Ads

Showing posts with label FCR. Show all posts
Showing posts with label FCR. Show all posts

Monday, January 9, 2017

اور رواج کا ڈھکوسلہ FCR

    اور رواج کا ڈھکوسلہ FCR 

جب بھی فاٹا کی انتظامی حیثیت کے تعین کا مرحلہ آتا ہے تو فاٹا کی جعلی قیادت، مخصوص فرمائشی قلمکار اور مفاداتی ٹولہ سب مل کر مختلف اطراف سے دو طرح کا ڈھول پیٹنا شروع کردیتے ہیں اول یہ کہ "ایف سی آر میں ہمارے رواج اور جرگے کا تحفظ ہے، اس کے خاتمے کا مقصد، ہماری ثقافت، رواج اور جرگے کاخاتمہ ہے"، دوئم عدالتی نظام اور تھانہ کچہری کی چمڑی میں ہوا بھرکر آئین پاکستان سے عام قبائلی کو ڈرایا جاتا ہے نتیجتا عام قبائلی تذبذب کا شکار ہے اور جعلی قیادت خودساختہ ترجمان قبائل بن کرخوب مفادات بٹوررہے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام مثالی نہیں رہا اور نہ ہے، تاہم FCR اور آئین پاکستان کے افتراق کا راز ثقافتی جڑوں میں پنہاں ہے،یہ حقیقت ریکارڈ پر رہے کہ پاکستان کے جن علاقوں میں ثقافتی جڑیں مضبوط ہیں وہاں تھانہ، کچہری اور عدالت سے عوام کا رجوع بلکل نہ ہونے کے برابر ہے، مثلاسندھی قبائل تالپور،سومرو،شیرلانی گبول،مجوکہ، پلیجو‘ زرداری‘ ابڑواور بھٹووغیرہ،بلوچ قبائل جکھرانی، بزنجو، بگٹی، رئیسانی،رند،کورائی،مری،مینگل‘ بادینی، جمالدینی،پرکانی،لہڑی،لغاری،محمد حسنی،کرد،نوتکانی یا نتکانی،چنگواني وغیرہ اور بلوچستان کے پشتون قبائل کاکڑ‘خلجی‘غوری‘اچکزئی، گلزائی، ترین،مندوخیل،شیرانی اور لیونی وغیرہ حتیٰ کہ سرائیکی قبائل یعنی آرائیں، احمدنی، میانہ، میو، چدھڑ وغیرہ تک اپنے فیصلے جرگوں کے ذریعے کرتے ہیں،بلوچ اور سندھی قبائل کے جرگوں کی ثقافتی جڑوں، انکی Implementation کا تفصیلی ذکرمصنف ڈیمز کی کتاب “دی بلوچ ریس” اور مصنف گینکووسکی کتاب “پیپل آف پاکستان” میں درج ہے۔

سندھ اور بلوچستان کے جرگے اپنے رواج کے عین مطابق بعینہی فاٹا کے جرگوں کی طرح کام کرتے ہیں،مذکورہ صوبوں میں جرگوں کی مضبوطی کا یہ عالم ہے کہ سرکاری ریسٹ ہاؤسوں میں باوجود سپریم کورٹ کی طرف سے پابندی کے متواتر جرگے جاری رہتے ہیں، جن میں متحارب قبیلوں کے وہ افراد جنہوں نے درجنوں قتل کئے ہوتے ہیں مونچھیں مروڑتے ہوئے شریک ہوتے ہیں، قتل کے عوض قتل اور لاکھوں کروڑوں روپوں کے جرمانے مقرر کئے جاتے ہیں، فیصلہ کنندگان وڈیروں اور سرداروں اور اوطاقوں کے خرچ کی بھاری رقوم بخوشی دی جاتی ہیں، پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسر (آئین پاکستان کے لاگو کنندہ ذمہ دار افسران ہونے کے باوجود) علاقائی ثقافت کی مضبوطی کی بناء پر نہ صرف بطور جرگہ ممبر شریک ہوتے ہیں، بلکہ جرگہ کے فیصلوں کا احترام، توثیق اور لاگو کرنے کیلئے علاقائی سرپنچوں اور مشران کی مدد کرتے ہیں۔ یعنی جرگے کا تحفظ ایک مضبوط ریاستی ادارہ "پولیس" کرتی ہے۔ یہی حال چترال اور گلگت بلتستان کا ہے، جہاں مختلف اقوام حتی کہ مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں ،یعنی خوشے،کالاش،رئیسے،بایکے،ڈنزے،حاتم بیگے،رضے،دشمنے وغیرہ،تاہم انکے فیصلے آج بھی جرگوں کے ذریعے ہورہے ہیں، وجہ صرف اور صرف ثقافتی جڑوں کی مضبوطی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان کے دیگرعلاقوں میں رواج اور آئین پاکستان اکھٹے چل سکتے ہیں، تو فاٹا میں کیوں
 نہیں؟

کیا بندوبستی علاقوں کے کاکڑ‘خلجی‘غوری‘اچکزئی، گلزائی، ترین،مندوخیل اور شیرانی قبائل کا رواج فاٹا کے پشتونوں سے مختلف ہے؟
**************

Sunday, October 30, 2016

Frontier Crimes Regulations (FCR)

قبائیلی علاقوں میں نافظ قانون ایف سی آر
ایف سی آر کا تاریخی پس منظر

فاٹا کوتاج برطانیہ نے روس اور متحدہ ہندوستان کے درمیان نہ صرف بفرزون بنایا بلکہ بفرزون کے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال بھی کیا ۔ انگریزوں نے فاٹا میں جتنے ترقیاتی کام کئے وہ سارے فوجی نقطۂ نظر سے تھے۔ انھوں نے فاٹا کا انتظام اس قدر محتاط سمجھ بوجھ سے چلایا کہ انتظام میں جزئیات تک کا بھی خیال رکھا۔برطانوی حکومت نے فاٹا میں جتنے بھی فوجی آفسر بھیجے ان کے لئے پشتو سکھانے کا انتظام کیا، انتظامی افسر بھی وہ بھیجے گئے جن کی نہ صرف انتظامی صلاحیت مثالی تھی بلکہ ان کو فاٹا میں تعینات کرنے سے پہلے علاقائی رسم و رواج سے سرکاری کورس کی صورت واقف کرایا گیا ہوتا تھا۔

وقت نے پلٹا کھایا اور پاکستان کے نام سے مسلمانوں کی ایک نئی ریاست دنیا کے نقشے پر ابھرنے لگی، مگر نوزائیدہ ریاست کا "فاٹا" نامی وسیع علاقہ نظر انداز ہوتا چلا گیا۔ پاکستانی حکومت بذریعہ گورنر، پولیٹیکل ایجنٹ اور مراعات یافتہ ملکان کے ڈھیلے ڈھالے نظام کے اس علاقے کو براہِ راست اپنی نگرانی میں چلاتی رہی۔ پولیٹیکل ایجنٹ اگر کسی کو سزا دیتا تھا تو بعض صورتوں میں ملزم کو اپیل تک کا حق حاصل نہیں تھا اور سزا پانے والا مجرم ضروری نہیں تھا کہ جرم کے ارتکاب میں ہی سزا پائے۔

ایف سی آر کی 21-سی شق (اجتماعی ذمہ داری) کے تحت بھائی کی جگہ باپ، چچا یا اسی قبیلے کا کوئی اور فرد یا ایک سے زیادہ افراد بھی سزا پا سکتے تھے۔چھوٹے چھوٹے جرائم پر لوگوں کو لمبی سزائیں سنائی جاتی تھیں اور ہیں۔یہ سب برطانوی عہد کے ایف سی آر نامی استبدانہ قانون کے تحت ہوتا رہا جس کے بنانے کا مقصد نہ صرف پشتون اور بلوچ قبائلی جبلت کو قابو میں رکھنا تھا بلکہ اسکا اصل مقصدبرطانوی نوآبادیاتی نظام کے قیام کا دوام تھا، دوئم یہ قانون" بلیو بک" کے تحت بنایا گیا تھا، جس کے قوانین نہ صرف برصغیر بلکہ تاج برطانیہ کے زیرکردہ 68 ممالک میں نافذ تھے۔

***************

Blue Book - FCR

قبائیلی علاقوں میں نافظ قانون ایف سی آر اور بلیو بُک

 بلیو بُک کا تاریخی پس منظر

ا"بلیو بک"  دراصل ملکہ وکٹوریہ کے وضع کردہ پروٹوکولز کے اس مجموعے کا نام تھا جس نے انسان کو اسٹیٹس کی لاتعداد ٹکٹکیوں پر لٹکا دیا تھا، بادشاہ اور ملکہ سے پروٹوکول شروع ہوتا تھا اور وائسرائے تک آتا تھا اور وائسرائے سے اس کی کونسل کے ارکان تک جاتا تھا، وہاں سے سر کے خطاب حاصل کرنے والے لوگوں تک آتا تھا اور وہاں سے ہوتے ہوئے سفید پوشوں اور کرسی نشینوں تک جاتا تھا، ملکہ نے وی آئی پی اور وی وی آئی پی کی باقاعدہ کیٹگریز بنوائی تھیں اور اس کی پوری سلطنت میں لوگوں کو ان کیٹگریز کے تحت سرکاری پروٹوکول دیا جاتا تھا،انگریز دور میں تحصیل کی سطح پر کرسی نشین اور سفید پوش دو اعزازی عہدے ہوتے تھے۔کرسی نشین کا ٹائیٹل گاؤں کے اس شخص کو ملتا تھا جو انگریز کو گھوڑے،فوجی اور مخبری دیتا تھا، کرسی نشین کو سرکاری دفاتر میں سرکاری افسروں کے سامنے کرسی پر بیٹھنے کی اجازت ہوتی تھی جب کہ باقی لوگ زمین پر بیٹھتے تھے یا زیادہ سے زیادہ افسر کے سامنے کھڑے ہو سکتے تھے جب کہ سفید پوش وہ معزز لوگ ہوتے تھے جنھیں سرکار ان کی وفاداریوں سے خوش ہو کر ہر سال سفید رنگ کے دو جوڑے عنایت کرتی تھی اور یہ لوگ یہ کپڑے پہن کر سرکاری دفتروں میں جاتے تھے،سرکاری پروٹوکول سفید پوشوں اور کرسی نشینوں سے شروع ہوتا تھا اور ملکہ تک جاتا تھا،اس دور میں سرکار لمبڑ دار، کانسٹیبل اور پٹواری سے شروع ہوتی تھی اور وائسرائے تک جاتی تھی اور یہ وائسرائے ملکہ کے گورے غلام ہوتے تھے، اورپولیٹکل ایجنٹ وائسرے کے ماتحتی میں کام کرتے تھے۔ان لوگوں کو کیا کیا پروٹوکول حاصل تھا یہ سب معلومات"بلیو بک" نام کےصحیفہ نما مذکورہ سرکاری ڈائری میں درج ہوتی تھیں،بندوبستی علاقوں میں یہ بلیو بک ڈپٹی کمشنر کے قبضے میں رہتی تھی، اور فاٹا میں پولیٹکل ایجنٹ کے پاس، مذکورہ افسران اس کتابچے کو سرکاری تجوری میں رکھتے تھے، ان کے علاوہ کوئی شخص اس ڈائری کو ہاتھ نہیں لگا سکتا تھا،سرکاری طور پر مذکورہ افسران تبادلے کے بعد اس وقت تک چارج نہیں چھوڑ سکتے تھے جب تک وہ بلیو بک نئےڈپٹی کمشنر یا پولیٹکل ایجنٹ کے حوالے نہیں کر دیتے تھے۔

برطانیہ کے سرکاری دستاویزات میں آ ج بھی بلیو بک کےپروٹوکولز اور اختیارات پر شرمندگی کا اظہار موجود ہے، تاج برطانیہ کے زوال کے بعد، حکومت برطانیہ کے اولین چار بڑے فیصلوں میں بلیو بک کے خاتمے کا فیصلہ بھی شامل تھا، برطانیہ نے نہ صرف عام لوگوں کے درجے ختم کئے بلکہ برطانوی شاہی خاندان تک کے پروٹوکول کو ختم کردیا،آج بھی شاہی خاندان موجود ہے مگر اسکی شہنشایت صرف اپنے محل تک محدود ہے۔
تاہم فاٹا آج بھی بلیو بک کے تحت بنائے گئے لارڈ کرزن کے ایف سی آرنامی استبدانہ قانون کے تحت سانسیں لے رہا ہے،سفید پوشوں، ملکان، کرسی نشینوں اور مخبروں کے مراعات من وعن رائج بلکہ بڑھ چکے ہیں، مذکورہ طبقات سے اگر آگے دیکھا جائے تو فاٹا کی حالت یہ ہے کہ ریاست کے تین اداروں میں سے فاٹا میں صرف انتظامیہ کام کر رہی ہے مقننہ اور عدلیہ نہیں ہے، اپیل کورٹس موجود ہیں مگر ان میں ججوں کی بجائے انتظامی افسر بیٹھے ہیں جو اصولی واخلاقی تو کیا قانونی طور پر بھی جج یا عدلیہ کے متبادل کام کرنے کے مجاز نہیں، اپیل کورٹس کی آئینی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مذکورہ کورٹس ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی نگرانی سے باہر ہیں۔
ایف سی آر کے تحت پولیٹکل ایجنٹ کو وسیع اختیارات حاصل ہیں، پولیٹکل ایجنٹ مستغیث یعنی شکایت کنندہ بھی ہے اورجج بھی ،خاصہ دار فورسز (پولیس)کا چیف بھی ہےاورجیلر بھی،العرض علاقے کی حاکمیت فردواحد کے ہاتھ میں ہے۔ایجنسی کے پولیٹیکل ویلفیئر فنڈ (اے پی ڈبلیو ایف) کے معاملے میں پولیٹیکل ایجنٹ کو وسیع صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں، نیز فاٹا میں آنے والے لاکھوں روپے کی مالیت کے سامان پر وصول کیے گئے محصول کے گوشواروں کےحساب کتاب کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں۔
دوسری طرف آئین کے آرٹیکل (1) کے تحت فاٹا ریاست پاکستان کا حصہ ہے لیکن تضاد یہ ہے کہ آئین ہی کے آرٹیکل (247) کی رو سے فاٹا کوپارلیمنٹ کی دائرہ اختیارسے باہر قرار دیتے ہوئے فرد واحد یعنی صدر مملکت کو اس کا مجازی خدا بنایا گیا ہے۔آئین کے اس آرٹیکل کے تحت صدرِ مملکت صوبہ خیبر پختونخواہ کے گورنر کے توسط سے فاٹا کے معاملات کو چلاتا ہے،اس خلاء کو چاہے آپ ذیادتی قرار دیں، تعصب یا ریاستی غیرذمہ داری تاہم یہ سراسر جمہوری قدروں کی مکمل طورپر نفی کے مترداف ہے۔
لہذا وقت آگیا ہے کہ فاٹا کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے، چار حروف پر مشتمل لفظ "فاٹا" کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے، جس میں لفظ "ایڈمنسٹرڈ " کا مطلب "راج" یا "حکمرانی" ہے، اور یہ "گورن"یعنی ’’آئینی طریقے سے حکومت کرنے سے متصادم ہے کیونکہ جمہوریت کی رو سے حکومت عوام پر عوام کی طرف سے عوام کے لئے ہوتی ہے،لیکن فاٹا میں رائج طرز حکومت مطلق العنالی یا آمریت کی بدترین مثال ہے۔ ملک کی آزادی کے 60 سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود ایف سی آر نامی یہ قانون ابھی بھی اپنے اصلی شکل میں قائم اور دائم ہے،میرے خیال میں ایک جمہوری ملک میں اس قانون کی موجودگی مکمل طور پر ناقابل فہم اور مضحکہ خیز ہے۔  
**************

 
| Bloggerized by - Premium Blogger Themes |