی بھی پی لیا مگر حضرت ذوالقرنین کے مقدر میں نہیں تھا، وہ محروم رہ گئے۔ اس سفر میں آپ جانب مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی کا نام و نشان ہے وہ سب منزلیں طے کر کے آپ ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ انہیں سورج غروب کے وقت ایسا نظر آیا کہ وہ ایک سیاہ چشمہ میں ڈوب رہا ہے۔ جیسا کہ سمندری سفر کرنے والوں کو آفتاب سمندر کے کالے پانی میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔ وہاں ان کو ایک ایسی قوم ملی جو جانوروں کی کھال پہنے ہوئے تھی۔ ا س کے سوا کوئی دوسرا لباس ان کے بدن پر نہیں تھا اور دریائی مردہ جانوروں کے سوا ان کی غذا کا کوئی دوسرا سامان نہیں تھا۔ یہ قوم ''ناسک''کہلاتی تھی۔ حضرت ذوالقرنین نے دیکھا کہ ان کے لشکر بے شمار ہیں اور یہ لوگ بہت ہی طاقت ور اور جنگجو ہیں۔ تو حضرت ذوالقرنین نے ان لوگوں کے گرد اپنی فوجوں کا گھیرا ڈال کر ان لوگوں کو بے بس کردیا۔ چنانچہ کچھ تو مشرف بہ ایمان ہو گئے کچھ آپ کی فوجوں کے ہاتھوں مقتول ہو گئے۔
اسی طرح تفسیر خازن اور شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر اور الیاس جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں ،اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ اور یہ کہ حضرت خضر نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی بھی پیا تھا۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔
بس آب حیات یا چشمہ حیات کی اتنی حقیقت ہی کتب میں لکھی ہے۔مگر اصل حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ واللہ تعالی اعلم

*****************

Tuesday, October 24, 2017

حجاب کس کو کہتےہیں؟

حجاب کس کو کہتےہیں؟

تم نے کہا کہ یہ ڈیڑھ گز کا کپڑے کا ٹکڑا حجاب ہے ؟
اچھا یہ بتاو تم کیک بہت اچھا بناتی ہو کبھی اسےبیک کرکےکھلا چھوڑ کہ دیکھنا کہ کس قدر مکھیوں کا جھمگٹا اس پر چمٹا ہوگا ؟
قصور کس کا ہوگا تمہارا یا ان مکھیوں کا ؟؟؟ ان کا تو کام یہی ہے۔۔۔ اس لیے قصور بھی تمہارا ہوا نا تمہیں اسے ڈھانپ کہ رکھنا چاہیے تھا ناکہ تک اب مکھیوں سے جھگڑنا شروع کردو ۔۔
بس ایسے ہی اگر ہم بے ہودہ فیشن زدہ لباس میں ملبوس باہر نکلیں گے تو ہم کسی کی نگاہوں پر پابندی لگانے کے مجاز نہیں ہیں کہ کسی نے ہمیں کس نگاہ سے کیوں دیکھا پھر آپ نے خود کو بپلک کے لیے اوپن کردیا اب انکی حرکتوں پر چیغ و پکار کیسی ؟؟؟
اچھا یہ بتاو کبھی تم نے آرٹیفیشل جیولری کو دیکھا ہے جو ہر دوکان پر بلکل سامنے ہی پڑی ہوتی ہے
جس نے نہیں خریدنی ہوتی وہ بھی چھوتا جاتا ہے بس یونہی گزرتے گزرتے اس لیے کے وہ سامنے ہی پڑی ہوتی ہے ہر ایک کی پہنچ میں ہوتی ہے۔۔۔
مگر کیا کبھی گولڈ اور ڈائمنڈ کی شاپ پر دیکھا کہ ہر ایک جا کر وہاں سے کچھ اٹھا لے کسی چیز کو چھو لے ؟؟
نہیں بلکہ وہاں صرف وہ جاتا ہے جو اس کا حقییقی حقدار اور لینے والا ہوتا ہے
کیا تم نے دیکھا ہے گولڈ اور ڈائمنڈ جس میں رکھا جاتا ہے وہ غلاف کیسا ہو تا ہے ؟؟ْ
 کس قدر نرم و ملائم!
اچھا یہ بتاو تم اپنی قیمتی چیزوں کو کہاں رکھتی ہو ؟؟
کیا تم انہیں سبنھال کر کسی محفوظ جگہ میں نہیں رکھتیں ؟؟
اسی لیے نہ تاکہ باہر کی گرد و غبار انہیں میلا نہ کردے ۔۔۔
مگر بات صرف ڈیرھ گز کے حجاب اور چار گز کےعبایا کے اس ٹکڑے کی نہیں ۔۔۔
بات تو اس محبت کی ہے جو تمہارے رب کو تم سے ہے،
بات تو اس فکر کی ہے جو وہ پیارا رب تمہارے لیے کرتا ہے ،اور اسی وجہ سے اس نے اس حجاب کو تمہارے لیے چنا
اور بات تو اس احسان کی ہے جو اس عظمتوں والے رب نے تم پر کیا
اور تمہیں ایک محفوظ حصار عطا کردیا اور اس کی محبتوں کا ذرا سا تصور اس کی اس ایک بات سے لگاو کہ وہ یہ نہیں کہتا کہ تم قید ہوجاو بلکہ وہ تو کہتا ہے کہ میں نے اس حجاب کو تمہاری پہچان بنادیا ہے اب لوگ تمہیں دور سے پہچان لیا کریں گے اور پھر تم ستائی نہیں جاوگی ۔
کیا تمہیں نہیں لگتا اس ایک آیت سے کہ جیسے اس محبتوں والے رب نے تمہیں اپنے ہاتھوں کے پیچھے چھپالیا ہو کہ اب کوئی اس کی جانب دیکھنا بھی چاہے تو کامیاب نہیں ہوسکتا ۔۔!
کیا تمہیں نہیں لگتا کہ اس نے تمہیں اس دنیا کی سب سے قیمتی شے بنایا اتنی قیمتی جس تک ہر ایک کی پہنچ نہیں جس کا اصل حقدار ہی صرف اس تک رسائی حاصل کرسکتا ہے ۔۔ !
سوچو اس نے تو تمہیں کسی بھی ہیرے سے ذیادہ قیمتی بنایا جسے غلافوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے تو کیا یہ اس ہیرے کے ساتھ ظلم ہوتا ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے ؟؟
اگر کہیں اس ہیرے کو کھلا پھینک دیا جائے تو تمہارے خیال میں کتنے دن وہ اپنی اصل حالت پر رہ پائے گا ؟

***********



Wednesday, September 20, 2017

شرک کیا ہے؟

شرک کیا ہے؟ 
اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں مخلوق میں سے کسی کو شریک کرنا شرک ہے چاہے کوئی مخلوق میں سے کسی کو اللہ کے برابر سمجھے یا مد مقابل یا وہ کام جو اللہ کی ذات کے ساتھ خاص ہیں وہ مخلوق کے لئے کرتا ہے تب بھی وہ شرک کا ارتکاب کرتا ہے۔ 
شرک وہ سنگین جرم ہے جو ساری عبادات و اعمال کو غارت کردیتا ہے اور اگر کوئی شخص توبہ کے بغیر مرجاتا ہے تو یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ ارشاد ربانی ہے:۔

إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ‌ أَن يُشْرَ‌كَ بِهِ وَيَغْفِرُ‌ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِ‌كْ بِاللَّـهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١١٦﴾... سورةالنساء
‘‘ اللہ تعالیٰ اس شخص کو نہیں بخشے گا جس نے اس کے ساتھ شرک کیا وہ بڑی دور کی گمراہی میں مبتلا ہوگیا۔’’
اسی طرح قرآن حکیم میں اور بھی بہت سے مقامات پر شرک کے ظلم عظیم ہونے کا ذکر کیا گیا ہے اور مشرک کو ابدی جہنمی قرار دیا گیا ہے ۔ شرک کی نوعیت معلوم کرنے کے لئے درج زیل امور کا جاننا ضروری ہے: 
(۱) سب سے پہلے اللہ ذات کی پہچان اور اس کی صفات کی معرفت اور توحید کا حقیقی مفہوم جاننا ضروری ہے ۔ کیونکہ شرک توحید کی ضد ہے اور توحید کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات میں وحدہ لاشریک ہے اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے پہلے جز کا یہی مطلب ہے مثلاً توحید باری تعالیٰ یہ ہے کہ: 
ا۔ کائنات کی کوئی چیز بھی اللہ کی ذات کی مانند نہیں۔ 
ب۔ اللہ کوکوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی۔ 
ج ۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت روانہیں۔ 
د۔ وہ ذات نہ فنا ہوگی نہ ختم ہوگی۔ 
ھ۔ اس جہاں میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے حکم اور مشیت سے ہوتا ہے۔ 
و۔ وہ زندہ ہے اسے موت نہیں آئے گی اور نہ ہی اسے نیند آتی ہے۔ 
ز۔ موت اور زندگی کلی طور پر اس کے ہاتھ میں ہے۔ 
ح۔کائنات کہ ہر چیز اس کے ارادے کے مطابق چلتی ہے اور وہی نفع نقصان کا مالک ومختار ہے۔ 
یہ اور اس طرح کی متعدد دوسری صفات میں وہ واحد ویکتا ہے ۔ اب مثلاً 
(۱) کوئی شخص مخلوق میں سے کسی کےبارے میں ( چاہے وہ کتنی ہی بلند ہستی کیوں نہ ہو) یہ کہتا ہوکہ اسے موت نہیں آتی یا وہ ہمیشہ زندہ ہےتو یہ شرک ہوجائے گا۔ 
یا یہ کہتا ہے کہ بتوں کی عبادت تو شرک ہے مگر اللہ کے نیک بندو ں کی عبادت جائز ہے تو وہ غلطی پر ہے۔ اور شرک کاارتکاب کررہاہے۔ 
(۲)دوسری بات جس کا جاننا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ شرک کا معنی یہ نہیں کہ اللہ کا انکار کردیا جائے۔ انبیاء کو جھٹلایا دیا جائے تب ہی کوئی مشرک ہوتا ہے بلکہ اللہ کی ذات کو ماننے والے اور نبیوں کو ماننے والے بھی مشرک ہوسکتے ہیں۔ 
قرآن نے اسے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ اللہ پر ایمان کے باوجود لوگ مشرک ہیں اور ان کی اکثریت شرک میں مبتلا ہے ۔ا رشاد باری تعالیٰ ہے۔

( وما یومن اکثرھم باللہ الاوھم مشرکون) ( یوسف : ۱۰۶)
‘‘ یعنی لوگوں میں سے اکثر ایمان کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں۔’’
یہود و نصاریٰ کو جومشرک قرار دیا گیا وہ اس لئے نہیں کہ ملحد اورمنکرین وجود باری تعالیٰ تھے بلکہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے بعض برگزیدہ ہستیوں کو اللہ کی صفات میں شریک کرلیا تھا اور انہیں بھی نفع و نقصان کا مالک قراردیا تھا حالانکہ وہ اللہ کو مانتے تھے اور ان میں بڑے بڑے بعض مذہبی پیشوا اور درویش موجود تھے جو ان کی مذہبی راہ نمائی کرتے تھے مگر اس کے باوجود مشرک ٹھہرائے گئے۔ 
(۳)تیسری بات جس کا علم ہونا ضروری ہے وہ یہ کہ مشرکین عرب یہ ہرگز نہیں کہتے تھے کہ وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے بلکہ مشرکین مکہ ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ ہم تو انہیں اللہ تک پہنچنے کا وسیلہ اور ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیتے ہیں یا اس تک پہنچا دیتے ہیں اور یہ تصور اور عقیدہ ان کے ہاں پایا جاتا تھا کہ اللہ ہماری براہ راست نہیں سنتا ہم گنہگار ہیں اس لئے ہم ان تک اور یہ آگے اللہ تک ہماری التجائیں پہنچاتے ہیں۔ 
قرآن نے اس ماننے کو بھی عبادات قرار دیا ہے باوجود اس کے کہ وہ حقیقی عبادت اللہ ہی کہ کرتے تھے۔ غیر اللہ کو تو مجازی سمجھتے تھے ۔ قرآن نے اسے بھی عبادت قرار دیا ارشاد ہے:

 وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّ‌بُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ ...﴿٣﴾... سورةالزمر
‘‘ یعنی جن لوگوں نے اللہ کے سوا کچھ حمایتی اور دوست بنا لئے ہیں وہ یہ کہتے ہیں ہم تو ان کی عبادت اس لئے کرتے ہیں تا کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔’’
اس لئے اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھ کر کسی مخلوق کا واسطہ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے بیچ میں لاتا ہے کہ اللہ اس کی سنتا نہیں یا وہ بہت دور ہے درمیانی واسطے کے بغیر اس تک پہنچنا ممکن نہیں یا یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ اتنی بڑی ذات ہے کہ کوئی عام آدمی اس تک پہنچ نہیں سکتا تو یہ بھی شرک کے کاموں میں شمار ہوتا ہے۔ کیوں کہ قرآن نے واضح طور پر بیان کردیا کہ:

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِ‌يبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْ‌شُدُونَ ﴿١٨٦﴾. سورة البقرة
کہ اے پیغمبر میرا بندہ جب آپ سے میرے بارے میں پوچھے تو اسے بتا دیں کہ میں قریب ہوں اور دعا مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب بھی وہ دعا مانگتا ہے۔ انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ راہ راست پر آجائیں۔
دوسری آیت میں ہے:

وَنَحْنُ أَقْرَ‌بُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِ‌يدِ ﴿١٦﴾... سورةق
‘‘ کہ ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔’’
اب اس کے بعد یہ خیال بالکل باطل ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت دور ہے کہ اس تک کسی واسطے کے بغیر پہنچنا ممکن نہیں۔ 
(۴)شرک کے ضمن میں چوتھی بات جس کا جاننا ضروری ہے کہ بعض مشرکانہ ذہن کے لوگ جو یہ بات پھیلاتے ہیں کہ کس کام کو شرک قرار دیا گیا وہ بتوں سے متعلق تھا کہ اگر بت کو اللہ کی ذات یا صفات میں شریک کیا جائے تب مشرک ہے اور اگر اللہ کے نیک اور متقی بندوں کو پکارا جائے ان کی نذر مانی جائے یا تعظیم کے طور پر سجدہ کیا جائے یا انہیں نفع و نقصان کا مالک سمجھا جائے تو یہ شرک نہیں کیونکہ یہ تو اللہ کے نیک بندے تھے بت تو نہیں تھے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا دھوکہ اور فریب ہے۔قرآن نے پوری طرح واضح کر دیا کہ وہ صرف بتوں کی نہیں نیک انسانوں کی بھی پرستش کرتے تھے۔ مشکل کے وقت انہیں پکارتے تھے۔ 
ارشاد ربانی ہے:

إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ... ﴿١٩٤﴾... سورةالاعراف
‘‘ یعنی اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے انسان ہیں۔’’
دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا کہ:

﴿وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْ‌يَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّـهِ...١١٦﴾... سورة المائدة
‘‘ اور جب اللہ کہے گا اے عیسیٰ بن مریم کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود مانو۔’’
‘‘اب ظاہر ہے حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم اللہ کے برگزیدہ بندوں میں سے تھے بت نہیں تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ بتوں کےعلاوہ انسانوں اور اللہ کے نیک بندوں کی بھی عبادت کی گئی اور یہ بھی من دون اللہ اور غیر اللہ میں شامل ہیں۔ 
(۵)اس بارے میں ایک پانچویں قابل ذکر بات یہ ہے کہ کیا اللہ نے اپنے نیک بندوں انبیاء اولیاء اور شہداء کو کچھ اختیارات دیئے ہیں یا کچھ معاملات ان کے سپرد کردیئے ہیں کہ جس طرح وہ چاہیں تصرف کریں اور لوگوں کے درمیان فیصلے کریں؟ کیونکہ یہ شبہ بھی پھیلاتا جاتا ہے کہ ہم تو انہی کو پکارتے ہیں مشکل کشا سمجھتے ہیں یا سفارشی مانتے ہیں جنہیں خود اللہ نے یہ اختیار دیا ہے اور وہ اللہ کے دیئے ہوئے اختیار ہی سے یہ کام کرتے ہیں۔ 
یہ بھی بالکل غلط اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ 
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں نہ کسی کو نائب بنایا اور نہ ہی اپنے بعض اختیارات کسی کو منتقل کئے کہ وہ اس کی طرف سے ان اختیارات کو استعمال کریں۔ اگر سرورعالم ﷺ یہ فرمارہے ہیں کہ مجھے بھی تصرف کا اختیار نہیں پھر کسی دوسرے کی کیامجال ہے۔ 
ارشاد ربانی ہے۔

﴿قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّ‌ا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْ‌تُ مِنَ الْخَيْرِ‌ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ...١٨٨﴾.... سورة الاعراف
‘‘ اور آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنے نفس کے لئے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر جو کچھ چاہے اللہ اور اگر میں غیب جانتا تو بہت فائدہ حاصل کرتا اور مجھے کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔’’
جب کسی کے پاس ایسی کوئی سند ہی نہیں کہ اسے اللہ تعالیٰ نے کوئی اختیار سونپ دیا ہے یا اسے کائنات میں تصرف کرنے کی اجازت دی ہے یا اسے ایسے مقام پرفائز کیا ہے کہ وہ لوگوں کی حاجتیں اور ضرورتیں پوری کرے تو یہ کیسے معلوم ہوگا کہ وہ کون ہے جسے یہ اختیار سونپا گیا ہے۔ محض خود اپنے دعوے سے تو ہر ایک بہروپیہ ولی قطب اور ابدال ہونے کا دعوی کرے گا مگر اصل دلیل قرآن وسنت سے چاہئے۔ اگر یہ نہیں تو ساری باتیں اور دعوے باطل ہوں گے۔

*************

Thursday, November 10, 2016

بیت الخلا، شیطان اور ہمارے گھروں میں لڑائی جھگڑے

بزرگوں سے سنا ہے کہ بیت الخلا خبیث اور شرارتی جنوں کے رہنے کی جگہ ہے کیونکہ وہ گندی جگہوں پر رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں. اسی لیے پہلے زمانوں میں لوگ گھروں میں بیت الخلا نہیں بنایا کرتے تھے بلکہ قضائے حاجت کے لیے گھروں اور آبادی سے دور ویرانوں میں جایا کرتے تھے. پھر وقت کے ساتھ ساتھ لوگ بدلتے گئے اور سہولیات کے عادی ہوگئے چنانچہ پہلے گھروں کے ساتھ بیت الخلا بنانے کا رواج ہوتا پھر یہ گھر کے اندر آگئے. اور اب تو یہ حال ہے کہ ہر کمرے کے ساتھ "اٹیچ باتھ روم" ہر گھر کی ضرورت بن گیا ہے. یہ اٹیچ باتھ روم سہولت کے ساتھ ساتھ ان خبیث جنوں کو بھی گھروں میں لے آئے ہیں جن کی یہ پسندیدہ جگہ ہے. اسی وجہ سے گھروں میں بیماریوں، پریشانیوں اور لڑائی جھگڑوں میں اضافہ ہوا ہے. اب چونکہ باتھ روم کو تو گھر سے باہر منتقل کرنا ممکن نہیں اس لیے مسنون دعاؤں کے اہتمام سے ان خبیث جنوں سے بچا جاسکتا ہے.

ایک تو گھر میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم کہنا اپنی عادت بنائیں اور دوسرا یہ کہ گھر کا ہر فرد چاہے بچہ ہو یا بڑا اسے بیت الخلا میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعا سکھا دیں اور اہتمام کی عادت ڈالیں. جو لوگ اپنے گھروں میں بیماریوں، پریشانیوں اور لڑائی جھگڑوں سے پریشان ہیں وہ اس عمل کی پابندی کرلیں چند دن میں ہی حیرت انگیز نتائج حاصل ہونگے.
بیت الخلاء میں داخل ہونے اور اس سے نکلنے کی
٭۔داخل ہوتے وقت پہلے بایاں اور پھر دایاں پاؤں اندر رکھے اور نکلتے وقت پہلے دایاں پھر بایاں پاؤں باہر رکھے۔
٭۔داخل ہونے کی دعا پڑھنا:
’’ اَللّٰہُمَّ إنِّیْ أعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ‘‘
’’ اے اللہ ! میں مذکر شیطانوں اور مؤنث شیطانوں سےتیری پناہ میں آتا ہوں ۔‘‘ (بخاری،مسلم )
نبی کریم ﷺ نے شیطانوں کے شر سے اللہ تعالی کی پناہ اس لئے طلب فرمائی کہ عام طور پر شیطان بیت الخلاء میں ہی رہتے ہیں ۔
٭۔نکلنے کی دعا پڑھنا:
’’ غُفْرَانَکَ ‘‘ ( ترمذی ، أبو داؤد ،ابن ماجہ )
’’ اے اللہ ! میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں ۔‘‘

اسلامی معلومات

سب سے پہلے جمعہ کس نے قائم کیا ؟
جواب: - حضرت اسد بن جراره نےقائم کیا.
سوال: - قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان کس چیز کا فیصلہ ہوگا؟
جواب: - خون کا فیصلہ ہو گا.

سوال: - سب سے پہلے دنیا کی کون سی نعمت اٹھائی جائے گی ؟
جواب: - شہد.
سوال: - اسلام میں سب سے پہلے مفتی کون ہوئے ؟
جواب: - حضرت ابو بکر صدیق رضی االله عنہ.
سوال: - سب سے پہلے بیس ركات تراويح با جماعت کس نے رائج کی ؟
جواب: - حضرت عمر فاروق اعظم رضی االل عنہ.
سوال: - اسلام میں سب سے پہلے راہ خدا میں شامل اپنی تلوار کس نے نکالی ؟
جواب: - حضرت زبیر بن اووام نے.
سوال: - مکہ کی سرزمین پر بلند آواز سے قرآن پاک کس نے پڑھا ؟
جواب: - حضرت عبداللہ بن مسعود نے.
سوال: - اسلام میں سب سے پہلے شاعر کون ہوئے ؟
جواب: - حضرت حسان بن ثابت.
سوال: -. اسلام میں سب سے پہلے شہادت کس کی ہوئی ؟
جواب: - عمار بن یاسرکی ماں سمييہ کی.
سوال: - کیا آپ جانتے ہیں سب سے پہلے گیہوں کی کاشت کس نے کی؟
جواب: - حضرت آدم علیہ السلام نے.
سوال: - سب سے پہلے سر کے بال کس نے منڈوائے؟
جواب: - حضرت آدم علیہ السلام نے منڈوايا، اور منڈنے والے حضرت جبرائیل امین تھے.
سوال: - سب سے پہلے قلم سے کس نے لکھا ؟
جواب: - حضرت ادریس علیہ السلام نے.
سوال: - سب سے پہلے چمڑے کا جوتا کس نے بنایا ؟
جواب: - حضرت نوح علیہ السلام نے.
سوال: - سب سے پہلے ختنہ کس نے کیا ؟
جواب: - حضرت ابراہیم علیہ السلام نے.
سوال: - سر زمانہ عرب میں سب سے پہلے کون سے نبی تشریف لائے ؟
جواب: - حضرت هود علیہ السلام.
سوال: - سب سے پہلے آشورہ کا روزہ کس نے رکھا.؟
جواب: -  نوح علیہ السلام نے.
سوال: - سب سے پہلے خدا کی راہ میں کس نے جہاد کیا ؟
جواب: - حضرت ابراہیم علیہ السلام نے.
سوال: - سب سے پہلے صابن کس نے ایجاد کیا ؟
جواب: - حضرت سلیمان علیہ السلام نے.
سوال: - سب سے پہلے کاغذ کس نے تیار کیا ؟
جواب: - حضرت یوسف علیہ السلام نے.
سوال: - قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کون کریں گے ؟
جواب: - همارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم.
سوال: - سب سے پہلے کس نبی کی امت جنت میں داخل ہوگی ؟
جواب: - میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی امت.

دعا میں ضرور یاد رکھے گا.

=: نماز کے 7 انعام
1 روزی میں برکت
2 تندرست صحت
3 نیك اولاد
4 خوشحال گھر
5 دنيا میں عزت
6 میدان حشر میں جام كوثر
7 آخرت میں جنت
اسے صرف اپنے تک ہی مت رکھئے. شیئر کرکے
دوسروں کو بھی بتائے.

عورت خدا کا دیا ہوا ایک نایاب تحفہ ہے.

پریگننٹ عورت کی 2 ركات نماز عام عورت کی 70 ركات نماز سے بڑھ کر ہے.

شوهر پریشان گھر آئے اور بیوی اسے تسلی دے تو اسے جہاد کا ثواب ملتا ہے.

جو عورت اپنے بچے کے رونے کی وجہ سے سو نہ سکے، اس کو 70 غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے.

شوهر اور بیوی ایک دوسرے کو محبت کی نظر سے دےكھے، تو اللہ انہیں محبت کی نظر سے دیکھتا ہے.

جو عورت اپنے شوهر کو اللہ کی راہ مے بھیجے، وہ جنت مے اپنے شوهر سے 500 سال پہلے جائے گی.

جو عورت آٹا گوندتے وقت بسم اللہ پڑھے تو اس کے رزق میں برکت ڈال دی جاتی ہے.

جو عورت غیر مرد کو دیکھتی ہے اللہ اس پر لعنت بھیجتا ہے.

جب عورت اپنے شوهر کے بغیر کہے ان کے پیر دباتي ہے تو اسے 70 تولا سونا صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے.

جو پاک دامن عورت نماز روزے کی پابندی کرے اور جو شوهر کی خدمت کرے اس کے لئے جنت کے 8 دروازے کھول دیے جاتے ہے.

عورت کے ایک بچے کے پیدا کرنے پر 75 سال کی نماز کا ثواب اور ہر ایک درد پر 1 حج کا ثواب ہے.

باریك لباس پہننے والی اور غیر مرد سے ملنے والی عورت کبھی جنت مے داخل نهي ہوگی.

جلدي كرو

(1) مہمان کو کھانا کھلانے میں
(2) ميت دفن کرنے میں
(3) بالغ لڑكيوں کا نکاح کرانے میں
(4) قرض ادا کرنے میں
(5) گناهوں سے توبہ کرنے میں

"استغفر اللہ ربی من کلی ذنبن و اتوبو الیہ"

Saturday, November 5, 2016

ایک شیعہ عالم کی حق بات نے زلزلہ برپا کر دیا ہے

!!..ایک شیعہ عالم کی حق بات نے زلزلہ برپا کر دیا ہے

الجزیرہ عربی کے پروگرام" اتجاہ معاکس" کے اینکر پرسن "ڈاکٹر فیصل قاسم" نے کہا ہے کہ :" عراق کے مشہور شیعہ عالم دین اور راہنما مقتدی الصدر کے معاون نے ایک مضمون لکھا ہے جس کا نام ہے " ہم بے حیا قوم ہیں"

 اور مضمون میں مندرجہ ذیل حقائق پر روشنی ڈالی ہے
شام،عراق اور فارس کو فتح کرنے والا عمر بن الخطاب (سنی ) تھے۔
سند ،ہند اور ماوراء النہر کو فتح کرنے والا محمد بن قاسم (سنی) تھے۔
شمالی افریقہ کو فتح کرنے والا قتیبہ بن مسلم(سنی) تھے۔
اندلس کو فتح کرنے والا طارق بن زیاد اور موسی بن نصیر دونوں(سنی ) تھے۔
قسطنطینیہ کو فتح کرنے والا محمد الفاتح( سنی) تھے۔
صقلیہ کو فتح کرنے والا اسد بن الفرات(سنی) تھے۔
اندلس کو مینارہ نور اور تہذیبوں کا مرکز بنانے والی خلافت بنو امیہ کے حکمران (سنی)تھے۔
تاتاریوں کو عین جالوت میں شکست دینے والا سیف الدین قطز اور رکن الدین بیبرس دونوں(سنی) تھے۔
صلیبیوں کو حطین میں شکست دینے والے صلاح الدین ایوبی(سنی) تھے۔
مراکش میں ہسپانویوں کا غرور خاک میں ملانے والا عبد الکریم الخطابی (سنی) تھے۔
اٹلی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے عمر المختار (سنی) تھے۔
چیچنیا میں روسی ریچھ کو زخمی کرنے اور گرزنی شہر کو فتح والے خطاب (سنی) تھے۔
افغانستان میں نیٹو کا ناگ زمین سے رگڑنے والے (سنی )تھے۔
عراق سے امریکہ کو بھاگنے پر مجبور کرنے والے ( سنی تھے)۔
فلسطین میں یہودکی نیندیں حرام کرنے والے (سنی) ہیں۔
ہم اپنے بچوں کو کیا بتائیں گے؟؟!!
حسین کو عراق بھلا کر کربلاء میں بے یارومدد گار چھوڑنے والے مختار ثقفی (شیعہ) تھے۔
عباسی خلیفہ کے خلاف سازش کر کے تاتاریوں سے ملنے والے ابن علقمی (شیعہ )تھے ۔
ہلاکوخان کا میک اپ کرنے والے نصیر الدین طوسی (شیعہ) تھے۔
تاتاریوں کو بغداد میں خوش آمدید کہنے والے(شیعہ) تھے۔
شام پر تاتاریوں کے حملوں میں مدد کرنے والے(شیعہ) تھے۔
مسلمانوں کے خلاف فرنگیوں کے اتحادی بننے والے فاطمیین( شیعہ) تھے۔
سلجوقی سلطان طغرل بیگ بساسیری سے عہد شکنی کرکے دشمنوں سے ملنے والے(شیعہ) تھے۔
فلسطین پر صلیبیوں کے حملے میں ان کی مدد کرنے والا احمد بن عطاء(شیعہ) تھے۔
صلاح الدین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانے والے کنز الدولۃ (شیعہ)تھے۔
شام میں ہلاکوں خان کا استقبال کرنے والا کمال الدین بن بدر التفلیسی (شیعہ) تھے۔
حاجیوں کو قتل کر کے حجر اسود کو چرانے والا ابو طاہر قرمطی (شیعہ) تھے۔
شام پر محمد علی کے حملے میں مدد کرنے والے ( شیعہ) تھے۔
یمن میں اسلامی مراکز پر حملے کرنے والے حوثی (شیعہ ) ہیں۔
عراق پر امریکی حملے کو خوش آمدید کر کے ان کی مدد کرنے والے سیستانی اور حکیم (شیعہ) ہیں۔
افغانستان پر نیٹو کے حملے کو خوش آئند کہہ کر ان کی مدد کرنے والے ایرانی حکمران (شیعہ) ہیں۔
شام میں امریکہ کی مدد اور بشار سے مل کر لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر نے والے اور خلافت کی تحریک کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کرنے والے عراقی حکمران،ایرانی حکمران اور لبنان کی حزب اللہ (شیعہ) ہیں۔
خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر کے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والا اسماعیل صفوی (شیعہ) تھے۔
برما کے مسلمانوں کے قتل پر بت پرستوں کی حمایت کا اعلان کرنے والا احمد نجاد( شیعہ ) ہے۔
شام کے لوگوں پر بشاری کی بمباری کی حمایت کرنے والا اور اس کو سرخ لکیر قرار دینے والا خامنئی (شیعہ) ہے۔
صحابہ کو گالیا دینے والے اور خلفائے راشدین اور اور امہات المومنین کے بارے میں شرمناک باتیں لکھنے والے قلم (شیعہ) ہیں۔
سلطان ٹیپو کے خلاف انگریز سے ملنے والے میر جعفر اور میر صادق (شیعہ) تھے۔
اگرسارے واقعات لکھےجائیں تو کئی جلدوں کی کتابیں تیار ہو سکتی ہیں، ہم اپنی نسلوں کو کیا جواب دیں گے ؟؟!!
!!!یہ سب خو دایک شیعہ عالم اور حق گو آدمی کہہ رہا ہے 
********

Wednesday, November 2, 2016

صلیبی ذہنیت

صلیبی ذہنیت

آج میں آپ کو 1169ء کی کہانی سنارہا ہوں، یہ وہ وقت تھا جب عیسائی بادشاہ آگسٹس سلطان نور الدین زنگی کے ہاتھوں ذلت ناک شکست کھاکر تمام مفتوحہ علاقے واپس کر چکا تھا۔اس نے نور الدین زنگی کو تاوان بھی دیا اور جنگ نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کرکے جزیہ بھی ادا کیا۔لیکن اس شکست کے بعد اس نے کرک کے قلعے میں اسلام کی بیخ کنی کے منصوبے بنانے شروع کردیئے، اس کے اسلام دشمن خبطی رویئے اور خفیہ چالوں کی وجہ سے اس کے بعض حواری صلیبی حکمران اور جرنیل اسے شک و شبے کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ اس کے اپنے ساتھیوں نے اس پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اندر سے مسلمانوں کا دوست ہے اور اْن کے ساتھ سودے بازی کررہا ہے۔

یورپی مورخ اندرے آزون لکھتا ہے کہ ایسے ہی ایک موقع پر آگسٹس نے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا’’ایک مسلمان حکمران کو پھانسنے کیلئے میں اپنی کنواری بیٹیوں کو بھی اس کے حوالے کرنے سے گریز نہیں کروں گا۔تم مسلمانوں کے ساتھ صلح نامے اور دوستی کے معاہدے کرنے سے گھبراتے ہو کیونکہ اس میں تم اپنی توہین کا پہلو دیکھتے ہو۔لیکن تم یہ نہیں سوچتے کہ مسلمان کو میدان جنگ کی نسبت صلح کے میدان میں مارنا زیادہ آسان ہے۔میرا نظریہ یہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر اْن کے آگے ہتھیار ڈال کر صلح نامہ کرو،معاہدہ کرو اور گھر آکر معاہدے اور صلح نامے کے الٹ عمل کرو،کیا میں ایسا نہیں کررہا؟میں ہر ایک غیر مسلم سے کہوں گا کہ مسلمانوں کے ساتھ معاہدے کرو اور انہیں دھوکہ دے کر مارو۔‘‘

مورخین نے یہاں تک لکھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بعض صلیبی حکمرانوں نے میدان جنگ کو اہمیت دینا چھوڑ دی اور وہ اِس نظریئے کی قائل ہوگئے کہ جنگ اِس طریقے سے لڑو کہ مسلمانوں کی جنگی طاقت زائل ہوتی رہے۔ان کے نزدیک عقلمندی کا تقاضہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد پر زور دار حملہ کرو۔ان کے دلوں میں ایسے وہم پیدا کردو جو مسلمان قوم کے درمیان بد اعتمادی ، نفرت اور حقارت کو جنم دیں۔’’فلپس آگسٹس‘‘ اس مکتبہ فکر کے مفکروں میں سر فہرست تھا،جو اسلام دشمنی کو اپنے مذہب کا بنیادی اصول سمجھتا تھا اور کہا کرتا تھا ہماری جنگ صلاح الدین ایوبی اور نور الدین زنگی سے نہیں،یہ صلیب اور اسلام کی جنگ ہے جو ہماری زندگی میں نہیں تو کسی نہ کسی وقت ضرور کامیاب ہوگی۔ بس اِس کیلئے ضروری ہے مسلمانوں کی اٹھتی ہوئی نسل کے ذہن میں مذہب کے بجائے جنسیت بھردو اور انہیں ذہنی عیاشی میں مبتلا کردو۔انہیں معاہدے کی زنجیروں میں جکڑ کر بے بس کر دو۔

ہمیں تاریخ کا وہ منظر کبھی نہیں بھولنا چاہیے ،جب جولائی 1187ء کو حطین کے میدان میں سات صلیبی حکمرانوں کیمتحدہ فوج کو جو مکہ اور مدینے پر قبضہ کرنے آئی تھی،ایوبی سپاہ نے عبرتناک شکست دے کر مکہ اور مدینہ کی جانب بری نظر سے دیکھنے کا انتقام لے لیا تھا اور اب وہ حطین سے پچیس میل دور عکرہ پر حملہ آور تھا، سلطان نے یہ فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ عکرہ صلیبیوں کا مکہ تھا۔سلطان اسے تہہ تیغ کرکے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا انتقام لینا چاہتا تھا،بیت المقدس سے پہلے سلطان عکرہ پر اِس لیے بھی قبضہ چاہتا تھا کہ صلیبیوں کے حوصلے پست ہوجائیں گے اور وہ جلد ہتھیار ڈال دیںگے۔چنانچہ اس نے مضبوط دفاع کے باوجود عکرہ پر حملہ کردیا اور 8جولائی 1187ء کو عکرہ ایوبی افواج کے قبضے میں تھا۔اِس معرکے میں صلیبی انٹلیجنس کا سربراہ ہرمن بھی گرفتار ہوا، جسے فرار ہوتے ہوئے ایک کماندار نے گرفتار کیا تھا،گرفتاری کے وقت ہرمن نے کماندار کودولت کا لالچ دے کر فرار کرانے پیش کس کی تھی،مگر کماندار نے اْسے رد کر دیا۔ ہرمن کو جب سلطان صلاح الدین ابوبی کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے گرفتار کرنے والے کماندار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سلطان سے کہا’’سلطان معظم !اگر آپ کے تمام کماندار اِس کردار کے ہیں جو مجھے پکڑ کر لایا ہے تو میں آپ کو یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ کو بڑی سے بڑی فوج بھی یہاں سے نہیں نکال سکتی۔اس نے کہا،میری نظر انسانی فطرت کی کمزوریوں پر رہتی ہے،میں نے آپ کے خلاف یہی ہتھیار استعمال کیا۔میرا ماننا ہے کہ جب یہ کمزوریاں کسی جرنیل میں پیدا ہو جاتی ہیں یا پیدا کردی جاتی ہیں تو شکست اس کے ماتھے پر لکھ دی جاتی ہے ۔ میں نے آپ کے یہاں جتنے بھی غدار پیدا کیے۔ ان میں سب سے پہلے یہی کمزوریاں پیدا کیں۔ حکومت کرنے کا نشہ انسانوں کو لے ڈوبتا ہے۔

سلطان معظم!آپ کے جاسوسی کا نظام نہایت ہی کارگر ہے ۔آپ صحیح وقت اور صحیح مقام پر ضرب لگاتے ہیں۔مگر میں آپکو یہ بتا نا چاہتا ہوں کہ یہ صرف آپ کی زندگی تک ہے۔ہم نے آپ کے یہاں جو بیج بودیا ہے۔وہ ضائع نہیں ہوگا۔آپ چونکہ ایمان والے ہیں اِس لیے آپ نے بے دین عناصر کو دبا لیا۔لیکن ہم نے آپ کے امراء کے دلوں میں حکومت،دولت ،لذت اور عورت کا نشہ بھردیا ہے۔آپ کے جانشین اِس نشے کو اتار نہیں سکیں گے اور میرے جانشین اِس نشے کو تیز کرتے رہیں گے۔

سلطان معظم ! یہ جنگ جو ہم لڑرہے ہیں ،یہ میری اور آپ کی، یا ہمارے بادشاہوں کی اور آپ کی جنگ نہیں، یہ کلیسا اور کعبہ کی جنگ ہے۔جو ہمارے مرنے کے بعد بھی جاری رہے گی۔اب ہم میدان جنگ میں نہیں لڑیں گے۔ہم کوئی ملک فتح نہیں کریں گے۔ہم مسلمانوں کے دل و دماغ کو فتح کریں گے۔ہم مسلمانوں کے مذہبی عقائد کامحاصرہ کریں گے۔ہماری لڑکیاں،ہماری دولت،ہماری تہذیب کی کشش جسے آپ’’ بے حیائی ‘‘کہتے ہیں،اسلام کی دیواروں میں شگاف ڈالے گی۔پھر مسلمان اپنی تہذیب سے نفرت اور یورپ کے طور طریقوں سے محبت کریں گے۔سلطان معظم! وہ وقت آپ نہیں دیکھیں گے ،میں نہیں دیکھوں گا۔لیکن آنے والا زمانہ یہی سب کچھ دیکھے گا۔‘‘

سلطان صلاح الدین ایوبی،جرمن نژاد ہرمن کی باتیں بڑے غور سے سن رہا تھا،ہرمن کہہ رہا تھا:
’’سلطان معظم !آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے عرب کو کیوں میدان جنگ بنایا ؟ صرف اِس لیے کہ ساری دنیا کے مسلمان اس خطے کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے ہیں اور یہاں مسلمانوں کا کعبہ ہے۔ہم مسلمانوں کے اِس مرکز کو ختم کررہے ہیں۔آپ آج بیت المقدس کو ہمارے قبضے سے چھڑالیں گے ۔لیکن جب آپ دنیا سے اٹھ جائیں گے۔مسجد اقصیٰ پھر ہماری عبادت گاہ بن جائے گی۔میں جو پیشین گوئی کررہا ہوں ،یہ اپنی اور آپ کی قوم کی فطرت کو بڑی غور سے دیکھ کر کررہا ہوں۔ہم آپ کی قوم کو ریاستوں اور ملکوں میں تقسیم کرکے انہیں ایکدوسرے کا دشمن بنادیں گے اور فلسطین کا نام و نشان نہیں رہے گا۔یہودیوں نے آپ کی قوم کو عیاشیوں میں مبتلا کر دیا ہے۔اِن میں سے اب کوئی نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی پیدا نہیں ہوگا۔‘‘

یہ تھی وہ صلیبی ذہنیت جو کل بھی ملت اسلامیہ کی جڑوں کو چاٹ رہی تھی اور آج بھی یہ دیمک ہماری اساس و بنیاد کو کھوکھلا کررہی ہے۔یہ دونوں تاریخی واقعات ہمارے ماضی،حال اور آنے والے مستقبل کے بہترین عکاس اور کسی تبصرے کے محتاج نہیں ۔کیونکہ اِس میں ہماری موجودہ شکست و ریخت اور ذلت و رسوائی کے تمام اسباب و عوامل کی واضح نشاندہی موجود ہے۔

تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال قبل ’’فلپس آگسٹس ‘‘اور عیسائی جاسوس ’’ہرمن‘‘ نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے جن مذموم عزائم کا اظہار کیا تھا۔آج ملت اسلامیہ اس میں بری طرح گھری نظر آتی ہے،کلیسا اور کعبہ کی جنگ آج بھی جاری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جنگ کا لیبل اور ہتھیار بدل گئے ہیں،جس طرح کل پورا عالم کفر صلاح الدین ایوبی کے خلاف صف آراء تھا ، بالکل اسی طرح یہ آج پاکستان اور عالم اسلام کے خلاف متحد و منظم ہیں۔یہ صلیبی جنگوں کی وہ کہانی ہے جو کہ مرحلہ در مرحلہ ا ب بھی جاری ہے۔صلیبی حکمران ،عسکری سالار ، سپاہی اور کلیسا کسی مرحلے پر اِس جنگ کو نہیں بھولے۔ مگر افسوس ہم بھول گئے اور آج اسی بھول نے ہمیں تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ آج اسی بھول کی وجہ سے ہم ان کے مذموم مقاصد کو خود سچ کر رہے ہیں۔

دنیا میں ایسی مثال کہیں نہیں ملتی کہ اپنے ہی ملک کے شہریوں کو انجان کر دیا گیا ہو۔ ان کی شہریت منسوخ کر کے دربدر بھٹکنے پر مجبور کر دیا ہو۔ آہ ! یہ سوچ کس قدر گھناؤنی اور پلید ہے۔ کاش کوئی تو سمجھے۔ افسوس کہ وطن عزیز کے محبین کو یوں سر عام رسوا کرنے کی صلیبی ذہنیت آج بھی ہمارے یہاں موجود ہے جو سرعام یوں اپنوں کو کاٹ کھا رہی ہے۔یہ وہ ڈو مور کا تسلسل ہے جو حکومت طاغوت کے کہنے پر سر انجام دے رہی ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ اس کا ملک و قوم پر کیا اثر بڑے گا اور اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ملک پاکستان میں آج کس قدر امن کا دور دورہ ہے۔ یہ امن صلیبی ذہنوں کو کیسے بھا سکتا ہے۔ وہ تو پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ آپس میں لڑا کر مروانا چاہتے ہیں اور افسوس ہم ہی اس کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ بتائیے! ایسے افراد کا اب مستقبل کیا ہے؟ ان کی اور ان کے اہل خانہ کی شناخت کیا ہے؟ اور وہ کس حیثیت سے اب اس ملک میں اپنی روزمرہ کی زندگی جاری رکھ سکیں گے؟

سچ کہا ہے کسی نے کہ بد بختی کا مقابلہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن اپنی کوتاہیوں اور غلط کاریوں کا نہیں۔

************ 

Tuesday, November 1, 2016

اسلام میں لباس اور شرم و حیا کا تصور

اسلام میں لباس اور شرم و حیا کا تصور
اللہ رب العزت نے تمام نبی نوحِ انسان کو لباس پہننے کا حکم فرمایا اور لباس پہننے کیلئے کچھ بنیادی اصول بتائے لھذا لباس کے تعلق سے اِن اُصولوں کا خیال رکھنا ضروری ہے -

ارشاد باری تعالی ہے:’’اے آدم کی اولاد بیشک ہم نے تمہار ی طرف لباس اُتارا تاکہ تم سب شرم گاہوں کو چھپاؤ اور لباس سے آرائش زیبُ زینت حامل کرو اور پرہیز گاروں کا لباس بہتر ہے‘‘

تاریخ اس بات پر متّفق ہے کہ انسانی شعور نے ہوش میں آتے ہی سب سے پہلے شرم و حیا کے فطری تقاضے کی تکمیل اور عرُیانی کے احساس سے پریشان ہوکر جنگلیوں نے پتّوں سے اپنے شرمگاہوں کو چھپایا اور آج ترقّی یافتہ کہے جانے والے دور میں بھی ستر پوشی کی ضرورت پوری کرنے والی مختلف چیزوں کو شعور انسانی نے ًلباس ً کا نام وِیا۔یہی لباس اِنسانی زنذگی کی اہم ضرورت کیونکہ لباس کی بنیادی غرض یہ کہ جسم کی پردہ پوشی زیب و زینت کے ساتھ ساتھ موسمی اثرات (سردی گرمی) وغیرہ سے محفوظ رکھنا اور انسانی کھال و جسم کو ماحول کے تابو کاری کے اثرات و بیماری کے جراثیم کو دور رکھنا بھی ہے۔


امام رازی کے مطابق عمدہ لباس کے علاوہ زیب و زینت کی تمام اشیاء کو اس آیت میں داخل فرمایا ہے خواہ انکا تعلّق لباس کی نفاستِ جسم کی نضافت گھر کی صفائی و آرائش سے ہو بشرطِیکہ شریعت نے اُنھیں حرام نہ کیا ہو اور فضول خرچی نہ ہو سورہ اعراف کی آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیطان کے بہکاوے کا شکار ہونے پر حضرتِ آدم علیہ السلام اور حضرتِ حوّا کو اپنی عُریانی کا احساس ہوا اور وہ درختوں کے پتّوں سے اپنے ستر کو چھپانے لگے ۔
لباس کے بارے میں قرآن میں متعدد جگہ تفصیل کے ساتھ ذکر ملتاہے۔ لباس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ستر کے حصّوں کو چھپالے جو لباس اس مقصد کو پورا نہ کرے سرے سے وہ لباس ہی نہیں کیونکہ وہ لباس بنیادی مقصد پورا نہیں کر رہا ہے جس کے لئے وہ سلایا بنایا کیا ہے بیشک یہی لباس انسانی اور باقی تمام جانوروں میں فرق ظاہر کرنے کا پہلا اور آخر ذریعہ بھی ہے یہی وجہ ہے غیر مذہب جنگلی انسانوں نے جو غاروں جنگلوں میں رہا کرتے تھے وہ کپڑا میسر نہ ہونے کے باوجود و اپنے ستر کو ڈھاپنے کی کوشش میں مصروف رہتے تھے وہ بھی کپڑا نہ ملنے کے باوجود پتّوں سے اپنے ستر چھپائے رہتے تھے-

آجکل کا ننگا پہناوا موجود ہ دور کے فیشن نے لباس کے اصل مقصد کو مجروح کر دیا ہے آجکل مردوں عورتوں میں اپنے لبا س ر ائج ہیں جس میں اسکی کوئی پرواہ نہیں کہ جسم کا کونسا حصہ کھل رہا ہے اور کونسا ڈھکا ہوا ہے حا لانکہ اسلام میں ستر کا حکم یہ ہے کہ مرد کے سامنے مرد کیلئے ستر کھولنا جائز نہیں اور عورت کے سامنے عورت کیلئے ستر کھولنا جائز نہیں مثلاََ اگر کسی عورت نے ایسا لباس پہن لیا جس میں سینہ کھلا ہوا ہے بازو کھلے ہوئے ہیں تو اس عورت کو اس حالت میں دوسری عورتوں کے سامنے آنا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ اس حالت میں مردوں کو سامنے آئے اسلئے کہ یہ اعضاء اسکے ستر کے حصے ہیں-

آجکل شادی وغیرہ کی تقریبات میں دیکھئے کیا حال ہو رہا ہے۔ بے حیائی کے ساتھ ایسے لباس پہن کر مردوں کے سامنے عورتوں بے پردہ گھومتی پھرتی ہیں، اگر کوئی کہے تو کہا جاتا ہے سوچ بدلئے مذہب اسلام اس کی نفی کرتا ہے اور کہتا ہے کپڑے بدلئے سوچ بدل جائیگی۔

آجکل یہ جملے بہت کثرت سے سننے میں آتا ہے کہ صاحب اس ظاہری لباس میں کیا رکھا ہے، دل صاف ہونا چاہیئے مذہب سے دور اسلام بیزار زہینت لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں اور پھیلا رہے ہیں۔ نام نہاد نئی تہذیب کے دلدادہ لوگوں کا عجیب فلسفہ ہے کہ اگر عورت اپنے گھروں میں اپنے اپنے لئے شوہر کے لئے اپنے بچوں کے لئے کھانا تیّار کرے تو یہ و قیانوسی اولڈ ماڈل ہے اور اگر وہی عورت ہوائی جہاز میں ایر ہوسٹس بن کر انسانوں کی ہوش ناک نگاہوں کا نشانہ بنے اور لوگوں کی (خدمت) غلامی کرے تو اِسکا نام آزادی ہے اگر عورت گھر میں رہ کر اپنے ماں باپ بھائی بہن کیلئے خانہ داری کا نظم کرے تو کیا یہ ذلت ہے۔ دوکانوں پرسیلز گرل بن کر اپنی نازو ادا و مسکراہٹوں سے گا ہکوں کی توجہ اپنی طرف کرے یا دفتر میں باس کی ناز برداری کرے تو یہ آزادی اور اعزز ہے؟…

اﷲ انسانوں کو عر یا نیت (ننگا پن) کے سر سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام بنی نوح انسانی کو لفظ آدم کہکر آگاہ فرمایا کوئی مذہب کی قید نہیں۔اللہ تعالیٰ سورہ اعراف میں فرمارہے ہیں۔ ترجمہ: اے ادم کی اولاد خبردار تجھے شیطانی فتنے میں نہ ڈالدے جیسا تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا اور اُتر وادی اُن سے انکا لباس تاکہ نظر پڑے انھیں شرم کی چیزیں شیطان آج بھی تمام دیگر خرابیوں کے ساتھ ساتھ عُریانیت پھیلانے میں شب و روز مصروف ہے تاکہ انسان جس لباس کو اپنی بنیادی اور اہم ترین ضرورت سمجھتا ہے اس سے اس کو آزاد کر کے پھر سے جانوروں درندوں کی لباس کر دیا جائے۔ اﷲ انسانوں پر بے پناہ مہربان ہے بے حیائی سے دور رکھنے کیلئے قرآن مجید میں کئی جگہ بار بار اس قسم کے احکام جاری کئے جن میں شرم و حیاء کا دامن تھا منے کی تعلیم دی گئی سورہ انعام ، سورہ احزاب، سورہ الشوری ، سورہ توبہ ، سورہ العنکبوت، سورہ طلاق ، سورہ بنی اسرائیل
 ، بطور خاص اس حوالے سے قابل ذکر ہیں ہر وہ قول یا عمل سے بے حیائی یا بے شرمی کو فروغ ہو غلط ہے عریانی بے شرمی دیکھنے والوں کے حیوانی جذبات کو اُبھا ردیتے ہیں اور انسان مذہبی تمدّنی اخلاقی قدروں سے دور ہو جاتا ہے۔ حجۃ الاسلام حضرت اِمام غزالی فرماتے ہیں: شہوت تمام انسانی شہوات پر غالب ہے اورہیجان کے وقت سب سے زیادہ عقال کی نا فرمانی ہے اسکے نتائج ایسے بھیانک ہیں جن سے شرم آتی ہے اور اظہار سے خوف لگتا ہے-عریانی بے حیائی سے پیدہ شدہ جنسی اشتعال انسان کو زنا باالجبر، جنسی بے راہ روی، ناجائز تعلق اور ہم جنس پرستی جیسے سنگین اور گھناؤ نے جرائم پر مجبور کر تا ہے۔سورہ اعراف میں اﷲ پاک ارشاد فرماتا ہے ترجمہ: کہہ دو میرے پروردگارنے توبے حیائی کی باتوں کو خواہ وہ ظاہری ہوں یا پوشیدہ منع فرمایاہے اس سلسلے میں سورہ احزاب کی تلاوت اور مطالعہ بہت ضروری ہے جو مسلمان مرد اور عورت کی عزت و احترام تحفظ اور پاکیزگی کو مستقل طور پر حفاظت میں رہے پردے کی پاکیزگی کو اپنانے بے حیائی کو بچنے کی تعلیم دیتا ہے، اسلامی تعلیمات کا مطالعہ اور اسکا ابلاغ اور عمل انشاء اﷲہمارے ماحول کو اور معاشرے کو بے حیائی عریانی کی لعنت سے پاک رکھے گا اور بے پناہ فائدے کا سبب بنے گا

*************

Saturday, October 29, 2016

Peace is the goal of Humans

Peace is the goal of Humans

The ultimate goal of humans in this world is to secure a peaceful human society so that a peaceful family can protect the interests of a peaceful individual for achieving his or her true potential in deliberating on the purpose of this life and preparing for a life that is eternal in every sense of the term. The unity of humanity, the dignity, the justice and the universality of human resources pave the path for peace. They liberate humans from the mundane and profane and take them to the realm of sublime and sacred. They ensure that that human beings reconcile between their greed and their need.

Defining the purpose of his guidance the Quran says that “through which God shows unto all that seek His goodly acceptance the paths leading to peace and, by His grace, brings them out of the depths of darkness into the light and guides them onto a straight way. (Quran 5:16)

The Quran repeats the message several times that the purpose of human efforts is to enable humans to dwell in an abode of peace, “theirs shall be an abode of peace with their Sustainer; and He shall be near unto them in result of what they have been doing.” (Quran 6:127) and explains “And [know that] God invites [man] unto the abode of peace, and guides him that wills [to be guided] onto a straight way.” (Quran 10:25)

Thus, the message of the Quran is universal and eternal. The divine sets the standards through messages delivered to human beings. It was left to individuals to seek the path of unity, dignity, universality, justice and peace not the path to argue with each who is better than the other or who would qualify for the grace of God and who would not. Let the world not deprive itself of the benefits of the divine guidance because of the sectarian, myopic and often arrogant behavior on the part of some Muslim groups. Let the world make use of these values that are universal and would help everyone. Muslims should also not shy away from joining those who work for these values even if their proponents happen to be those who profess other faiths or no faith.
                                                                  **********

 
| Bloggerized by - Premium Blogger Themes |